اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کے خلاف دائر درخواستوں کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں عدالتِ عظمیٰ نے نیشنل پارٹی (این پی) کے وکیل راحیل کامران کی درخواستوں کو التوا کرنے کی درخواست مسترد کردی جبکہ ایک اور درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ انہیں تیاری کے لیے وقت دیا جائے اور فریقین کو نوٹس جاری کیے جائیں۔

چیف جسٹس نے درخواست گزاروں کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پہلے نوٹسز کا کیس تیار کیا جائے پھر ہی نوٹس جاری کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا پارلیمنٹ قانون بنانے کی سپریم باڈی ہے اور درخواست میں کہا جارہا ہے کہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید پڑھیں: انتخابی اصلاحات بل کی آئینی حیثیت سپریم کورٹ میں چیلنج

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ کے قانون کو کالعدم قرار دینے کے اصول کیا ہیں؟ آج تک کتنے قوانین کو کالعدم قرار دیا گیا؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قوانین کو کالعدم قرار دینے کے خواہشمند عدالتی فیصلوں کی نظیریں لائیں کیونکہ یہ سیاسی مقدمات ہیں، ایسا نہیں ہوگا کہ درخواست دائر ہو اور نوٹس جاری کردیا جائے، عدالت کو قانون کے مطابق چلنا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی انہیں کیس کی تیاری کرنے اور عدالتی فیصلوں کی نظیریں لانے کے لیے وقت دیا جائے، بعدِ ازاں سماعت میں کچھ دیر کے لیے وقفہ کیا گیا۔

سماعت کے دوبارہ آغاز پر چیف جسٹس نے درخواست گزار سے کہا کہ پہلے کیس کے قابلِ سماعت ہونے کی رکاوٹ عبور کی جائے اور عدالت کو مطمئن کیا جائے کہ یہ مسئلہ کس طرح سے بنیادی انسانی حقوق کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قانون بنانے کے لیے پارلیمان سپریم ادارہ ہے اور اسی کے پاس قانون سازی کا اختیار ہے اور عدالتِ عظمیٰ قانون بنانے کے اختیار میں مداخلت نہیں کر سکتی کیونکہ عدالت کے پاس صرف آئین کی روح کے خلاف کی جانے والی قانون سازی کا جائزہ لینے کا اختیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 سپریم کورٹ میں چیلنج

انہوں نے مزید کہا کہ آج صبح عدالت سے درخواست کی گئی کہ فریقین کو کیس میں نوٹس جاری کیا جائے، یہ نوٹسز اتنی آسانی سے جاری نہیں ہوتے۔

شیخ رشید کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وہ درخواست کا پیرا بی پڑھنا چاہتے ہیں۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ایماندار آدمی کی مجھ پر حکومت میرا بنیادی حق ہے، آئین کے آرٹیکل 63 اے میں واضح ہے کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی ممبران کو ٹکٹ جاری کرے گا، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پارٹی سربراہ ہی پارلیمان میں موجود ممبران کو کنٹرول کرتا ھے تاہم اس کے لیے پارٹی سربراہ کا صادق اور آمین ہونا ضروری ہے۔

چیف جسٹس نے بیرسٹر فروغ نسیم سے سوال کیا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر کسی شخص کی پارلیمنٹ سے رکنیت ختم ہو جائے تو وہ گورننس کا حقدار نہیں رہتا؟

میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نااہلی کا لفظ استعمال کرنے میں احتیاط سے کام لے رہی ہے اور درخواست میں یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ایک نااہل شخص کا پارٹی سربراہ بننا آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان نے الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017 سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ انہیں پارٹی سربراہی کے تحت حاصل اختیارات سے متعلق بتایا جائے جس پر شیخ رشید احمد کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس بارے میں انہیں مزید وقت درکار ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا پارٹی سربراہ کے سرٹیفکیٹ پر رکن اسمبلی کو نکالا جا سکتا ہے۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے عدالت میں کہا کہ جو شخص رکنِ اسمبلی ہی نہ بن سکتا تو اس کا پارٹی کنٹرول کرنا بھی اصولوں کے خلاف ہو گا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ملک میں سیاسی جماعتوں کے قوانین میں بہتری کے لیے ترامیم کی ضرورت ہے۔

بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ نواز شریف کا پارٹی سربراہ بننا ان کا ذاتی مقدمہ ھے لیکن یہ باز محمد کاکڑ کیس کی خلاف ورزی ہے جس میں عدالتی حکم کو ختم کرنے کے لیے قانون سازی کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابی بل 2017 کے خلاف درخواستیں سماعت کیلئے منظور

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 میں تمام سیاسی جماعتوں نے منظوری کے حق میں ووٹ دیا جس پر بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ سینیٹ میں یہ قانون صرف ایک ووٹ سے منظور ہوا تھا جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ قانون کی منظوری کے لیے ایک ووٹ ہی کافی ہے۔

بیرسٹر فرغ نسیم نے اپنے دلائل میں کہا کہ انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 سپریم کورٹ کے فیصلے کی نفی کے لیے منظور کیا گیا لہٰذا قانون میں ترمیم کے بجائے نیا قانون لایا جائے۔

چیف جسٹس نے بیرسٹر فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ کیا ان کی جماعت، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے قانون کے حق میں ووٹ دیا تھا جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ایک سینیٹر نے اس ایکٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا جس پر قانون منظور ہوا۔

فروغ نسیم نے کہا کہ ایک شخص کو نوازنے کے لیے قانون سازی کی گئی اور نیشنل ریکنسلیئیشن آرڈیننس (این آر او) کیس کا فیصلہ بھی انہیں بنیادوں کیا گیا تھا۔

عدالت نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی منظوری تک کی تمام تفصیلات طلب کر لیں جبکہ سابق نواز شریف سمیت تمام فریقین کو نوٹسز بھی جاری کردیے اس کے علاوہ اٹارنی جنرل پاکستان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر میں انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی منظوری کے خلاف سپریم کورٹ میں قانون دان ذوالفقار بھٹہ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت درخواست دائر کی گئی تھی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ پارلیمنٹ کا منظور کردہ بل آئین کی روح سے متصادم ہے، کیونکہ اس کے تحت عدالت کی جانب سے نااہل قرار دیا گیا شخص پارٹی صدارت کے لیے اہل قرار پائے گا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ آرٹیکل ’63 اے‘ کے تحت پارٹی صدر کسی بھی رکن پارلیمنٹ کی اہم امور پر قانون سازی کو کنٹرول کرتا ہے اور اگر اہم امور پر کوئی رکن پارلیمنٹ پارٹی صدر کی مرضی کے خلاف ووٹ دے تو اس کا کیس الیکشن کمیشن کو نااہلی کے لیے بھجوایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ 6 نومبر 2017 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا الیکشن ریفارمز ایکٹ 2017 سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ 22 نومبر 2017 کو چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے انتخابی بل 2017 کو چینلج کرنے پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو ختم کرتے ہوئے سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)، شیخ رشید اور جمشید دستی سمیت 9 درخواست گزاروں نے انتخابی بل 2017 کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف پاناما کیس میں نااہلی کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت کے اہل ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس 22 دسمبر کو سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات بل کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔