خلافِ توقع فیصلے کے بعد عدلیہ پر الزامات کی بوچھاڑ نہ کی جائے: چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 17 دسمبر 2017

ای میل

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ خلافِ توقع عدالتی فیصلہ آنے کے بعد عدلیہ پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے سے باز رہا جائے۔

لاہور میں پاکستان بار کونسل کے سیمینار سے خطاب میں جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عدالیہ کسی منصوبے کا حصہ نہیں جبکہ عدلیہ کو معاملات احسن طریقے سے حل کرنے کے لیے پوری ایمانداری کی ضرورت ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے ایک معیار مقرر کیا ہے جس کے تحت سپریم کورٹ ایک مہینے سے زیادہ کوئی بھی فیصلہ محفوظ نہیں رکھے گی اور اسی معیار کی رو سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے سربراہ عمران خان، اور پارٹی کے سابق سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین نا اہلی کیس کا فیصلہ سنایا۔

انہوں نے عدلیہ پر دباؤ کی باتوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ہم پر دباؤ ڈالنے والا کوئی پیدا نہیں ہوا، اگر دباؤ کا شکار ہوتے تو حدیبیہ پیپرملز کا فیصلہ یہ نہ آتا’۔

واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے حدیبیہ پیپر ملز کیس میں ہائی کورٹ کا گیارہ مارچ 2014 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے دوبارہ کھولنے سے متعلق قومی احتساب بیورو(نیب) کی اپیل ابتدائی سماعت کے لیے منظور کی تھی۔

نیب کی جانب سے اپیل دائر کی گئی تھی کہ انصاف کے تقاضوں کے پیشِ نظر ہائی کورٹ کا 11 مارچ 2014 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

تاہم 15 دسمبر 2017 کو عدالت عظمیٰ نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کو دوبارہ کھولنے سے متعلق نیب کی درخواست مسترد کردی تھی۔

یہ پڑھیں: جسٹس ثاقب نثار سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس مقرر

اپنے خطاب میں انہوں نے ٹی وی چینلز پر تبصرہ کرنے والے مبصرین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے سے متعلق دستاویزات کا تفصیلی مطالعہ کیے بغیر بڑی بڑی باتیں کرنے والوں کو حقیقت سے مکمل آگاہی نہیں ہوتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالیہ، جمہوریت پر بھرپور یقین رکھتی ہے اور سمجھتی ہے کہ جمہوریت کے بغیر عدلیہ کی حیثیت مشکوک ہو جائے گی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ ‘مجھ سمیت میرے ساتھیوں نے آئین کے تحفظ کی قسم کھائی ہے تاہم ایسی سوچ چھوڑ کر نہیں جائیں گے جس سے ہمارے بچے شرمندہ ہوں’۔

جمہوریت نہیں تو آئین نہیں

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ ’میں نے 18 ویں ترمیم کے فیصلے میں پارلیمنٹ کی حاکمیت تسلیم کی ہے اسے باغور پڑھا جائے‘۔

خیال رہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 17 رکنی لارجر بینچ نے 18 ویں ترمیم کی منظوری دی تھی جس کے تحت صوبائی خود مختاری کے علاوہ آرٹیکل 63 اے کے تحت پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بنانے والے کو پارٹی سربراہ اسپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس بھجوا کر نااہل قرار دلوا سکتا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار 18ویں ترمیم بل سے متعلق بنائے گئے لارجر بینچ کا حصہ تھے۔

یہ پھی پڑھیں: جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کی استدعا مسترد

اپنے خطاب میں چیف جسٹس نے نے واضح کیا تھا کہ جمہوریت کے سائے میں ریاستی اداروں کو تحفظ حاصل ہے اور اگر جمہوریت کو ٹھیس پہنچی تو آئین بھی برقرار نہیں رہے گا تاہم اللہ ایسے وقت سے بچائے کیوں کہ اگر آئین نہیں ہوگا تو ملک پر آنچ آئے گی۔

انہوں نے وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ججز اور اپنے ادارے کو مضبوط کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

عدلیہ پر ناز

لاہور بار کونسل سے خطاب میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عوام کو عدلیہ پر ناز ہونا چاہیے کیونکہ اب ہر جج اپنا فیصلہ سنانے میں آزاد ہے۔

مزید پڑھیں: 'چیف جسٹس کے تقرر میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں'

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ قانون میں اگر کہیں غلطی ہو تو نشاندہی کرنا جج کی ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے مزید کہا کہ ’جتنے فیصلے کیے ضمیر اور قانون کے مطابق کیے،ماضی میں بھی انصاف پر مشتمل فیصلے جاری کریں گے اور قوم کو مایوس نہیں کریں گے‘۔

انصاف کی فراہمی عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا وکلا کی اخلاقی ذمہ داریوں کے حوالے سے کہنا تھا کہ وکیلوں کا شیوہ نہیں کہ ناجائز مالی مفاد کے لیے سائیلین کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زبردستی کیس بنا کر ان سے بھاری فیس وصول کریں۔

انہوں نے کہا کہ شکوے شکاتیں اپنی جگہ لیکن سائلین کو انصاف کی فراہمی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔

اس حوالے سے پڑھیں: طیبہ تشدد کیس میں نامزد جج کو کام سے روک دیا گیا

ان کا کہنا تھا کہ ججز کے لئے کام کرنا بہت دشوار ہوگیا، کورٹ میں گھس کر انہیں کو گالیاں دی جاتی ہیں جبکہ گزشتہ دنوں خاتون سول جج سے بدتمیزی کا واقعہ سامنے آیا جو شدید قابل مذمت ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ ‘انصاف کے حصول میں تاخیر سے نظام میں بڑی خرابیاں پیدا ہوئیں’۔