پاکستان کے اندر ایک بہت بڑی غلط فہمی پھیل رہی ہے کہ پاکستان نے چین کے ساتھ اپنی تمام تر دو طرفہ تجارت ڈالر کے بجائے یوآن میں کرنے کے دروازے کھول دیے ہیں۔ یہ سب تب شروع ہوا جب اس موضوع کے متعلق بار بار کیے جانے والے سوالات کے جواب میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2 جنوری کو پریس ریلیز جاری کی کہ ایسی تجارت سالوں سے جاری ہے اور چین کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے یوآن استعمال کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ "اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پہلے ہی ایل سیز کھلوانے اور سرمایہ کارانہ سہولیات کے حصول جیسی تجارتی اور سرمایہ کارانہ ٹرانزیکشنز کے لیے چینی یوآن کے استعمال میں مدد دینے والا ضروری ریگولیٹری فریم ورک نافذ کر رکھا ہے۔"

حقیقت میں یوآن وہ واحد کرنسی نہیں ہے جو غیر ملکی تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ ڈالر اور یوآن کے ساتھ ساتھ یورو اور جاپانی ین بھی اسی طرح استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

مگر پریس ریلیز میں زور دیا گیا تھا کہ بینک نے وہ نظام "پہلے ہی قائم" کر رکھا ہے جو یوآن کو تجارت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ مرحلہ حقیقت میں دسمبر 2011 میں شروع ہوا تھا جب چین اور پاکستان کے درمیان کرنسی کے تبادلے کا معاہدہ (سی ایس اے) طے پایا تھا۔

پڑھیے: سی پیک سے ہمیں کتنے فوائد حاصل ہوں گے؟

معاہدہ تین سالوں کے لیے تھا اور بعد میں اس کی تجدید کی گئی، اور پاکستان کو روپوں کے عوض 10 ارب یوآن تک تبدیل کرنے کی اجازت تھی۔ دستخط کے ایک ہفتے بعد ایک تحریری نوٹ میں اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد "تجارتی مقاصد کے لیے علاقائی کرنسیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے" اور چین کے لیے اس طرح کے معاہدے، جو کئی دیگر ممالک کے ساتھ بھی کیے جا رہے تھے، اس کے یوآن کو بین الاقوامی کرنسی بنانے اور ایک ایسے دور جس میں یوآن ڈالر کا مقابلہ کر سکے، کی تیاری کا حصہ تھے۔

آج چین کا کم از کم تیس دیگر ممالک کے ساتھ ایسا ہی معاہدہ ہے، جو 550 ارب ڈالر کے برابر ہے۔ مگر یوآن کو بطور بین الاقوامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں لانے کا خواب اب بھی ایک خواب ہی ہے۔

پاکستان کے معاملے میں سی ایس اے پر دستخط کے بعد اس کے عملی نفاذ کے لیے ضروری انتظامی تبدیلیاں لانے کے لیے ایک طویل وقت درکار تھا۔ دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کو ان مناسب ذرائع کی ضرورت تھی جس کے ذریعے یہ کرنسی تبدیل کی جا سکے۔ اس کے بعد انہیں ایسا مکینزم درکار تھا جس کے ذریعے وہ کرنسی کسی مقامی بینک میں دستیاب ہو۔

وہ مرحلہ 2013 میں اسٹیٹ بینک کے اعلان کے بعد ختم ہوا کہ یوآن سیٹلمنٹ سسٹم نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس کے کام کرنے کا طریقہ کار تھوڑا پیچیدہ تھا۔ اسٹیٹ بینک یوآن کی مسابقتی بنیادوں پر نیلامی کرتا تاکہ دیگر بینک اس میں حصہ لے سکیں۔ ان نیلامیوں سے یوآن کی طلب معلوم ہونے پر اسٹیٹ بینک چین سے مطلوبہ مقدار میں یوآن کا مطالبہ کرتا، اور اتنے ہی روپے بدلے میں چین کو ادا کر دیتا۔ اس وقت ایک یوآن کا ایکسچینج ریٹ 14 روپے مقرر کیا گیا تھا۔

بینکس اب اسٹیٹ بینک کو تین ماہ اور چھے ماہ کے لیے یوآن کی فراہمی کے لیے کہہ سکتے تھے۔ یوآن کے حصول کے بعد وہ اپنے کلائنٹس کو چینی کمپنیوں کو ادائیگی کے لیے یوآن فراہم کر سکتے تھے، چاہے وہ تجارتی ادائیگی ہو یا سرمایہ کاری۔ تاریخِ ادائیگی پر بینک اسٹیٹ بینک کو یوآن لوٹا دیتے، پاکستان وہ یوآن چین کو لوٹاتا، اور اپنے روپے واپس حاصل کر لیتا۔

پڑھیے: آئیے سی پیک کے حوالے سے کچھ چینیوں کی بھی سنیں

یوآن کی پہلی نیلامی جون 2013 میں ہوئی۔ ایک بھی بینک نے بولی نہیں لگائی۔ مارکیٹ کی جانب سے ذرا بھی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ مگر اسی دوران حکومتِ پاکستان ایک ادائیگیوں کے سنگین عدم توازن کا شکار ہو رہی تھی کیوں کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک گر چکے تھے۔ اس وقت کے اسٹیٹ بینک کے گورنر یاسین انور نے کرنسی کے تبادلے کی اس سہولیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی تعداد میں یوآن حاصل کیے (حقیقی اعداد و شمار کبھی بھی سرکاری طور پر جاری نہیں کیے گئے مگر میں نے ایک عوامی ایونٹ میں انہیں کہتے سنا تھا کہ یہ ایک ارب ڈالر کے برابر تھے)، انہیں ڈالر میں تبدیل کیا گیا، اور حاصل ہونے والے فنڈز کو زرِ مبادلہ کے ذخائر میں رکھ دیا گیا۔ نتیجتاً ادائیگیوں کے عدم توازن کا بحران کچھ ماہ کے لیے ٹل گیا۔

دسمبر 2013 میں دوسری نیلامی منعقد کی گئی مگر تب بھی کوئی بولی موصول نہیں ہوئی۔ مارکیٹ کی اس سہولت میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ تب سے لے کر اب تک اسٹیٹ بینک نے یوآن کی نیلامیاں بند کر دی ہیں، اور بینکس سے کہا ہے کہ جب بھی انہیں یوآن کی ضرورت ہو تو وہ اسٹیٹ بینک سے رابطہ کریں، اور یوں قلیل نوٹس پر بھی نیلامی منعقد کی جائے گی۔ مگر آج تک کسی بھی بینک نے اس پیشکش سے فائدہ نہیں اٹھایا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ تجارتی ادائیگیوں کے لیے یوآن کے استعمال میں دلچسپی صفر ہے۔

جب میں نے درآمد کنندگان کے ایک گروہ سے پوچھا کہ چین کو تجارتی ادائیگیوں کے لیے یوآن کے استعمال میں اتنی عدم دلچسپی کیوں ہے تو مجھے تین جوابات ملے۔ کچھ نے کہا کہ ان کی ضرورت ڈالر سے پوری ہو رہی تھی لہٰذا انہیں اس پیشکش میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ دیگر نے کہا کہ ڈالر کے برعکس یوآن روپے کے مقابلے میں کم مستحکم تھا (2011 میں یوآن 14 روپے کا تھا آج 17 روپے کا ہے)، چنانچہ وہ ایکسچینج ریٹ پر نقصان کا شکار نہیں ہونا چاہتے تھے۔ ایک اور گروہ نے کہا کہ یوآن کی سیوکت سے فائدہ اٹھانے کے لیے بینک کے جاری کردہ لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کی ضرورت پڑتی ہے جبکہ چین سے درآمد کی گئی چیزوں میں سے بڑی تعداد کی قیمت کم دکھائی جاتی ہے، اور خفیہ رکھنے کے لیے باقی ادائیگی کسی ایکسچینج کمپنی کے ذریعے کی جاتی ہے۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ ایل سی کے ذریعے یوآن میں ادائیگی کر کے باقی ادائیگی ڈالر کے ذریعے کیوں نہیں کی جا سکتی تو ان کا سادہ سا جواب تھا کہ "معاملات کو پیچیدہ کیوں کیا جائے؟" اگر میں ابھی ڈالر میں ادائیگی کر رہا ہوں تو آدھی ادائیگی کے لیے یوآن کی طرف کیوں جاؤں؟

چنانچہ 2 جنوری کے اسٹیٹ بینک کے اعلان میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ یہ ممکن ہے کہ فی الوقت چینی حکام صرف یوآن کے ذریعے ادائیگی کے نظام پر توجہ دے رہے ہوں۔ اس کے بعد ہی وہ یوآن کا استعمال بڑھانے کی جانب توجہ دیں گے۔ اس مقصد کے لیے کئی فوائد کی بھی پیشکش کی جائے گی، مگر تب تک کے لیے سب معمول کے مطابق چلتا رہے گا۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 11 جنوری 2018 کو شائع ہوا۔