سرگودھا: اس وقت صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی انتظامیہ کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا جب سیال شریف درگاہ کے پیر حمید الدین سیالوی نے صوبائی وزیر قانون کو ان کے عہدے سے برطرف نہ کیے جانے پر دوبارہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے راستے جدا کرنے کا اعلان کردیا۔

واضح رہے کہ پیر سیالوی سرگودھا ڈویژن کے ایک درجن سے زائد قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان پر اپنا اثر رکھتے ہیں۔

گزشتہ روز خود کو پارٹی سے الگ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹی وی ٹاک شو میں مبینہ طور پر مذہبی اقلیت کی حمایت میں دیئے گئے بیان پر رانا ثناء اللہ کو ہٹانے کے مطالبے پر عمل نہیں کیا گیا۔

میڈیا سے گفتگو میں پیر سیالوی نے کہا کہ سیال شریف درگاہ سے روحانی طور پر منسلک رہنے والے 15 ارکان پارلیمنٹ 10 دسمبر کو فیصل آباد میں منعقدہ عوامی جلسے میں اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف کی مداخلت پر رانا ثنا اللہ کے استعفے کا معاملہ موخر

انہوں نے خبردار کیا کہ یہ جلسہ مسلم لیگ (ن) کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کے اعلان کا باعث کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب اور دیگر علاقوں کے مزاروں سے منسلک سیاسی شخصیات انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف حصہ لیں گے۔

خیال رہے کہ سیال شریف کے سجادہ نشین کی جانب سے یہ اعلان وزیر اعلیٰ اور پیر سیالوی کے درمیان کچھ روز قبل ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آیا، مذاکرت کے مطابق شہباز شریف نے اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ سیال شریف کا جلد دورہ کریں گے اور رانا ثناء اللہ کے معاملے پر موقف واضح کریں گے۔

اس سے قبل بھی پنجاب کے وزیر برائے مذہبی امور زعیم قادری اور قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ملک وارث کلو نے پیر سیالوی کو یقین دہانی کرائی تھی کہ رانا ثناء اللہ ان کے سامنے پیش ہوں کر اپنے بیان پر وضاحت دیں گے اور وزارت کے عہدے سے مستعفیٰ بھی ہوں گے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تھے۔


یہ خبر 07 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی