ماورائے عدالت قتل ازخود نوٹس: مفرور راؤ انوار کا پیغام میڈیا پر چلانے پر پابندی

اپ ڈیٹ 01 فروری 2018

ای میل

سپریم کورٹ میں ماورائے عدالت قتل کے حوالے سے نقیب اللہ محسود کے قتل سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں عدالت نے راؤ انوار کا پیغام میڈیا پر چلانے پر پابندی لگاتے ہوئے ملزم کی تلاش کے لیے ڈی جی ایف آئی اے کو انٹرپول کے ذریعے دنیا بھر کے ایئرپورٹس سے رابطہ کرنے کا حکم دے دیا۔

اس کے علاوہ عدالت نے آئی ایس آئی، آئی بی، ایم آئی کو پولیس سے مکمل تعاون کرنے اور گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ میں نقیب اللہ محسود ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی، سماعت کے دوران انسپکٹر جنرل ( آئی جی ) سندھ پولیس اور ڈی جی سول ایوی ایشن بھی پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران اے ڈی خواجہ نے عدالت سے درخواست کی کہ تمام انٹیلی جنس اداروں کو کہیں کہ وہ واٹس ایپ لوکیشن کے لیے مدد کریں۔

جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ تمام انٹیلی جنس ادارے راؤ انوار کے معاملے میں پولیس سے مکمل تعاون کریں۔

چیف جسٹس اور اے ڈی خواجہ کے درمیان مکالمہ

سماعت کے دوران چیف جسٹس اور آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کے درمیان مکالمہ بھی ہوا۔

اے ڈی خواجہ نے عدالت کو بتایا کہ 13 جنوری کو پولیس مقابلے میں 4 دہشت گرد مارے گئے، جن میں سے 2 کی شناخت ہوئی 2 کی نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب ایک شخص کی لاش ملی تو سوشل میڈیا پر خبر آئی کہ یہ شخص بے گناہ مارا گیا، ہم نے 13 جنوری کو ہی اس واقعے کی رپورٹ لی اور معاملے پر انکوائری کمیٹی بنائی۔

جس پر چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ 4 افراد کو پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا؟ آپ نے بطور سربراہ کیا اقدامات کیے؟

چیف جسٹس کے استفسار پر اے ڈی خواجہ نے بتایا کہ اے آئی جی ثناء اللہ عباسی کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی اور 19 اور 20 جنوری کی درمیانی شب کو کمیٹی نے عبوری رپورٹ دی۔

انہوں نے بتایا کہ 20 جنوری کو راؤ انوار اور ان کی پوری ٹیم کو عہدوں سے ہٹایا گیا اور سندھ حکومت سے راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کی گئی۔

اے ڈی خواجہ کے جواب پر چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ راؤ انوار کے خلاف مقدمہ درج کیوں نہیں ہوا؟ راؤ انوار کو پاکستان چھوڑنے اور چھپنے کا موقع کیوں دیا گیا؟

چیف جسٹس کے سوال پر اے ڈی خواجہ نے جواب دیا کہ 13 جنوری کو پہلے ہی مقدمہ درج ہوچکا تھا جبکہ وزارت داخلہ کو خط لکھا راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا صرف خط لکھنا کافی ہے؟ راؤ انوار کے خلاف دوسری ایف آئی آر کیوں درج نہیں ہوئی؟

سماعت کے دوران اے ڈی خواجہ نے بتایا کہ راؤ انوار نے کراچی سے اسلام آباد بذریعہ جہاز سفر کیا۔

آئی جی سندھ کے جواب پر چیف جسٹس نے دلچسپ انداز میں کہا کہ اے ڈی خواجہ صاحب آپکی تحقیقات کمال ہیں، آپ کی کہانی ناول لگتی ہے، ہمیں لگ رہا تھا کہ آپ کہیں گے کہ بس پر لٹک کر یا گنے کے ٹرک پر راؤ انوار اسلام آباد آیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ راؤ انوار نے جہاز کے زریعے سفر کیا آپ کو معلومات کیوں نہیں ملیں؟ پولیس نے راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے ملک کے تمام ایئرپورٹس کو الرٹ کیوں نہیں کیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کی طرف سے راؤ انوار کو روکا نہ گیا بلکہ ایف آئی اے امیگریشن کی بہادر بیٹی نے معطل پولیس افسر کو روکا، اگر راؤ انوار بھاگ جاتا تو پتہ نہیں وہ کہاں ہوتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ راؤ انوار میڈیا سے رابطے میں رہے اور وہ کراچی سے اسلام آباد آیا کسی نے انہیں کیوں نہیں پہچانا؟

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے 36 گھنٹے دیے تھے، پولیس نے گرفتاری کے لیے ملک کے تمام ایئرپورٹس کو الرٹ کیوں نہیں کیا؟

جس پر اے ڈی خواجہ نے بتایا کہ راؤ انوار نے 19 جنوری سے تمام موبائل بند کردیے ہیں اور وہ واٹس ایپ کے ذریعے میڈیا سے رابطے میں ہیں جبکہ ہمارے پاس واٹس ایپ کو ٹریس کرنے کی سہولت موجود نہیں۔

ایک شہری کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کردیا گیا جبکہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہری کو بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں، چیف جسٹس

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ راؤ انوار کی آخری لوکیشن ترنول ڈھوک پراچہ میں تھی، جس پر ہم نے ایک ٹیم لکی مروت ،ایک اسلام آباد اور ایک اندرون سندھ میں بھیجی ہے۔

سماعت کے دوران اے ڈی خواجہ نے عدالت کو بتایا کہ راؤ انوار کو پکڑنے کے لیے تمام صوبوں کے آئی جیز سے رابطہ کیا تھا جبکہ آئی بی اور آئی ایس آئی کمانڈرز کراچی کو خط بھی لکھا تھا۔

آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ راؤ انوار کی ساری سروس پولیس کی ہے اور انہیں پتہ ہے کہ ملزم کو کیسے پکڑا جاتا ہے، تاہم ہم تمام انسانی وسائل استعمال کرکے راؤ کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اے ڈی خواجہ کے جواب پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خط لکھنے سے کیا ہوگا، بدقسمتی سے الزامات ہیں کہ نقیب اللہ محسود کو قتل کیا گیا اور میں ریاست ملوث ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک شہری کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کردیا گیا جبکہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہری کو بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اے ڈی خواجہ سے کہا کہ اگر کیس کے حوالے سے سیاسی دباؤ ہے تو ہمیں بتائیں، ہم پولیس کو تحفظ فراہم کریں گے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کیا آپ کو علم ہے آپ کے کام جاری رکھنے پر سپریم کورٹ کو کتنی تنقید کا نشانہ بنایا گیا؟

جس پر اے ڈی خواجہ نے جواباً کہا کہ اگر آپ کہیں تو میں عہدہ چھوڑ دیتا ہوں۔

اے ڈی خواجہ کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ عہدہ چھوڑنے سے کیا ہوگا؟ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ راو انوار گرفتار نہیں ہوا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے معطل ایس ایس پی ملیر کو پیغام دیا راؤ انوار سپریم کورٹ کی حفاظت میں آجاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں پھی کسی کی حفاظت نہ ملے۔

’فاٹا والوں کا غم اور خوشی مشترک ہے’

نقیب اللہ قتل از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت میں مقتول کے والد کا خط بھی پیش کیا گیا۔

مقتول کے والد نے خط میں لکھا کہ راؤ انوار میڈیا پر بولتے ہیں کہ وہ الحمد اللہ پاکستان میں ہیں، لہٰذا پولیس سے پوچھا جائے کہ دوران تفتیش وہ کیسے غائب ہوا، پورا فاٹا چیف جسٹس کے انصاف کا منتظر ہے۔

عدالت میں خط پڑھنے کے بعد چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ یہ ایک دکھی باپ کا پیغام ہے، فاٹا والوں کا غم اور خوشی مشترک ہے، میں فاٹا کے لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ فکر نہ کریں ہمارا دل آپ کے لیے دھڑکتا ہے، کسی دن فاٹا میں بھی عدالت لگا سکتا ہوں۔

نقیب اللہ کیس کی رپورٹ عدالت میں پیش

سپریم کورٹ آف پاکستان میں نقیب اللہ محسود قتل کیس کی سماعت کے دوران آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے رپورٹ جمع کرادی۔

عدالت میں پیش کردہ رپورٹ میں دو نکات کو سامنے رکھا گیا، ایک یہ کہ کیا نقیب اللہ پولیس مقابلہ حقیقی تھا اور دوسری نقیب اللہ کی پروفائل کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق بادی نظر میں نقیب اللہ پولیس مقابلہ جعلی تھا اور پولیس نے نقیب اللہ کو دو دوستوں کے ہمراہ 3 جنوری کو اٹھایا۔

پولیس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ نقیب اللہ کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا جبکہ اسے شدید تشدد کا نشانہ بنا گیا۔

عدالت میں پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ نقیب کے ساتھ حراست میں لیے گئے قاسم اور حضرت علی کو 6 جنوری کو چھوڑ دیا گیا، اسی دوران پولیس افسران نقیب اللہ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق نقیب اللہ کسی دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث نہیں تھا اور وہ ایک آزاد خیال طبیعت کا حامل شخص تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جانے والا ریکارڈ نقیب اللہ کا نہیں تھا جبکہ راؤ انوار جان بوجھ کر کمیٹی میں شامل نہیں ہوئے اور انہوں نے جعلی دستاویزات پر ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی۔

عدالت میں نجی جہازوں کی تفصیلات جمع

سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ڈائریکٹر جنرل ( ڈی جی ) سول ایوی ایشن سے استفسار کیا کہ آپ نے نجی جہازوں سے متعلق تفصیلات پیش کی ہی؟

جس پر ڈی جی سول ایوی ایشن نے بتیا کہ ہم نے رپورٹ داخل کردی ہے اور اس رپورٹ میں 10 سے 29 جنوری تک فلائٹس سے متعلق بیان حلفی دیا گیا ہے۔

ہمیں لگ رہا تھا کہ آپ کہیں گے کہ بس پر لٹک کر یا گنے کے ٹرک پر راؤ انوار اسلام آباد آیا، جسٹس میاں ثاقب نثار

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس عرصے کے دوران 4 آپریٹرز نے فلائٹس کیں جبکہ 3 ذاتی جہاز کی پروازیں کی گئیں۔

ڈی جی سول ایوی ایشن کے جواب پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ ذاتی جہاز کا مالک کون ہے؟

جس پر انہوں نے بتایا کہ غوث صاحب کنٹریکٹر ہیں جبکہ ملک ریاض طیارے کے مالک ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے پھر سوال کیا کہ بیان حلفی ملک ریاض نے دیا ہے؟ جس پر ڈی جی ایوی ایشن سے بتایا کہ بیان حلفی ملک ریاض کے سی ای او نے دیا ہے۔

اس موقع پرچیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملک ریاض کے بیٹے کہاں ہیں؟

جس پر ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ علی ریاض اس وقت ملک سے باہر ہیں۔

عدالت میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے حکم دیا کہ علی ریاض کی طرف سے ایک یا دو دن میں بیان حلفی جمع کرایا جائے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ہم راؤ انوار کی سروس اور سفری پروفائل چیک کریں گے۔

اس موقع پر عدالت نے راؤ انوار کی سفری اور سروس کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے سماعت 13 فروری تک ملتوی کردی۔