کلبھوشن یادیو کی اہلیہ اور والدہ کی 25 دسمبر کو پاکستان آمد متوقع

اپ ڈیٹ 14 دسمبر 2017

ای میل

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کی بیوی اور والدہ کی ملاقات سے متعلق پاکستانی پیش کش قبول کرتے ہوئے انہیں 25 دسمبر کو پاکستان بھجوانے پر رضامندی ظاہر کردی۔

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ بھارت کلبھوشن کی والدہ اور بیوی کو ملاقات کے لیے پاکستان بھیجنے پر رضامند ہوگیا۔

ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کو ویزوں کے اجرا کے لیے ہدایات جاری کردی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک سفارت کار بھی ملاقات میں شریک ہوگا جبکہ ملاقات کے حوالے سے دیگر معاملات طے کیے جا رہے ہیں۔

مزید دیکھیں: کلبھوشن یادیو کو والدہ اور اہلیہ سے ملاقات کی اجازت حاصل

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو ایل او سی پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر طلب کرکے احتجاج کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں داعش کی کوئی منظم موجودگی نہیں تاہم افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور سرگرمیوں میں اضافے پر تحفظات ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ 31 دسمبر کو افغان مہاجرین کے پی او آر کارڈز کی مدت ختم ہو رہی ہے۔

سی پیک کے فنڈز کا معاملہ

دفتر خارجہ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ چین نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے کسی منصوبے کے فنڈز نہیں روکے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے فنڈز روکے جانے کی کوئی اطلاع نہیں تاہم فنڈز کا اجرا مخصوص انداز میں ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ او آئی سی نے امریکا سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا جبکہ امریکا کو پاکستان نے اس فیصلے پر تشویش سے آگاہ کردیا۔

خیال رہے کہ پاکستان نے بھارت سے 10 نومبر کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے گرفتار افسر کلبھوشن یادیو کی اہلیہ سے اس کی ملاقات کرانے کی پیش کش کی تھی۔

گزشتہ ماہ 18 نومبر کو بھارت کی جانب سے پاکستان کو اس پیشکش پر جواب موصول ہوا جس میں کہا گیا ’انسانی حقوق کی بنیاد پر کلبھوشن کی والدہ بھی اپنے بیٹے سے ملاقات کی حق دار ہیں اس لیے پاکستان پہلے والدہ کو ویزہ فراہم کرے جن کی درخواست پاکستانی ہائی کمیشن کے پاس موجود ہے‘۔

بعدِ ازاں 24 نومبر کو یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ بھارت کلبھوشن یادیو سے ملاقات کے لیے ان کی اہلیہ کے ہمراہ اپنے ایک اہلکار کو بھیجنا چاہتا ہے۔

بھارت نے پاکستان سے کلبھوشن یادیو کے اہل خانہ سے ان کے دورے پر سوالات یا ہراساں نہ کیے جانے کی ضمانت بھی طلب کر رکھی ہے۔

واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی فوجی عدالت نے رواں سال اپریل میں دہشت گردی اور جاسوسی کے جرائم میں سزائے موت سنا دی تھی۔

تاہم عالمی انصاف کی عدالت (آئی سی جے) نے مئی کے مہینے میں بھارت کی جانب سے اپیل پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے پاکستان کو کلبھوشن کی سزائے موت پر عمل درآمد سے روک دیا تھا جبکہ یہ کیس عالمی عدالت میں زیر التوا ہے۔