آزاد کشمیر کے علاقے میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جند روٹ کوٹلی سیکٹر میں بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے 4 جوان شہید ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے جوان لائن کمیونیکیشن کی مرمت کے کام میں مصروف تھے، جن پر بھارتی سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کردی۔

آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ پاک فوج نے بھارتی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دیا اور فائرنگ کے نتیجے میں 3 بھارتی فوجیوں کو ہلاک کیا جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مزید پڑھیں: ایل او سی: بھارت کی بلااشتعال فائرنگ سے 3 فوجی جوان شہید

’خلاف ورزیاں علاقے کے امن و سیکیورٹی کیلئے خطرہ‘

بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کر کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج کیا گیا۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں علاقے کے امن اور سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں اور ہوسکتا ہے بھارت کوئی فوجی غلطی کر بیٹھے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ جان بوجھ کر شہری آبادی اور تعمیر و مرمت کی سرگرمیوں میں شریک فوجیوں کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت اور انسانی عظمت اور بین الاقوامی انسانی حقوق اور قوانین کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضبط سے کام لینے کی اپیلوں کے باوجود بھارت جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترجمان نے بھارت پر زور دیا کہ وہ 2003 کے جنگ بندی معاہدے پر عمل کرے، اس واقعے اور دیگر ایسے واقعات کی تحقیقات کرائے اور کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر امن برقرار رکھے۔

خیال رہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے 2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فائرنگ سے 3 پاکستانی شہری زخمی

نومبر 2017 میں پاکستان رینجرز اور بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ حکام کی ملاقات میں 2003 کے معاہدے پر عمل درآمد کی یقین دہانی کے باوجود بھارت کی جانب سے مسلسل خلاف وزری جاری ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 25 دسمبر 2017 کو بھی لائن آف کنٹرول پر بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ سے پاک فوج کے 3 اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔

29 ستمبر 2017 کو ایل او سی پر بھارتی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ سے 3 فوجی اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔

16 جولائی 2017 کو ایل او سی پر فائرنگ سے گشت پر مامور پاک فوج کی گاڑی اٹھ کے مقام کے قریب دریائے نیلم پر جا گری تھی جس کے نتیجے میں 4 فوجی اہلکار ڈوب گئے تھے۔