سندھ کے ضلع تھرپارکر کے کونسل چیئرمین نے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو سندھ ایگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) کی جانب سے تھرپارکر کے عوام کو تھرکول منصوبے میں روزگار فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہ کرنے پر شکایتی خط تحریر کردیا ہے۔

وزیراعلی مراد علی شاہ کو لکھے گئے خط میں ایس ای سی ایم سی کو تعلیم یافتہ مقامی افراد کی تربیت اور اپنے وعدوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کی درخواست کی گئی۔

کونسل چیئرمین ڈاکٹر غلام حیدر سمیجو کے خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کمپنی کے 221 منیجرز میں سے صرف 28 منیجرز مقامی ہیں۔

وزیراعلیٰ سے شکایت کی گئی ہے کہ کمپنی کی جانب سے جن مقامی افراد کو روزگار دیا گیا ہے ان کو کم تنخواہ دی جارہی ہے۔

ڈسٹرکٹ چیئرمین کا کہنا ہے کہ 'مقامی 28 منیجرز میں سے صرف تین مستقل ہیں جبکہ دیگر تمام افراد کو عارضی طور پر روزگار فراہم کیا گیا ہے'۔

خوش حال تھر پروگرام کے حوالے سے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس پروگرام کے تحت 60 افراد کو تربیت دی گئی تھی لیکن ان میں سے کسی کا بھی تعلق تھر سے نہیں تھا۔

ایس ای سی ایم سی کی جانب سے 77 فیصد تھر سے تعلق رکھنے والے مقامی افراد کو روزگار فراہم کرنے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے کہ مائننگ پلانٹ میں جن مقامی افراد کو روزگار دیا گیا ہے وہ مزدور، روزانہ اجرت کی بنیاد پر کام کرنے والے یا وہ افراد ہیں جو ایک چینی کمپنی کے ساتھ کام کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں:’گیم چینجر منصوبہ، پاکستان کی تقدیر بدل دے گا‘

خیال رہے کہ تھر کے کونسل چیئرمین کی جانب سے یہ خط دسمبر 2017 میں ڈسٹرکٹ کونسل کی جانب سے اس حوالے سے منظور کی گئی قرار داد کی بنیاد پر تحریر کیا گیا ہے۔

ایس ای سی ایم سی کے ترجمان محسن بابر نے شکایت کنندگان کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چند مقامی سیاست دانوں کی جانب سے ایسے امیدواروں کو کمپنی میں روزگار دینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں جو منصوبے میں ملازمت کے لیے اہلیت پر پورا نہیں اترتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'میرٹ کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا اور تھر کے باصلاحیت نوجوانوں کی قیمت پر کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا'۔

محسن بابر کا کہنا تھا کہ تھرکول بلاک ٹو سے متعلق منصوبے کے لیے گزشتہ 20 ماہ کے دوران 2 ہزار 433 افراد کو انتظامی اور غیرانتظامی شعبوں میں ملازمت دی گئی جن میں سے 75 فیصد کا تعلق تھرپارکر، 19 فیصد کا تعلق سندھ کے دیگر اضلاع سے جبکہ 6 فیصد ملازمین کا تعلق پاکستان کے دیگر صوبوں سے ہے'۔

ترجمان ایس ای سی ایم سی نے مزید کہا کہ غیرتربیت یافتہ افراد کی تعیناتی کوئی رکاوٹ نہیں کیونکہ مقامی افراد کی تربیت کے لیے ایک خصوصی ٹریننگ پروگرام شروع کیا گیا تھا۔