نواز شریف کو عدلیہ سے کیا مسئلہ ہے؟

اپ ڈیٹ 10 فروری 2018

ای میل

گزشتہ کئی ماہ تک عدالتی تحمل کا مظاہرہ کرنے کے بعد اعلیٰ عدلیہ نے بالآخر سخت ردِ عمل دیا ہے۔ ایک سینیٹر کو توہینِ عدالت کی بناء پر سلاخوں کے پیچھے بھیج کر 5 سال کے لیے عوامی عہدہ رکھنے سے روک دیا ہے، جبکہ 2 وفاقی وزراء بھی انہی الزامات کی زد میں ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے بھی نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو توہینِ عدالت کے نوٹسز جاری کردیے ہیں۔

مگر اس سب نے سابق وزیرِ اعظم اور ان کے حامیوں کو جج صاحبان پر حملے کرنے سے باز نہیں رکھا ہے۔ عدلیہ اور نواز شریف کے درمیان تنازع اب بدصورت اور تباہ کن ہوتا جا رہا ہے، جبکہ کوئی بھی فریق نرمی دکھانے کو تیار نہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ اناؤں کا ایک ایسا ٹکراؤ ہے جس میں کسی بھی پینترے پر پابندی نہیں ہے۔

حقیقت میں نواز شریف کا لہجہ سپریم کورٹ کے تازہ ترین اقدامات کے بعد مزید باغیانہ اور معاندانہ ہوچکا ہے۔ قومی سیاست میں مرکزی مقام سنبھال چکی ان کی بیٹی تو اپنے بیانات میں نواز شریف سے بھی کہیں زیادہ تلخ ہیں۔ اصل میں بات صرف اس عدالتی فیصلے سے خفگی کی نہیں جس نے تیسری بار وزیرِ اعظم بننے والے نواز شریف کو نااہل قرار دے کر پورے خاندان کے لیے مسائل کھڑے کردیے، بلکہ اس کا زیادہ تعلق اس جھوٹے تفاخر سے ہے جس کی وجہ سے نواز شریف اپنی عدلیہ مخالف مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیے: ن لیگ کی سیاست اور مریم نواز کا کردار

سپریم کورٹ پیچھے نہیں ہٹی ہے اور لگتا ہے کہ اب یہ بھی جارحانہ موڈ میں آچکی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ ’اگر اس عدالت کے جج کمزور دل ہوتے اور اگر انہیں زبانی حملوں یا ننگی دھمکیوں سے ڈرایا یا جھکایا جاسکتا، تو جواب دہندہ، یعنی سینیٹر نہال ہاشمی نے واقعی اس کے لیے نہایت جراتمندانہ کوشش کی ہے۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ نہال ہاشمی اور وہ لوگ جن کی وہ اطاعت کرنا یا جنہیں خوش کرنا چاہتے ہیں، اچھے انسان شناس نہیں ہیں۔‘

بھلے ہی دوسری جانب سے کتنی بھی اشتعال انگیزی کی جائے، مگر جج صاحبان کا ایسی سخت زبان استعمال کرنا ایک نایاب بات ہے۔ کیا یہ غصہ ممکنہ طور پر شریف اور 2 وفاقی وزراء کے خلاف توہینِ عدالت کے مقدمے پر چھا سکتا ہے؟

واقعتاً معزز جج صاحبان اور ان کے خاندانوں کے خلاف اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز زبان جو نہال ہاشمی نے استعمال کی، اس کی حمایت کوئی نہیں کرسکتا۔ مگر پھر بھی ان کے غیر مشروط معافی مانگنے کے باوجود انہیں سینیٹ کی نشست سے فارغ کردینا اور انہیں جیل بھیج دینا ایسی سزائیں ہیں جو بظاہر کافی سخت ہیں اور ان سزاوں کی وجہ سے فاضل عدلیہ پر تنقید کا دروازہ کھول کر اسے 'بدلہ لینے پر آمادہ' قرار دیا جاسکتا ہے۔

یہ واضح ہے کہ نواز شریف کے حامیوں کی یہ بیان بازیاں ایک نہایت نپا تلا سیاسی حربہ ہیں اور اس کا مقصد جج صاحبان کو ایسے وقت میں دباؤ میں لانا ہے جب احتساب عدالت سابق وزیرِ اعظم اور ان کے خاندان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات سمیٹنے کے نزدیک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ نواز شریف مظلومیت کا پتّہ بھی کھیل رہے ہیں تاکہ عوامی ہمدردی جیتی جاسکے اور اگلے عام انتخابات کے لیے حامیوں کو اکھٹا کیا جاسکے۔

مگر جج صاحبان سے بھی احتیاط کی توقع کی جاتی ہے۔ یہ واقعی عدلیہ کے لیے ایک امتحان کا وقت ہے کیوں کہ اس وقت یہ حد سے زیادہ فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ اگر عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کی حدود میں داخل ہوجائے تو اس کے سیاسی ہوجانے کا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے۔ اس سے پہلے ہم دیکھ چکے ہیں کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں عدلیہ کا تقدس کس طرح پامال ہوچکا ہے۔ اگر عدالتی فیصلوں کی بنیاد عوامیت پسندی بننے لگے، تو یہ اس ادارے کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔

مزید پڑھیے: کیا عدالتی فیصلے نے نواز شریف کو نئی زندگی دے دی؟

اور یہ رجحان اب واضح ہے کیوں کہ اداروں کا ٹکراؤ شدید ہوتا جا رہا ہے۔ ہاں، سیاسی رہنماؤں کا عدلیہ کو بُرا کہنا قابلِ قبول نہیں ہے، مگر اعلیٰ ترین جج کو بھی عوامی بحث میں الجھنا زیب نہیں دیتا اور جج صاحبان کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ہر تنقید کا جواب دیں یا عوام میں اپنا دفاع کریں۔ انہیں صرف اپنے فیصلوں کے ذریعے بولنا چاہیے۔

عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان موجود تصادم پہلی بار نہیں ہوا۔ ہم نے ماضی میں بھی ریاست کے ان 2 ستونوں کے درمیان ٹکراؤ دیکھا ہے۔ یہ ہمارے نظام کی ناکامی کا مظہر ہے۔ ملکی تاریخ کے زیادہ تر حصے میں عدلیہ انتظامیہ کے ماتحت رہی ہے، پھر چاہے وہ سویلین انتظامیہ ہو یا ملٹری۔ اس سے اس کی آزادی کو زک پہنچی ہے۔

جب کبھی بھی اعلیٰ عدلیہ نے اپنا اختیار جتانے کی کوشش کی تو اسے انتظامیہ کی جانب سے سخت ردِعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی بھی فوجی حکومت میں جو پہلا کام کیا جاتا، وہ اعلیٰ عدلیہ میں اکھاڑ پچھاڑ ہوتا تاکہ کوئی بھی قانونی رکاوٹ دور کردی جائے۔ ملٹری ڈکٹیٹرز اسی طرح سپریم کورٹ سے اپنی حکومت کے لیے جواز حاصل کیا کرتے۔

عدلیہ کو اپنے قابو میں رکھنے کی یہ خواہش سول دورِ حکومت میں بھی کارفرما رہی ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ہر منتخب حکومت 1990ء سے لے کر اب تک سپریم کورٹ کے ساتھ نبردآزما رہی ہے۔ حتیٰ کہ 1996ء میں بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے خاتمے کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک وجہ اس وقت کے چیف جسٹس سے ٹکراؤ بھی تھی۔

مگر نواز شریف، جو ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کی مہربانیوں سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں، ان کے لیے کہانی بالکل مختلف ہے۔ بھٹوز کے کیس کے برخلاف عدلیہ روایتی طور پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے رہنما کے لیے نرمی دکھاتی رہی ہے۔ سپریم کورٹ پر حملہ کرنے اور جج صاحبان کو تقسیم کرنے کے بعد صرف نواز شریف کی حکومت ہی سزا سے بچ نکل سکتی تھی۔ اس وقت کے چیف جسٹس کو ان کے ساتھی ججوں نے گھر بھیج دیا۔

یہ پاکستان کی عدالتی اور سیاسی تاریخ کا سیاہ ترین موقع تھا جب جج صاحبان کو مبینہ طور پر چیف جسٹس کے خلاف بغاوت کرنے کے لیے رشوت دی گئی۔ یہی وہ ذہنیت ہے جس کے ساتھ نواز شریف اور ان کے حامی اب ججوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ یہ بھی عدلیہ پر ہی حملہ ہے، بس انداز مختلف ہے۔ طاقت کا خمار اور قانون سے بالاتر ہونے کا احساس ہے جس کی وجہ سے نواز شریف اور ان کے وفادار تصادم کی جانب جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیے: کیا نواز شریف پارٹی صدر بننے کا اخلاقی جواز رکھتے ہیں؟

نواز شریف کو اس وقت کوئی مسئلہ نہیں تھا جب سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں عدالت کو بے جا فعال کرکے یوسف رضا گیلانی کو توہینِ عدالت پر فارغ کردیا تھا۔ نواز شریف عدالت کے مخالف صرف تب ہوئے جب قانون ان کے خلاف حرکت میں آیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انصاف کی فراہمی اور شفاف ٹرائل یقینی بنانے کے لیے موجودہ عدالتی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عدلیہ کو سیاست میں اترنے اور جج صاحبان کو عوامی بحث کا حصہ بننے سے بچنا چاہیے۔ مگر نواز شریف کی عدلیہ مخالف تحریک کی بنیاد سیاسی اور مفاد پرستی پر مبنی ہے۔ وہ اصلاحات اس لیے نہیں چاہتے تاکہ عدالتیں آزاد ہوں، بلکہ اس لیے تاکہ وہ ان کے حکم کے تابع ہوجائیں۔

اس کھلے اور بے ضابطہ تصادم کو روکنا ہوگا اس سے پہلے کہ یہ پورا سسٹم تباہ کردے۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 7 فروری 2018 کو شائع ہوا۔