پاکستان اور جاپان دوبارہ ’بہتر‘ تعلقات کیلئے پُر عزم

05 جنوری 2018

ای میل

اسلام آباد: جاپان اور پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ بہتر تعلقات خاص طور پر اقتصادی اور سیکیورٹی کے معاملات کو مضبوط کرنے کا عزم کرلیا۔

اس بات کا اعادہ جاپانی وزیر خارجہ تارو کونو نے پاکستان کے 2 روزہ دورے پر کیا، جہاں انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر خارجہ خواجہ آصف سے ملاقات کی۔

یاد رہے کہ دونوں ممالک نے گزشتہ سال اپنے سفارتی تعلقات کے 65 سال مکمل ہونے پر جشن بھی منایا تھا جبکہ گزشتہ کئی سالوں سے جاپان اور پاکستان کے مابین تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ جاپانی وزیر خارجہ تارو کونو کا یہ دورہ 9 سال میں کسی بھی جاپانی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔

مزید پڑھیں: جاپان، پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہشمند

ملاقات کے دوران وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تارو کونو کو بتایا کہ پاکستان اور جاپان کے درمیان تجارتی، سرمایہ کاری، انفرااسٹرکچر اور انسانی وسائل کی ترقی میں تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے.

انہوں نے خاص طور پر جاپانی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں دلچسپی کا اشارہ کیا اور ایشیا میں جاپانی تجارت کے حوالے سے جیٹرو ( جاپان خارجہ ٹریڈ آرگنائزیشن) کے کیے گئے سروے کی یاد دہانی کرائی، جس میں پاکستان میں کاروباری امکانات کی ایک مثبت تصویر پیش کی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا اشارہ ہے کہ کس طرح دونوں ممالک وسیع تجارتی تعاون سے باہمی طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں جبکہ پائیدار اقتصادی ترقی اور سیکیورٹی ماحول کے تناظر میں پاکستان میں بے پناہ مواقع موجود ہیں، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت جاپان کے شہریوں کے ساتھ گرم جوشی اور پیار کرتے ہیں لہٰذا پاکستان جاپان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت سے دیکھتا ہے اور تمام شعبوں میں تعاون کا خواہاں ہے۔

انہوں نے جاپانی وزیراعظم کے بیان کا خیر مقدم کیا، جس میں جاپان کی ایشیا بھر میں ترقیاتی منصوبوں کو فروغ دینے اور کاروباری مواقع کا فائدہ اٹھانے کی تیاری پر زور دیا ہے۔

شاہد خاقان عباسی خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے کیے گئے عزم کو دہرایا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور بات چیت کے لیے بھارت جارحانہ حکمت عملی استعمال کر رہا ہے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی خواہش میں مدد نہیں کرے گی۔

اس موقع پر تارو کونو نے شاہد خاقان عباسی کو یقین دلایا کہ جاپان پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کردار ادا کرے گا۔

تارو کونو نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جاپان خطے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو روکنے کے لیے پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاپان ایک دوست کے طور پر پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کا کام جاری رکھے گا۔

دریں اثناء جاپانی وزیر خارجہ تارو کونو نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی، جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطے میں قیام امن کے لیے پاکستان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھہ پڑھیں: محسنِ اردو جاپانی پروفیسر ’ہیروجی کاتاؤکا‘ سے خصوصی گفتگو

آرمی چیف سے ہونے والی ملاقات میں جاپانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی خطے میں امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو قابل تحسین قرار دیا۔

اس موقع پر جاپانی وزیر خارجہ نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں بے گھر افراد کی بحالی میں جاپانی امداد کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔

آرمی چیف نے جاپانی وزیر خارجہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاپان کی جانب سے کیے گئے تعاون پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

جاپانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت چاہتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ سلامتی اور دفاع سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے۔


یہ خبر 05 جنوری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی