سال 2017: گجرات میں ’غیرت کے نام‘ پر 41 خواتین کا قتل

اپ ڈیٹ 01 جنوری 2018

ای میل

گجرات: سال 2017 اختتام پذیر تو ہوگیا تاہم اپنے پیچھے بہت سے تلخ حقائق بھی چھوڑ گیا ہے جن میں ایک سب سے زیادہ تلخ حقیقت خواتین پر کیا جانے والا تشدد ہے، گذشتہ سال غیرت کے نام پر اور گھریلوں تنازعات میں صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات میں 41 خواتین کو قتل کردیا گیا۔

خیال رہے کہ سال 2016 میں یہ تعداد 35 تھی جبکہ 2013 میں یہ تعداد 51 اور 2014 میں 36 تھی۔

ضلعی پولیس آفیسر سے حاصل ہونے والے اعداد وشمار کے مطابق بیشتر خواتین کو ان کے اہل خانہ نے قتل کیا جبکہ ان واقعات کے شکایت کنندہ بھی خاندان کے افراد ہی تھے۔

تاہم ان مقدمات میں کسی پر بھی فرد جرم عائد نہ کی جاسکی جیسا کہ شکایت کنندہ اور ملزمان کے درمیان تصفیہ ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں: 'غیرت کے نام پر قتل غیر اسلامی اور گناہ کبیرہ '

زیادہ تر قتل گجرات کے علاقے جلال پور جٹاں سردار، کنجاہ، دولت نگر اور دِنگاہ تھانے کی حدود میں دیہی علاقوں میں ہوئے، اس کے علاوہ شہروں کے اطراف میں قائم تھانوں سے حاصل ہونے والے اعداد وشمار میں بھی خواتین پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ان واقعات میں سے ایک میں سول لائن پولیس کی حدود میں ایک ہی خاندان کی تین خواتین کا غیرت کے نام پر قتل بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ 2017 میں ضلع کے مختلف تھانوں میں خواتین کے قتل کے 38 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 2016 میں یہ تعداد 34 تھی۔

اس کے علاوہ گذشتہ سال متعدد لاشیں بھی برآمد کی گئیں جن کا تعلق ضلع گجرات سے نہیں تھا، اس میں حال ہی میں مکمل کیا جانے والا کیس بھی شامل ہے جس میں مقتولہ کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔

ان خواتین کو شادی، گھریلوں، اور دیگر تنازعات کے باعث قتل کیا گیا، پولیس کے ایک سینئر تحقیقاتی افسر نے ڈان کو بتایا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ خواتین کے قتل کی وجہ ثقافت اور روایات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین پر تشدد کے خاتمے کیلئے اقدامات کا مطالبہ

انہوں نے زور دیا کہ اس تشدد کو روکنے کے لیے موثر قانون سازی اور آگاہی مہم کے آغاز کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 38 مقدمات میں سے 36 میں نامزد ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا گیا لیکن ایسے ملزمان کو تکینکی بنیادوں پر یا شکایت کنندہ سے تصفیے کے باعث رہا کردیا گیا، جن کا تعلق مقتولہ کے اہل خانہ سے ہی تھا۔


یہ رپورٹ یکم جنوی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی