سعودی عرب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیئے جانے پر شدید مذمت کرتے ہوئے فیصلے کو ‘ناجائز اور غیرذمہ دارانہ’ عمل قرار دے دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ 7 دہائیوں سے امریکا، اسرائیل کے دارالحکومت سے متعلق فیصلے پر تذبذب کا شکار تھا جس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیصلہ سنا دیا۔

دوسری جانب ٹرمپ کے حکم نامے نے دنیا بھر میں سفارتی ہیجان پیدا کردیا اور مشرق وسطیٰ میں جنگ و جدل کی نئی لہر کا خوف بڑھ رہا ہے۔

ٹرمپ نے تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس میں منتقل کرنے کے احکامات بھی جاری کردیئے ہیں۔

یہ پڑھیں: پاکستان کی بیت المقدس کے حوالے سے ممکنہ امریکی فیصلے کی مخالفت

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے حکام کے حوالے سے کہا کہ ‘ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے پر ریاست کو بہت افسوس ہوا‘۔

شاہی فرمان میں کہا گیا کہ امریکی فیصلہ فلسطینیوں کے تاریخی اور بنیادی حقوق کے منافی ہیں، اس لیے ٹرمپ کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

شاہی فرمان کے مطابق ‘مذکورہ فیصلہ مقبوضہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکی غیر جانبداری کے اعلانات کی خلاف ورزی ہے اور امن و امان کے عمل میں مشکلات کا باعث ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں : 'ایران بیت المقدس کے حوالے سے امریکی فیصلے کو برداشت نہیں کرے گا'

سعودی عرب نے ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا کہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینا ‘خطرناک اقدام‘ ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر کے مسلمانوں میں غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔

عالمی ردعمل

ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے پر دنیا بھر کے رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے۔

العربیہ اخبار نے وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان شائع کیا، جس میں متحدہ عرب امارات نے امریکی فیصلے کی مذمت کی گئی۔

جاری بیان میں وزرات خارجہ نے ٹرمپ کے فیصلے پر تشویش کا ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ فیصلہ خطے میں عدم استحکام کا باعث بنے گا اور عرب سمیت مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکا دے گا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ ‘یہ اقدام جان بوجھ کر امن کی تمام تر کوششوں کو کمزور کرنے کے لیے اٹھایا گیا جو ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے۔

مزید پڑھیں: بیت المقدس سے متعلق اسرائیل کے خلاف قرار داد پر ووٹنگ

اردن اور ترکی نے بھی امریکا کے اقدام کو بین الااقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کے منفی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کا عمل غیرذمہ دارانہ اور ناجائز ہے۔

برطانیہ ، فرانس اور اٹلی سمیت 8 ممالک نے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جو جمعہ کو منعقد ہوگا۔

برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے کہا کہ برطانیہ ٹرمپ کے فیصلے سے متفق نہیں جو امن کوششوں کے لیے خطرہ ہے۔