پاکستان میں اضافی توانائی موجود ہے: وزیر اعظم

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2017

ای میل

کراچی: وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 4 سال کی قلیل مدت میں پاکستان میں توانائی کے شعبے میں بہتری آئی ہے جبکہ 2013 میں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت کا آغاز ہوا تھا تو اس وقت قوم کو یومیہ 16 گھنٹے طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا تھا۔

کراچی میں پورٹ قاسم پر 1320 میگا واٹ (660x2 میگاواٹ) کے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کے پہلے یونٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا دوسرا بڑا منصوبہ ہے۔

اس موقع پر گورنر سندھ محمد زبیر، وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ میر حاصل بزنجو، وفاقی وزیر بجلی و توانائی اویس احمد خان لغاری، پاکستان میں چینی سفارت کار، کور کمانڈر کراچی اور ڈی جی رینجرز بھی موجود تھے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ 30 ماہ کی قلیل مدت میں 2 ارب 80 کروڑ ڈالر کی لاگت سے بننے والے پاور پلانٹ کی تکمیل پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی لمیٹڈ اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفرا اسٹرکچر بورڈ کا بڑا کارنامہ ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کے پہلے ایل این جی پاور پلانٹ کا افتتاح

انہوں نے کہا کہ یہ پلانٹ پاک چین دوستی کی علامت ہے جبکہ سی پیک اور قطر کی المرکب کیپیٹل کے درمیان اہم سنگ میل ہے۔

وزیراعظم نے منصوبے کے لیے قطر کی المرکب کیپیٹل کے چیئرمین شیخ جاسم بن حماد بن جاسم بن جابر الثانی کے تعاون اور مالی مدد کی تعریف کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کوئلے سے چلنے والا پاور پلانٹ ماحول دوست ہے جو اس وقت ملک میں سب سے سستی بجلی پیدا کر رہا ہے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سابقہ حکومتیں مختلف منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے میں ناکام رہیں لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2013 سے اقتدار میں آنے کے بعد متعدد میگا پروجیکٹ مکمل کیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب سابق وزیراعظم نواز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت اور نظریہ کے تحت ہی ممکن ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کے چیئرمین شینگ یومنگ نے انہیں بتایا کہ کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کا دوسرا یونٹ آئندہ برس فروری سے بجلی کی پیداوار شروع کردے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ 1999 میں پاکستان بجلی میں اضافی پیداوار کررہا تھا اور پڑوسی ممالک کو بجلی برآمد کرنے کی پلاننگ کر رہا تھا لیکن 2013 تک توانائی کی کمی کے نتیجے میں بجلی کی طویل بندش ہونے لگی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے چشمہ-4 پاور پلانٹ کا افتتاح کردیا

انہوں نے کہا کہ 400 میگاواٹ نندی پور پاور پلانٹ کی تکمیل میں طویل تاخیر کی وجہ سے اخراجات میں اضافہ اور ملک کو متاثر کیا گیا تھا لیکن یہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی جس نے اس منصوبے کو منظم اور مکمل کیا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نہ صرف توانائی میں اضافے پر کام کررہی ہے بلکہ سولر، ونڈ پاور اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) جیسے دیگر ذرائع بھی تلاش کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ گیس کی قلت کو پورا کرنے کے لیے دو ایل این جی ٹرمنلز نے کام شروع کردیا ہے جبکہ 3 منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں، اس کے علاوہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے پہلے ہی بجلی کے ٹیرف میں 2 روپے فی یونٹ کمی کردی ہے جو حکومت کا صارفین کے مفادات کی حفاظت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ صوبوں کی جانب سے بھی پاور پلانٹس پر کام شروع کیا گیا ہے، جس میں پنجاب میں 3600 میگا واٹ جبکہ سندھ کی جانب سے 1200 میگا واٹ شامل ہیں، اس کے علاوہ وفاقی حکومت بھی 2000 میگا واٹ کے پاور پلانٹس شروع کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: چین کی مدد سے پاکستان میں کول پاور پلانٹس کی تعمیر

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلی بار تھر کول ڈویلپمنٹ حقیقت بن گئی ہے اور یہ تب ہی ممکن ہوا جب حکومت بیوکریٹ رکاوٹوں اور مفادات کو شکست دینے میں کامیاب ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ صنعتی ترقی کے لیے درکار انفرااسٹرکچر ہنگامی بنیادوں پر تیار کیا جارہا ہے جس سے ملک میں ملازمت کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔


یہ خبر 30 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی