یمن: اتحادی فوج کی فضائی کارروائی، حوثی رہنما سمیت 26 ہلاک

اپ ڈیٹ 11 دسمبر 2017

ای میل

عدن/دبئی: یمن کے حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحادی افواج کی جانب سے یمنی باغیوں کے زیر اثر ملک کے شمال مغربی کیمپ پر کی گئی فضائی کارروائی میں 26 حوثی باغی ہلاک ہوگئے

ڈان اخبار نے غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ حوثی باغیوں کے قریب ذرائع کے مطابق فضائی حملے میں کیمپ کے سربراہ عامر الجراب بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جنگی ساز و سامان کا گودام بھی مکمل تباہ ہوگیا۔

مقامی عہدیداروں اور طبی ذرائع نے بتایا کہ یمن کی حکومت نے شدید لڑائی کے بعد حوثی باغیوں سے ریڈ سی کا مضافاتی علاقی خالی کرالیا، جس کے بعد صعدہ اور الجوف کو ملانے والی سپلائی لائن پر حکومتی فورسز کا کنٹرول قائم ہوگیا۔

یہ پڑھیں:یمن: فضائی کارروائی میں 24 شہری ہلاک

رپورٹ کے مطابق شہریوں نے بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے گذشتہ روز راکٹ کے فائر کیے گئے تھے جس کی زد میں آکر کر 6 سالہ لڑکی اور 5 شہری زخمی ہوئے۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق یمن کی خانہ جنگی میں گزشتہ دو برس کے دوران 8 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ نے یمن میں جاری جنگ کو 'دنیا میں ایک بڑا انسانی بحران' قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ 17 لاکھ افراد میں قحط پھیلنے کا شدید خطرہ موجود ہے۔

علی عبداللہ صالح کی تدفین

یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی صرف چند رشتے داروں کی موجودگی میں تدفین کردی گئی۔

واضح رہے کہ حوثی باغیوں کے ہاتھوں سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی ہلاکت کے بعد یمن میں جاری خانہ جنگی میں مزید شدت آ گئی ہے۔

علی عبداللہ صالح نے یمن پر تین دہائیوں سے زائد عرصے تک حکمرانی کی اور انہیں یمن میں خانہ جنگی کا مرکزی کردار مانا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ حوثیوں کے ٹی وی چینل ’مَسیرَح‘ نے گذشتہ ہفتے علی عبداللہ صالح کو ’غداروں کا رہنما‘ قرار دیتے ہوئے ان کی ہلاکت کا اعلان کیا تھا، جو گزشتہ ہفتے تک باغیوں کے ساتھ کمزور اتحاد میں شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوامِ متحدہ کی قرارداد پرعمل کیا جائے، علی عبداللہ کا مطالبہ

جنرل پبلک کانگرس (جی پی سی) ذرائع نے بتایا کہ علی عبداللہ صالح کو 10 سے کم رشتے داروں کی موجودگی میں رات کے وقت دارالحکومت صنعاء میں دفن کیا گیا تاہم جی پی سی نے جگہ سے متعلق معلومات دینے سے گریز کیا۔

علی عبداللہ صالح کے ساتھ ہی جاں بحق ہونے والے جی پی سی کے جنرل سیکریٹری عیرف الزوقا کی تدفین ان کے آبائی گاؤں میں کی گئی جبکہ حوثی باغیوں نے ان کی لاش مقامی قبائلی لیڈرز کے حوالے کی تھی۔

واضح رہے کہ حوثی باغیوں کا طاقتور سابق صدر کے ساتھ اتحاد، علی عبداللہ صالح کی جانب سے باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کا حصہ بننے کے بعد کمزور ہوچکا تھا۔

مزید پڑھیں: یمن: حوثیوں کا سابق صدر علی عبداللہ صالح کی ہلاکت کا دعویٰ

علی عبداللہ صالح 2011 میں جبراً مستعفی ہونے کے بعد ملک میں رہے اور ملکی سیاست میں پس پردہ کردار ادا کرتے رہے۔

2014 میں ان کی فورسز نے اس حقیقت کے باوجود حوثیوں کے ساتھ اتحاد کیا کہ بطور صدر علی عبداللہ صالح ایک سے زائد مرتبہ حوثیوں سے جنگ کرچکے تھے۔

باغیوں کا اتحاد گزشتہ ہفتے ٹوٹ گیا تھا جس کے بعد حوثیوں اور علی عبداللہ صالح کی فورسز کے درمیان متعدد مرتبہ جھڑپیں ہوئیں۔


یہ خبر 11 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی