ایران: پُرتشدد مظاہرے، پولیس کے ساتھ جھڑپ میں 2 افراد ہلاک

اپ ڈیٹ 31 دسمبر 2017

ای میل

تہران: ایرانی حکومت کی جانب سے غیر قانونی اجتماعات پر تنبیہ کیے جانے کے باوجود ملک بھر میں مسلسل تیسرے روز بھی مظاہرے جاری ہیں، جس میں اب تک 2 افراد ہلاک ہوئے۔

یونیورسٹی آف تہران کے اطراف میں سیکڑوں لوگوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور انہوں نے کئی گھنٹوں تک حکومت مخالف مظاہرے کیے جس کے باعث اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کا نظام دھرم بھرم ہوگیا۔

ایرانی حکام نے اپنی طاقت کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے سیکیورٹی اہلکاروں نے یونیورسٹی کے داخلی راستے کا کنٹرول سنبھال لیا اور ’سرکشوں کی موت‘ کے نعرے لگائے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے کئی شہروں میں پُر امن ریلی نکالی اور ’آمر کی موت‘ کے نعرے بھی لگائے۔

مزید پڑھیں: 'ایران بیت المقدس کے حوالے سے امریکی فیصلے کو برداشت نہیں کرے گا'

آن لائن افواہوں کی وجہ سے سفری پابندی بھی عائد کی جاچکی ہیں جبکہ مظاہروں کی جگہ پر میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں دی جارہی لہٰذا انٹرنیٹ پر آنے والی فوٹیجز کی تصدیق بھی نہیں ہوسکی۔

ایرانی وزیر مواصلات محمد جاوید ازاری جہرومی نے الزام عائد کیا کہ ایک مقبول ٹیلی گرام چینل مظاہرین کی دستی بم حملوں، مسلح بغاوت اور معاشی بد امنی پر حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ 2009 میں اہم تحریک کو شکست دینے کی یاد میں سالانہ ریلیوں کو ہفتے (30 دسمبر) کی صبح شیڈول کیا گیا تھا جس سے ہزاروں کی تعداد میں حکومتی حامی مظاہرین پورے ملک میں سڑکوں پر نکل آئے۔

شاہانہ طرز زندگی کے خلاف جمعرات (28 دسمبر کو) مشہد میں مظاہروں کا آغاز ہوا جس جلد ہی حکومت مخالف مظاہروں میں تبدیل ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر کا داعش کو ختم کرنے کا دعویٰ

مظاہرین نے 1979 کے ایرانی انقلاب کے نتیجے میں گرائی گئی شاہی حکومت کے حق میں بھی نعرے بازی کی جبکہ کچھ مظاہرین نے حکومت کو اندرونی مسائل کے بجائے فلسطینی اور دیگر علاقائی تحاریک کی حمایت کرنے کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والی ایک ویڈیو کے مطابق ایرانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں دورود کے علاقے میں 2 مظاہرین زخمی ہوگئے تھے بعدِ ازاں یہ اطلاعات آئیں کہ زخمی مظاہرین ہلاک ہوگئے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مظاہرین دورود میں اسی مقام سے 2 جسد خاکی لے کر جارہے ہیں جہاں وہ کچھ دیر پہلے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے، تاہم اس ویڈیو فوٹیج کی تصدیق نہیں کی جاسکی۔

ایران کے سرکاری نیوز چینل کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے چینل کو ایرانی شہر قوم اور کرمنشاہ میں مظاہرین کی کوریج کرنے سے روک دیا گیا۔

مزید پڑھیں: مغربی پالیسیاں 'ناکام' ہوچکی ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کے عالم آیت اللہ محسن اکاری نے تہران میں مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’دشمن ایک مرتبہ پھر پھوٹ ڈالنا چاہتا ہے اور سوشل میڈیا اور معاشی مسائل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نیا فتنہ پیدا کرنا چاہتا ہے۔

خواتین کے امور کی نائب صدر معصومہ ابتیکار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں کہا ’احتجاج کرنا ہر کسی کا حق ہوتا ہے تاہم مظاہرین کو یہ جاننا ضروری ہے کہ انہیں کس طرح ہدایت دی جارہی ہے۔‘

انہوں نے ایسے ٹوئٹر صارفین کی بھی نشاندہی کی جو بظاہر سعودی عرب اور امریکا سے تعلق رکھتے ہیں لیکن وہ مشہد میں مظاہرین کی حمایت کے لیے پیغامات جاری کر رہے ہیں۔

اس تمام صورتحال کے بر عکس حکام نے عوامی غصے کو نظر انداز کرنے پر حکومت کو خبردار کردیا تھا۔

ایرانی صدر کے ثقافتی مشیر حسان الدین اشینا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ ان کے ملک کو بیروزگاری، مہنگائی، کرپشن، پانی کی کمی، معاشی فرق اور بجٹ کی غیر متوازن تقسیم جیسے مسائل کا سامنا ہے۔


یہ خبر 31 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی