فاروق ستار کی کامران مجبوری

اپ ڈیٹ 07 فروری 2018

ای میل

ایم کیو ایم کی نئی سرگرمیاں دیکھ کر وہ فلمیں یاد آجاتی ہیں جن میں روبوٹس میں انسانی جذبات جاگتے دکھائے گئے ہیں۔ کبھی یہ جماعت الطاف بھائی کی ’میں قومی موومنٹ‘ تھی، جسے منزل نہیں راہ نما چاہیے تھا، جس کا آئین، منشور، نظریہ سب کچھ الطاف حسین کی ذات میں تھا، یہی وجہ ہے کہ اتنا کچھ سمانے کے بعد بھائی میں گنجائش ختم ہوگئی اور وہ پھولتے پھولتے ایک دن پھٹ پڑے، اس ’بگ بینگ‘ کے نتیجے میں ’ایم کیو ایم لندن‘، ’ایم کیو ایم پاکستان‘ اور ’نئے فاروق ستار بھائی‘ وجود میں آئے۔

اس ’میں قومی موومنٹ‘ میں راہ نما اور کارکن جب بولتے تھے تو ان کے ہونٹوں پر ’جی بھائی، جی جی بھائی‘ کے الفاظ ہوتے تھے یا یہ وضاحت کہ ’بھائی نے جو کہا اس کا مطلب یہ ہے کہ‘۔ لیکن اب ایم کیو ایم پاکستان میں ’کیوں‘ اور ’نہیں‘ کے لفظ بھی متعارف ہوچکے ہیں۔

چوں کہ بھائی لوگوں کا ان الفاظ سے تعارف نیا نیا ہے اس لیے ان کھلونوں سے خوب کھیلا جارہا ہے۔ اب کامران ٹیسوری ہی کا معاملہ لیجیے۔ اگر الطاف بھائی کامران ٹیسوری تو کیا کسی بند بوری کو بھی ہر ضابطہ توڑ کر رابطہ کمیٹی میں لے لیتے یا سینیٹ کا ٹکٹ دے دیتے تو ’جی بھائی‘ کے سوا کوئی آواز نہ آتی، لیکن خود کو قائد اور ’نیا بھائی‘ سمجھ کر فیصلے کرنے والے فاروق ستار کو یہ فیصلہ مہنگا پڑگیا ہے۔

مزید پڑھیے: میں نے عمران کو ہنستے دیکھا

ویسے اپنے فاروق بھائی بھی خوب ہیں۔ ان کے جس نئے طرزِ سیاست نے ’میرے پاس ماں ہے‘ کے فلمی ڈائیلاگ کا عنوان پایا تھا اب وہ اندازِ سیاست پوری فلم بن چکا ہے، جس کے لیے موزوں ترین نام ’یارانہ‘ ہونا چاہیے۔ عامر خان سمیت پارٹی کے راہ نما منہ بسورے کھڑے ہیں اور ڈاکٹر فاروق ستار، کامران ٹیسوری کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے جھوم جھوم کے گا رہے ہیں ’یہ دوستی ہم نہیں چھوڑیں گے، توڑیں گے ایم کیو ایم، تیرا ساتھ نہ چھوڑیں گے۔‘

ایک پُرانا نغمہ ہے، ’دوستی ایسا ناتا جو سونے سے بھی منہگا‘ اور یہاں تو یہ دوستی واقعی سونے میں ڈھلی ہوئی ہے، کون نہیں جانتا کہ کامران ٹیسوری کا خاندان سونے کے بیوپار سے وابستہ ہے۔ ٹیسوری صاحب کی مخالفت میں آواز اٹھانے والے ایم کیو ایم کے راہ نما شاید اس محاورے سے دھوکا کھاگئے کہ سو سنار کی ایک لوہار کی۔ ویسے تو ہمارے ہاں لوہار پر بھی بُرا وقت آتا ہے تو وہ ’کیوں نکالا‘ کی فریاد کرتا پورے ملک میں پِھرتا ہے مگر کوئی نہیں سُنتا، لیکن بھیّا یہ محاورہ سنار اور لوہار کے اوزاروں کی آوازوں کا فرق بتاتا ہے، ان کی مالی حیثیت کا نہیں، جب مال کا معاملہ ہو تو سنار ہی کی چلے گی ناں۔ بس تو با آسانی سمجھ میں آجاتا ہے کہ کامران ٹیسوری فاروق بھائی المعروف بہ ’معصوم‘ کے لیے کامران مجبوری اور کامران ضروری بن چکے ہیں۔

اب یہ مت پوچھیے گا کہ کیسی مجبوری، سب ہم ہی بتائیں کیا؟ بھئی دیکھیے، جو چندہ پارٹی کا کام دھندا چلاتا تھا یا یوں کہیے کہ جس دھندے سے چندہ آتا تھا وہ موئے آپریشن نے بند کر ڈالا۔ گلی کے بھائی رشید کی چندہ ہو یا رسید والا چندہ، لوگ الزام تو لگاتے ہی ہیں، سو اس چندے کو بھتّے کا نام دے کر خوب بدنام کیا گیا۔ حالاں کہ یہ چندہ اسلحے کے زور پر نہیں بل کہ بڑے پیار بڑی اپنائیت سے مانگا جاتا تھا، کوئی ساتھی بڑی محبت سے محبت نامے کی طرح ایک پرچی دے دیتا تھا، ہم نے ایسی کوئی پرچی دیکھی نہیں، لیکن یقیناً اس پر دل بنا اور اس میں تیر گڑا ہوتا ہوگا، تیر کمان کے زمانے گزر گئے تو ممکن ہے دل میں گولی پیوست کردی جاتی ہو، بہرحال، اس محبت نامے میں تعویز کا سا اثر ہوتا تھا، جسے پڑھتے ہی پڑھنے والا پیسے حوالے کرتے ہوئے کہتا تھا، ’یہ لو چندہ اے چندے آفتاب چندے ماہتاب!‘

مزید پڑھیے: ’ہم جسے بندہ سمجھتے تھے وہ نظریہ نکلا‘

اگر کوئی عقل کا اندھا چندہ نہ دے سکے تو اﷲ کا کرنا ایسا ہوتا تھا کہ اس کی زندگی کا کاروبار مندا ہوجاتا تھا یا فیکٹری میں آگ لگ جاتی تھی۔ ان واقعات سے الطاف بھائی کے پیر صاحب ہونے کی بھی تصدیق ہوتی ہے اور ان کی کرامات پر ایمان لانا پڑتا ہے۔ بہرحال، چندہ کو گرہن لگنے کے بعد پارٹی کے مالی معاملات چلانے کے لیے فاروق بھائی کو چمک تو چاہیے تھی ناں اور سونے سے زیادہ چمکتی چیز کیا ہوگی؟ اس صورت حال کی مزید تشریح اور تفسیر یہ ہے کہ کامران ٹیسوری، فاروق ستار کے جہانگیر ترین ہیں، جو ایم کیو ایم کے لیے بدترین ثابت ہورہے ہیں۔

اب لگتا ہے کہ ایم کیو ایم کی مزید ’چائنا کٹنگ‘ ہونے والی ہے۔ ہوسکتا ہے کچھ دنوں بعد آپ کو ’ایم کیو ایم پی آئی بی‘ اور ’ایم کیو ایم بہادرآباد‘ کے نام سُننے کو ملیں۔ یہ سلسلہ آفاق احمد اور عامر خان کے منحرف ہونے اور پھر ایم کیو ایم حقیقی بنانے سے شروع ہوا تھا، جس کے بعد طے پایا تھا کہ ’جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے۔‘ ایسے کتنے ہی حق داروں کو پورا پورا حق دیا گیا۔ پھر ایک دن مصطفیٰ کمال کا ضمیر جاگا اور رات کو جاگ کر بھوک کی وجہ سے ’اوں واں اوں واں‘ کرتے شیرخوار کی طرح رونے لگا۔

ضمیر کے ساتھ ہی مصطفیٰ کمال بھی جاگ اٹھے، چونک کر اردگرد دیکھا تو خود کو دبئی میں پایا۔ بس پھر کیا تھا روتے اور کہتے جاتے،’یہ آدمی ہمیں کہاں لے آیا۔‘ یہ کہتے اور روتے کراچی آئے اور پاک سرزمین پارٹی بنا ڈالی۔ ان کی پارٹی میں جو چلا جائے پاک ہوجاتا ہے اور سرزمین اس کے لیے کشورِ حَسین ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس ایم کیو ایم لندن زیرِ زمین ہے، جو بوری میں بند بالکل ساکت ہے، جسے متحرک کرنے کے لیے بار بار الطاف بھائی کو اپنے ڈانس کی وڈیو سوشل میڈیا پر لانی پڑتی ہے۔ الطاف بھائی کے ساتھ بریف کیس کی طرح لندن جانے والے سلیم شہزاد پر اتنے کیس ہیں کہ وہ مقدمات سے بھرا سوٹ کیس بن چکے ہیں، پھر بھی مصطفیٰ کمال کے ضمیر کی طرح ان میں بہادری جاگی اور وہ پاکستان پہنچ کر نئی جماعت بنانے کے لیے متحرک ہوگئے تھے۔ فی الحال ٹھنڈے پڑگئے ہیں، اگر دوبارہ سرگرم ہوئے تو ممکن ہے ایم کیوایم اورنگی بنا چھوڑیں۔

مزید پڑھیے: متحدہ مجلس ’عملیات‘

بس آخر میں دعا اتنی سی ہی ہے کہ اللہ ایم کیو ایم کو نظرِ بد سے بچائے، مگر ہمارا دل یہ سوچ سوچ کر ہول رہا ہے کہ یہ جماعت بھی اپنے راہ نماوں کے شادی ہالوں کی طرح منہدم ہورہی ہے اور بلڈوزر بھی سارے اپنے ہیں۔


یہ طنزیہ بلاگ ہے۔