دلتوں، مسلمانوں اور عیسائیوں سے مُکت ہندوستان

نئے ہندوستان میں مذہبی منافرت کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ یہ زعفرانی حلقوں میں فیشن ایبل ہے اور متوسط طبقے میں عام ہے۔ اس پر عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان ایک ہندو ملک ہے اور اکثریت کو اس بات پر اب شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
کھلے عام نفرت اب حکمران ہندو دائیں بازو کی جماعت بی جے پی کا عقیدہ ہے، جس کے مرکزی چہرے، مثلاً اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ ادتیاناتھ، کھلے عام سیکیولرازم کی مخالفت کرتے ہیں اور آزاد ہندوستان میں اس تصور کو لانے والوں کے لیے سزائیں چاہتے ہیں۔
نفرت کی بناء پر جرائم بھی نئے ہندوستان میں 'ٹھیک' ہیں۔ وہ جرائم جو مسلمانوں کے خلاف ان کے لباس، ان کے کھانے، ان کے کام، اور ان کی ظاہری شناخت کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ کبھی کبھی ہدف دلت بھی بنتے ہیں (جنہیں ذات پات میں الجھے ہندو اچھوت مانتے ہیں) جیسے یہودیوں کے بعد نازیوں کا دوسرا ہدف روما جپسی تھے۔
مویشیوں کے مسلمان بیوپاریوں اور ڈیری سے منسلک افراد کو گائے کی حفاظت کے نام پر قتل کرنا عام ہے، وہ بھی دن دیہاڑے۔ پھر ان کی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں اور فخر سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جاتی ہیں جہاں بے لگام اکثریت اپنی اس کامیابی کا جشن نہایت گندی زبان اور تصاویر کی صورت میں مناتی ہے۔
اگر مشتعل ہجوموں کے ہاتھوں یہ قتل مسلمانوں سے ان کے روایتی روزگار کے آخری مواقع بھی چھین لینے کے ایک منظم منصوبے کا حصہ ہیں، تو اس سے مجموعی پیغام یہ جاتا ہے کہ وہ برابر کے شہری نہیں ہیں۔
پڑھیے: ہندوستان انتہاپسند ریاست بننے کے قریب؟
مگر شہریت خود سنگین خطرات کی زد میں ہے۔ آسام میں تقریباً 90 ہزار مسلمانوں کو غیر قانونی تارکِ وطن قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ مزید 2000 کو حراستی مراکز میں بند کر کے رکھا گیا ہے جبکہ اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔
گرفتار لوگوں میں سے زیادہ تر غریب مزدور ہیں، جب کہ ان کے علاوہ ہزاروں دیگر لوگ در در ک ٹھوکریں کھا رہے ہیں تاکہ اپنی شہریت ثابت کر سکیں۔
غیر قانونی سکونت اور 'مسلمانوں' کا سوال آسان میں ایک عرصے سے مسئلہ بنا رہا ہے مگر گذشتہ سال مئی میں جب بی جے پی پہلی بار اقتدار میں آئی، تب سے 'غیر ملکیوں' کی پکڑ دھکڑ اور ملک بدری کا سلسلہ تیز ہوگیا ہے۔
بنگلہ دیشی کہہ کر مسلمانوں کو گرفتار اور ملک بدر کرنے کی یہ کاوشیں ڈیٹا جرنلزم ویب سائٹ 'انڈیا اسپینڈ'، جس نے اس مسئلے پر تحقیق کی ہے، کے مطابق "لوگوں کو بے دخل کرنے کی دنیا کی سب سے بڑی مہمات میں سے ہیں۔" اس میں کہا گیا کہ سیکڑوں کروڑ روپے اور ایک لاکھ افراد اس کام کے لیے مختص کیے گئے ہیں تاکہ 'مشکوک مسلمانوں' یا 'بنگلہ دیشیوں' کا سراغ لگایا جا سکے۔ شہریت ثابت کرنے کے لیے ہراساں کرنا بہت عام ہے اور یہاں تک کہ ہندوستانی فوج کی تیس سال سے خدمت کر رہے ایک ریٹائرڈ فوجی بھی اس سے بچ نہیں پائے ہیں۔
بی جے پی نے اقلیتوں کے ساتھ اپنے اس سلوک کے تصورات اپنی بالائی تنظیم آر ایس ایس سے حاصل کیے ہیں۔ اور آر ایس ایس کا نظریہ قدامت پسند مسلمانوں کے اسی دو قومی نظریے کا ہوبہو ہے، جس میں مذہبی اقلیتیں دوسرے درجے کے شہریوں، یا ذمّیوں کا درجہ رکھتی ہیں، جنہیں ان کے اپنے مذہبی قواعد کے تحت جائیداد اور معاہدوں کے حقوق تو حاصل ہوتے ہیں مگر مسلمان شہریوں کو حاصل کچھ سیاسی حقوق انہیں حاصل نہیں ہوتے۔
آر ایس ایس کے سب سے بااثر سربراہ ایم ایس گولوالکر، جن کے نظریات وزیرِ اعظم نریندرا مودی کو متاثر کرتے ہیں، ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ غیر ملکی نسلوں یا اقلیتوں کے حقوق پر سخت پابندیاں ہونی چاہیئں۔
گولوالکر کے مطابق "انہیں اپنی انفرادی حیثیت بھلا کر ہندو نسل میں مدغم ہونا پڑے گا، ورنہ ملک میں رہنے کے لیے ہندو قوم کا ماتحت بن کر رہنا پڑے گا، اور وہ حقوق پر کوئی دعویٰ نہیں کریں گے، کسی حق کے مستحق نہیں گے، ترجیحی سلوک تو دور کی بات ہے، انہیں شہری حقوق بھی حاصل نہیں ہوں گے۔"
بابری مسجد گرانا ہندو برتری جتانے اور مسلمانوں کو ان کی جگہ یاد دلانے کی عوامی تحریکوں میں سے پہلی تحریک تھی۔ گذشتہ ہفتے جب ہندوستان نے اس کا 25 سالہ جشن منایا تو یہ واضح تھا کہ بی جے پی گولوالکر کے ایجنڈے پر دھڑلے سے عمل کرنے کے کس قدر نزدیک آ چکی ہے۔ مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے تین سال میں یہ سفر تیز تر رہا ہے۔
پڑھیے: مودی کے ہندوستان میں خوش آمدید
اس نئے انتظام میں یہ نفرت پارلیمانی اخلاقیات سے بھی عاری ہے، جیسا کہ نائب صدر حامد انصاری پر اچھالے گئے کیچڑ سے نظر آتا ہے، جبکہ عدالتیں بھی اس سے محفوظ نہیں ہیں۔ ججز بہرحال انسان ہوتے ہیں اور وہ بھی کسی دوسرے انسان کی طرح متعصب ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ بمبئی ہائی کورٹ کی جج مریدولا بھٹکر کی مثال ہے، جنہوں نے پونے میں ایک نوجوان مسلمان محسن شیخ کو تشدد کے ذریعے مار ڈالنے والے ملزمان کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔ انہوں نے کہا کہ یہ افراد اس کے 'مذہب' کی وجہ سے مشتعل ہوئے۔
ان کے حکم نامے میں استغاثہ کے اس دعوے کی نفی نہیں کی گئی کہ یہ افراد حملہ آوروں کے طور پر شناخت ہو چکے ہیں۔ انہوں نے لکھا: "ملزمان کی بے گناہ مقتول محسن سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ مقتول کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ میں اس نکتے کو ملزمان کے حق میں تصور کرتی ہوں۔ اس کے علاوہ ملزمان ماضی میں جرائم پیشہ نہیں رہے، اور اس لیے لگتا ہے کہ وہ مذہب کے نام پر مشتعل ہوئے اور قتل کیا۔
دوسرے لفظوں میں کہیں تو مذہبی نفرت کی بناء پر جرائم کے لیے ہمیشہ بہانہ موجود ہوتا ہے۔ محسن 2014 میں تب قتل ہوا جب بی جے پی اکثریت کے ساتھ حکومت میں آئی تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ملزمان ہندو راشٹریہ سینا کے رہنما کے بیانات سے متاثر تھے کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑی جائے اور علاقے میں دہشت پھیلائی جائے۔
اس مقدمے سے اقلیتی ہندوؤں یا دلتوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے جن میں یا تو شناخت شدہ حملہ آوروں کو پولیس کی جانب سے چھوڑ دیا جاتا ہے یا پھر ان کے اقدامات کو سیاستدان جائز قرار دے دیتے ہیں۔
اس طرح کے تفرقہ انگیز اور تفریق پر مبنی رجحانات پر تشویش کا اظہار کرنے پر جانے والے نائب صد حامد انصاری کا مذاق اڑایا گیا، اور وہ بھی کسی اور نے نہیں، بلکہ وزیرِ اعظم نے خود۔ انہوں نے کہا کہ انصاری "کچھ حلقوں" کی جانب جھکاؤ رکھتے ہیں۔ مودی انصاری کے مغربی ایشیائی ممالک میں بطور سفارتکار کریئر، اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چانسلر ہونے کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔
انصاری نے ایک یونیورسٹی کے کانووکیشن کے خطاب کے دوران یہ بات تھی کہ ہندوستان "اپنے آپ سے جنگ میں مصروف ایک ملک بن گیا ہے جس میں جذباتی ہم آہنگی کا مرحلہ ناکام ہوا ہے اور اسے دوبارہ جگانے کی ضرورت ہے۔"
انہوں نے تجویز دی تھی کہ معاشرے کے حلقوں "خصوصاً دلتوں، مسلمانوں اور عیسائیوں" میں موجود بڑھتے ہوئے احساسِ عدم تحفظ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
مگر نفرت اپنے سیاہ پہلوؤں پر روشنی پڑتے کیسے دیکھ سکتی ہے؟
یہ مضمون ڈان اخبار میں 11 دسمبر 2017 کو شائع ہوا۔












لائیو ٹی وی