اصغر خان: لاجواب منتظم، ریاستی پالیسیوں کے ناقد مگر عوامی سیاست سے نابلد

اپ ڈیٹ 06 جنوری 2018

ای میل

یہ ہماری قومی عادت ہے کہ ہم یا تو ہیرو بناتے ہیں یا زیرو، درمیان کا کوئی رتبہ ہم نے کسی کے لیے نہیں چھوڑا۔ معقولاتی تجزیے سے تطہیر، تعصب یا تفاخر تو پیدا کیا جا سکتا ہے مگر ایسے میں حقائق کہیں کھو سے جاتے ہیں۔ شخصیات کے متعلق لکھتے ہوئے تو اکثر سکہ بند لکھاری بھی غچہ کھا جاتے ہیں۔

پاکستان ایئر فورس کو قیامِ پاکستان کے تقریباً 10 سال بعد پہلا پاکستانی سربراہ ملا اور یہ کوئی اور نہیں بلکہ ایئر مارشل (ر) اصغر خان تھے جو پاکستان ایئر فورس کے پانچویں سربراہ تھے۔ 27 مئی 1957ء کو صرف 36 سال اور چار مہینے کی عمر میں وہ ایئر چیف بنے تھے۔

پاکستانی فوج کے پہلے پاکستانی سربراہ کا تعین تو 1949ء کے وسط میں ہی ہو گیا تھا اور اگر جنرل افتخار 31 دسمبر 1949ء کو فضائی حادثے میں جاں بحق نہ ہوتے تو جنرل ایوب 1950ء میں پہلے آرمی چیف نہ بنتے۔ اگر پاکستان نیوی کی بات کی جائے تو وہاں پہلے پاکستانی کمانڈر اِن چیف (اُس وقت نیوی کا سربراہ کمانڈر اِن چیف کہلاتا تھا) جنوری 1953ء میں ایڈمرل حاجی محمد صدیق چوہدری بنے۔ اِس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ جب فوج اور نیوی کے سربراہان کا تعین پہلے ہوگیا تھا تو ائیرفورس کی باری اتنی دیر سے کیوں آئی؟ لیکن اِس بارے میں راوی خاموش ہے۔

1921ء میں کشمیر میں پیدا ہونے والے اصغر خان رائل انڈین ملٹری کالج سے پڑھنے کے بعد دسمبر 1940ء میں انڈین ائیر فورس میں بھرتی ہوئے، یہ ادارہ 1932ء میں بنایا گیا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم میں کارکردگی کی وجہ سے اِس کے نام میں رائل کا اضافہ کردیا گیا تھا۔

1945ء میں اصغر خان برطانیہ بھیجے گئے جہاں انہوں نے رائل ائیر فورس اسٹاف کالج، جوائنٹ سروس ڈیفنس کالج اور امپیریئل ڈیفنس کالج سے ملٹری ایڈمنسٹریشن اور جوائنٹ سروسز میں تعلیم حاصل کی۔ وہ اُس کمیٹی میں شامل رہے جس نے دفاعی اثاثہ جات دو نومولود مملکتوں یعنی پاکستان اور بھارت میں تقسیم کرنے تھے۔

ویڈیو: پاک فضائیہ کے پہلے کمانڈر انچیف اصغر خان کی زندگی پر ایک نظر

1947ء میں پاکستان بننے کے بعد اصغر خان ونگ کمانڈر بنائے گئے اور وہ پشاور کے نزدیک رسالپور میں بنائی گئی پاکستان ایئر فورس اکیڈمی کے پہلے کمانڈنٹ تھے۔ 1947ء سے 1965ء میں اپنی ریٹائرمنٹ تک 18 سالوں میں اصغر خان نے پاکستان ایئر فورس کو ایک ایسا باوقار ادارہ بنایا جس کے معترف اپنے اور بیگانے سب تھے، تاہم انہوں نے یو-2 اور بڈابیر کا ذکر کبھی نہیں کیا۔

جب وہ اگست 1965ء میں ریٹائرمنٹ لے رہے تھے تو اُس وقت آپریشن جبرالٹر شروع ہوچکا تھا اور کشمیر کے پہلے صدر ’کے ایچ خورشید‘ کی طرح ائیر مارشل بھی سمجھتے تھے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ مجھے آپریشن جبرالٹر کی وجہ سے پاک بھارت جنگ کا خدشہ تھا اور اُنہوں نے 3 ستمبر کو جنرل ایوب کو اِس سے آگاہ بھی کردیا تھا۔ ایوب نے اُنہیں کہا کہ دفترِ خارجہ سمجھتا ہے کہ بھارت حملہ نہیں کرے گا، اور 6 ستمبر کو بھارت نے حملہ کردیا۔

اِس حوالے سے قابلِ ذکر بات یہ بھی ہے کہ ایک فوجی دورِ حکومت میں دفترِ خارجہ یا متعلقہ وزیر کی اہمیت کتنی تھی؟ یا پھر وہ 1962ء کی چین-بھارت جنگ میں کشمیر حاصل کرنے کے نادر موقع کو امریکی دباؤ کی وجہ سے گنوا دینے کا داغ اتارنا چاہتے تھے؟

ویسے بھی جنوری 1965ء میں مادرِ ملت فاطمہ جناح سے صدارتی انتخاب جیتنے کے باوجود اُنہیں اپنی خود ساختہ مقبولیت کا بخوبی اندازہ ہوچکا تھا اور اِس طرح کے اقدامات کے ذریعے شاید وہ اُسے بچانا چاہتے تھے۔ مگر اِس سب کے باوجود اصغر خان اِس کا الزام ذولفقار علی بھٹو پر لگاتے رہے حالانکہ ابھی بھٹو عوامی سیاست میں بھی نہیں آئے تھے۔

ایوب و بھٹو پر پاکستان کو 1965ء کی جنگ میں جھونکنے کا الزام لگانے والے ایئر مارشل (ر) اصغر خان کو جنرل ایوب نے ریٹائرمنٹ کے بعد پی آئی اے کا سربراہ بنایا۔ اگرچہ 1955ء میں بنائے جانے والے اس ادارے کے پہلے سربراہ ظفر الاحسن تھے مگر 1959ء میں ایئر مارشل نور خان اور پھر 1965ء سے 1968ء تک اصغر خان اِس کے مینجنگ ڈائریکٹر رہے۔

ایئر مارشل اصغر خان اب سیاست کی طرف مائل ہوئے اور 1970ء کے انتخابات سے قبل پاکستان جسٹس پارٹی سے اپنی سیاست کا آغاز کیا جس میں اُن کے ساتھی بابائے جمہوریت نوبزادہ نصراللہ تھے۔ یہ وہی وقت ہے جب پاکستان کی سیاست میں ذوالفقار علی بھٹو کی آمد آمد تھی اور وہ لاہور میں اپنی پارٹی کی بنیاد رکھنے کے بعد بائیں بازو کے بہت سے دانشوروں و کارکنوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے۔

ایک سینئر دوست کا بتانا ہے کہ جسٹس پارٹی نے بھی بہت کم مدت میں لوگوں کی بڑی تعداد کو متوجہ کرلیا تھا، مگر انتخابات سے پہلے ہی اصغر خان کیوں تنہا اُڑان کی طرف مائل ہوئے اور نوابزادہ کو چھوڑ دیا، اِس راز سے بھی اُنہوں نے کبھی پردہ نہیں اُٹھایا۔ ہمارے اِس دوست کا شمار جسٹس پارٹی کے اُن کارکنوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پارٹی ٹوٹنے کے بعد پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔

مزید پڑھیے: اصغر خان کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

پاکستان ٹوٹنے کا الزام تو وہ جنرل یحیٰ پر دھرتے ہیں مگر جبرالٹر کی طرح یہاں بھی وہ بھٹو ہی کو مجرم گردانتے ہیں۔ 16 دسمبر 1971ء کو پاکستان دولخت ہوا اور یہ مطالبہ سامنے آنا شروع ہوگیا کہ اقتدار مغربی پاکستان میں سب سے زیادہ سیٹیں جیتنے والے بھٹو کے حوالے کیا جائے۔

اُس وقت حالات انتہائی کشیدہ تھے اور بھٹو کو اقوام متحدہ سے ملک واپس آنے کا کہا گیا۔ 18 دسمبر کو اصغر خان اُس ٹرانسفر آف پاور کے خلاف لیاقت باغ میں جلسہ کرنا چاہتے تھے مگر حالات کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرسکے۔

بھٹو دور میں وہ پہلی عوامی منتخب حکومت کے خلاف سرگرم رہے اور اُن کی جماعت تحریک استقلال قومی تحویل میں لی گئی صنعتوں کے مالکوں کو متوجہ کر رہی تھی۔ اِسی کوششوں کی وجہ سے میاں نواز شریف بھی اُن کی پارٹی میں کچھ وقت شامل رہے۔ اصغر خان مشہورِ زمانہ ’نو ستاروں‘ کے قومی اتحاد میں شامل تھے جس میں مولانا مودودی، مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، خان عبدالولی خان، نوابزادہ نصراللہ، سردار عبدالقیوم خان جیسے مختلف سوچ کے حامل رہنما بھٹو مخالفت میں یکجان تھے۔ اُس تحریک نے بھٹو حکومت کو تو ختم کردیا مگر اقتدار قومی اتحاد کے بجائے کٹے ہوئے پھل کی طرح ضیاء الحق کی جھولی میں آن گرا۔

بھٹو کی پھانسی کے بعد ضیاء آمریت سے نبرد آزما ہونے کے لیے تحریکِ بحالی جمہوریت بنی تو اصغر خان اور نوابزادہ نصراللہ سمیت بہت سے بھٹو مخالف اُس میں شامل ہوئے۔ اکتوبر 1979ء سے اکتوبر 1984ء تک اُنہیں اُن کے ایبٹ آباد والے گھر میں ضیاء شاہی نے نظر بند رکھا اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اُنہیں ضمیر کا قیدی قرار دیا۔

اُس دوران بائیں بازو کا ایک گروپ طفیل عباس کی قیادت میں اُن کی پارٹی میں شامل ہوا۔ طفیل عباس سے اصغر خان کے مراسم پی آئی اے کے زمانے سے تھے۔ طفیل عباس پی آئی اے کی مزدور یونین کے مختارِ کُل اور خان صاحب اُس ادارے کے سربراہ تھے۔ مگر وہ بھٹو کی طرح عوامی پارٹی کبھی نہ بنا سکے۔

جب ضیاء نے 1985ء میں غیر جماعتی الیکشن کروائے تو پیپلزپارٹی سمیت ایم آر ڈی کی تمام پارٹیوں نے اُس کا بائیکاٹ کیا۔ ایم آر ڈی نے ضیاء آمریت کے خلاف بڑا مورچہ لگایا اور 10 اپریل 1986ء کو جب لاکھوں کے مجمعے نے بے نظیر بھٹو کا لاہور میں فقید المثال استقبال کیا تو وہ ایم آر ڈی کی بڑی لیڈر قرار پائیں۔

یہی وہ موقع تھا جب اِس تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے سیاسی اتحاد میں بدلا جاسکتا تھا مگر ایسا نہ ہوسکا کیونکہ ایم آر ڈی کی چھوٹی پارٹیاں بشمول تحریک استقلال یہ سمجھتے تھے کہ عوامی مقبولیت میں وہ پیپلزپارٹی سے آگے نہیں تو پیچھے بھی نہیں۔ جونیجو حکومت ٹوٹنے اور ضیاء الحق کے مرنے کے بعد جب انتخابی مورچہ لگا تو ولی خان، غوث بخش بزنجو، اصغر خان اور بے نظیر بھٹو کی پارٹیوں نے الگ الگ اپنے طور پر انتخاب لڑا جبکہ اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر بنائے گئے اتحاد آئی جے آئی نے نواز شریف کی قیادت میں حصہ لیا۔ لیکن اُس انتخابات میں اصغر خان اپنی سیٹ بھی نہ جیت سکے جبکہ پیپلزپارٹی نے بس اُتنی ہی سیٹیں جیتیں کہ وہ حکومت بناسکیں۔

بے نظیر بھٹو کی حکومت ٹوٹنے کے بعد ہونے والے انتخابات میں اصغر خان نے پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد بنایا اور وہ لاہور کے حلقے 95 (جو اب این اے 120 بن چکا ہے) سے نواز شریف کے خلاف الیکشن لڑے۔ مجھے یاد ہے کہ اُس انتخابی مہم میں اصغر خان کو بہت پذیرائی ملی مگر پیپلزپارٹی سے اتحاد کرنے کے باوجود وہ اپنی انتخابی تقاریر میں بھٹو پر تنقید سے خود کو مبرا نہ کرسکے۔

ایک بڑی کارنر میٹنگ میں تو کارکنوں نے اُن کی تقریر ہی روک دی۔ کچھ لوگ اِسے اُن کی ایمانداری اور صاف گوئی کہہ سکتے ہیں، لیکن اگر ایسا ہی ہے تو پھر اُنہیں پیپلزپارٹی سے اتحاد کرکے انتخابات میں حصہ نہیں لینا چاہیے تھا۔

1990ء کے بعد وہ کتابیں لکھتے رہے۔ مشرف آمریت میں اُن کے بیٹے کو وزارت دی گئی تو وہ بھی روشن خیال جدیدیت کے واہمے کا شکار ہوئے۔ 2002ء کے انتخابات سے قبل عمر اصغر خان نے وزارت سے مستعفی ہو کر بہت سی این جی اوز اور ترقی پسندوں کے ہمراہ پارٹی بنائی تو اُنہیں اپنے والد کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ مگر یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھی کہ عمر کی اچانک مگر پُرسرار موت نے ایئر مارشل کو نڈھال کردیا۔ آخری سالوں میں انہوں نے اپنی باقی ماندہ پارٹی کو عمران خان کی جھولی میں ڈال دیا۔

بطور منتظم انہوں نے پاکستان ایئر فورس کو ایک لاجواب بنیاد مہیا کی کہ یہ تمغہ تادیر دمکتا رہے گا۔ انہوں نے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے لیڈروں میں ایک ریاستی ادارے کی طرف سے رقوم بانٹنے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا اور ڈٹے رہے حالانکہ یہ اپنی نوعیت کا واحد واقعہ نہیں تھا، مگر اس نے بہت سے بند ذہنوں کو جھنجوڑ ڈالا۔

1901 میں وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے اک جدید جاسوسی کا بندوبست بنانے کا حکم جاری کیا تھا جو بقول پیٹرک فرنچ 1911 تک حجام کی دکانوں تک اس بندوبست کو مکمل کرتے ہوئے رپورٹ کر دیا گیا تھا۔ قبل اور بعداز تقسیم کی سیاست میں اس جاسوسی نظام کا اثر کلیدی ہے۔

پاکستانی سیاست میں انتخابی دھاندلیوں کا پہلا الزام مارچ 1951 میں پنجاب کے انتخابات میں لگا تھا جس میں آئی سی ایس افسران اور خفیہ اداروں کی مداخلتوں کی طرف اشارے کرتے ہوئے اخبارات نے 'جھرلو' کی سرخیاں لگائیں تھیں۔

یہی نہیں بلکہ انتخابات سے ایک دن قبل اک سازش کا انکشاف کرتے ہوئے کیمونسٹ پارٹی کے پنجابی کامریڈوں بشمول انقلابی شاعر فیض احمد فیض کو گرفتار کیا گیا تھا کہ غداری، کرپشن اور دباؤ کا 'گھما' بہت عرصے سے سیاسی مداخلتوں کا جزولاینفک۔

آئی جے آئی کا کیس اسی سلسلہ کا حصہ ہے، تاہم اصغر خان اس کے ذریعے جس بندوبست کو للکارتے رہے اس کے کل پرزے آج ہر سرکاری و غیر سرکاری ادارے بشمول میڈیا میں جڑیں رکھتے ہیں۔

1996 میں ائیر مارشل نے یہ کیس دائر کیا تھا کہ 1999 میں فیصلہ محفوظ کر دیا گیا۔ 12 سال بعد جب بظاہر عدالتیں آزاد ہو چکی تھیں تو بڑے دھوم دھڑکے سے اس کیس کو دوبارہ کھول دیا گیا مگر 2012 میں اک تاریخی فیصلے میں عدالت نے کسی کو خود طلب کرنے سے اجتناب ہی کیا۔

پڑھیے: جنگِ ستمبر کے متعلق ایئر کموڈور (ر) سجاد حیدر کی خصوصی تحریر

جنرل حمید گل اور جنرل مرزا اسلم بیگ تو کھلے عام اس بارے میں ایک سے زیادہ بار اقرار کر چکے تھے مگر ان کو بھی عدالت طلب نہ کر سکی۔ اس کیس کو کسی ایک جماعت یا ادارے کی نظر سے دیکھنے کا رجحان تو بہت حلقوں کو سوٹ کرتا ہے مگر مسئلہ اس قدر سادہ نہیں جیسے میڈیا میں پیش کیا جاتا ہے۔ جب پتہ چل جائے کہ حمام میں سب برہنہ ہی ہیں تو مٹی پاؤ پالیسی کو قومی مفاد میں چلایا جاتا ہے۔

انہوں نے ببانگ دہل کہا کہ بھارت پاکستان کو ختم نہیں کرنا چاہتا اور 1948ء کی کشمیر جنگ سے کارگل تک تمام جنگیں پاکستان نے شروع کیں۔ یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہا کہ فوج کا بجٹ کم کیے بغیر صحت، تعلیم وغیرہ پر رقم نہیں لگ سکتی۔

یہ بھی اصغر خان ہی تھے جنہوں نے بتایا کہ اگر 1948ء کے کشمیر جہاد میں خان قیوم خان کے بھیجے جہادی لشکر لوٹ مار نہ کرتے تو وہ بھارتیوں سے پہلے سری نگر ائیرپورٹ پر آسانی سے قبضہ کرسکتے تھے۔ اُن کی کہی اور لکھی باتوں پر بحث تو ہوسکتی ہے مگر جس جرات سے انہوں نے یہ سب باتیں کیں اُسے اگر ضد یا صاف گوئی کہیں تب بھی اُس کی بازگشت تادیر مؤرخین کو ستاتی رہے گی۔

بطورِ سپاہی وہ ائیر فورس ہی نہیں بلکہ فوج، نیوی اور تمام سیکورٹی اداروں کے لیے روشن مثال رہیں گے اور بطورِ دانشور مؤرخ اُنہیں بھول نہیں سکتا۔