اسماء قتل کیس: ’مرکزی ملزم نے اعتراف جرم کرلیا‘

اپ ڈیٹ 07 فروری 2018

ای میل

خیبرپختونخوا پولیس نے 3 سالہ کم سن بچی اسماء کے قتل میں ملوث مبینہ مرکزی ملزم کو گرفتار کرکے میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے اور وہ مقتولہ کا قریبی رشتے دار ہے۔

پشاور میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) صلاح الدین محسود نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اسماء قتل کیس میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور گواہ نہ ہونے کے باعث کافی مشکلات پیش آئیں اور ملزم تک جائے وقوع پر گنے کے کھیت میں ایک پتے سے ملنے والے خون کے قطرے کے ذریعے پہنچا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اسماء کیس میں بچی کی ڈی این اے رپورٹ میں ریپ کے لحاظ سے کسی بھی مرد کے ڈی این اے کے شواہد نہیں ملے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں 2 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جس میں 15 سالہ ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے گھبرا کر بچی کو قتل کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کا ممکنہ طور پر ’ریپ‘ کے بعد قتل ہوا،آئی جی خیبر پختونخوا

پریس کانفرنس میں صلاح الدین محسود کا کہنا تھا کہ حساس کیسز میں پولیس تیزی سے کام کرنے کی کوشش کرتی ہے، اسماء کے خاندان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے ہم پر اعتماد کیا۔

آئی جی کا کہنا تھا کہ بہت مشکلات سے اسماء کا کیس 25 دن میں حل کیا اور اس دوران کافی ایسی مشکلات بھی آئیں جس سے پولیس کا مورال کم ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسماء کیس میں گوجر گڑھی کے عمائدین پر مشتمل ایک کمیٹی بھی بنائی تھی تاکہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جاسکیں۔

اس موقع پر ریجنل پولیس افسر (آر پی او) مردان نے کیس کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گرفتار ہونے والا ملزم بچی کا قریبی رشتے دار ہے اور وہ شادی میں شرکت کے لیے اسماء کے علاقے میں آیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم کی عمر 15 سال ہے اور اسماء کا ریپ نہیں ہوا بلکہ ملزم نے ریپ کی کوشش کی تھی کہ بچی نے چلانا شروع کردیا، جس پر اس نے بچی کا گلا دبایا اور پھر ناک اور منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے قتل کردیا۔

آر پی او مردان نے بتایا کہ ملزم نے اعتراف جرم کرلیا ہے اور بچی کے جسم سے ملزم کے ناخن اور انگلیوں کے بھی نشان ملے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ٹیکنالوجی اور سراغ رساں کتوں کا استعمال کیا گیا تھا اور ڈی این اے کی رپورٹ ملتے ہی دونوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم محمد نبی ایک ریسٹورنٹ میں کام کرتا تھا اور وہ بچی کو گنے کے کھیتوں میں لے گیا تھا، جہاں اس کے ساتھ ریپ کی کوشش کی گئی۔

آر پی او کا کہنا تھا کہ ملزم نے اس کیس کے بارے میں اپنے دوست کو بتایا تھا، جس کے بیان کو پولیس نے شامل تفتیش کرلیا۔

اس موقع پر آئی جی نے کوہاٹ میں عاصمہ رانی قتل کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے 2 ملزمان سمیت آلہ قتل اور موٹر سائیکل برآمد کرلی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عاصمہ رانی کے خاندان کا بھی پولیس پر اعتماد ہے اور خیبرپختونخوا پولیس جرائم کے خاتمے کے لیے فرنٹ لائن پر اپنا کردار ادا کررہی ہے۔

مقتولہ اسما کے گھر نامعلوم شخص کا حملہ

خیبر پختونخوا کے علاقے مردان میں قتل ہونے والی 3 سالہ اسما کے کیس کے حوالے سے مبینہ ملزم کی گرفتاری کے بعد ایک نامعلوم شخص نے مقتولہ اسما کے گھر پر حملہ کردیا تاہم اہل محلہ نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔

حملہ آور نے مقتولہ اسما کے گھر کے دروازے کو توڑ کر اندر داخل ہوا اور وہاں پر اہل خانہ کو چھری دکھا کر ہراساں کیا۔

مقتولہ کے گھر میں موجود خواتین کی جانب سے شور مچانے پر اہل محلہ نے حملہ آور کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کردیا۔

حملہ آور کو پکڑنے کی کوشش کے دوران ایک شخص بھی زخمی بھی ہوا جبکہ اس دوران حملہ آور کو بھی زخم آئے۔

حملہ آور کی شناخت تاحال نہ ہوسکی تاہم ابتدائی رپورٹس کے مطابق وہ اسی علاقے کے رہائشی ہیں۔

آر پی اور عالم شنواری کا کہنا تھا کہ حملہ آور مبینہ طور پر نفسیاتی مسائل کا شکار ہے اور انھوں نے پولیس کی حراست میں خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش تاہم انھیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

ڈی پی اور مردان ڈاکٹر میاں سعید حملہ کا ایک دکاندار سے لین دین کا تقاضا ہوا تھا جس کے بعد انھوں نے کئی گھروں کے دروازوں کو لاتیں ماری تھیں۔

اسماء قتل کیس میں کب کیا ہوا

یاد رہے کہ 3 سالہ اسماء 14 جنوری 2018 کو اپنے گھر سے لاپتہ ہوئی تھی جس کے ایک روز بعد ہی 15 جنوری کو اسماء کی لاش گھر کے قریب کھیتوں سے ملی تھی۔

اس واقعے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے واقعے پر از خود نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اسماء قتل کیس: مقتولہ کے دو قریبی عزیز گرفتار

17 جنوری کو آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے ابتدائی میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق بتایا تھا کہ اسماء کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔

انہوں نے کہا تھا کہا میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا جبکہ رپورٹ میں بچی سے جنسی زیادتی کی بھی نشاندہی کی گئی۔

بعد ازاں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے پنجاب حکومت کو 145 افراد کے ڈی این اے نمونے دیئے گئے تھے، جن کی رپورٹ گزشتہ روز خیبرپختونخوا حکومت کو ارسال کی گئی۔

پنجاب حکومت کی جانب سے دی گئی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 145 ڈی این اے میں سے ایک نمونہ مقتولہ کے ساتھ میچ ہوا، جس کے بعد خیبرپختونخوا حکومت نے کارروائی کرتے ہوئے 2 ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔