لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے سرحدی گاؤں میں بھارتی فورسز کی جانب سے جنازہ کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور بزرگ خاتون زخمی ہوگئیں۔

عباس پور پولیس کے عہدیدار انجم سلیم نے ڈان کو بتایا کہ بھارتی فوج کی جانب سے فائرنگ و گولہ باری ضلع پونچھ کے عباس پور سیکٹر کے گاؤں پولاس کاکوٹہ میں اس وقت کی گئی، جب مقامی افراد ایک شخص کی تدفین میں مصروف تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’بھارتی فوج نے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی جس میں اس نے مقامی گراؤنڈ میں تدفین کرنے والوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوئے۔‘

عباس پور میں وکیل افضل کیانی نے ڈان کو بتایا کہ مقامی افراد نے ابھی میت کو قبر میں اتارا ہی تھا کہ شیلنگ شروع ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: ایل او سی: بھارت کی بلااشتعال فائرنگ سےبزرگ خاتون جاں بحق

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں نے درختوں کے پیچھے پناہ لینے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود 2 افراد مارٹر گولے کے اسپلنٹرز لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔‘

جاں بحق ہونے والوں کی شناخت محمد اقبال کیانی اور ان کے کزن شوکت کیانی کے ناموں سے ہوئی، جو قریبی گاؤں ’شافر‘ کے رہائشی تھے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ شوکت کیانی نام کمیشنڈ افسر (صوبیدار) تھے جو چھٹیاں گزارنے اپنے گھر آئے تھے۔

ان کی لاش کو ضابطے کی کارروائی کے لیے عباس پور کے تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال (ٹی ایچ کیو) منتقل کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ایل او سی: بھارتی فوج کی فائرنگ سے 2 بچے جاں بحق، 3 زخمی

بھارتی فوج کی شیلنگ سے شافر گاؤں میں اپنے گھر کے باہر روز مرہ کا کام کرنے والی 65 سالہ بیوہ حَسیرا بیگم زخمی ہوئیں، جنہیں ’ٹی ایچ کیو‘ منتقل کیا گیا، تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

ریاستی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر سعید قریشی نے کہا کہ تازہ واقعے کے بعد رواں سال بھارتی شیلنگ سے جاں بحق شہریوں کی تعداد 46 ہوچکی ہے، جبکہ 257 افراد زخمی ہوئے۔

بعد ازاں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی اشتعال انگیزی کا پاک فوج نے بھرپور جواب دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ جوابی کارروائی میں بھارتی فوج کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ایک بھارتی فوجی ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔