سینیٹ انتخابات: تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان معاہدے کا امکان

اپ ڈیٹ 13 فروری 2018

ای میل

پنجاب اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کی نشستوں کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) ایک معاہدے کے قریب پہنچ گئی ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) ان اپوزیشن جماعتوں سے ہاتھ ملانے میں شک و شبہات کا شکار ہے۔

اس حوالے سے دونوں جماعتوں کے درمیان معاہدے کے حوالے سے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) اس بات پر راضی ہوئی ہیں کہ جنرل نشستوں پر ایک دوسرے کے امیدواروں کو ووٹ دینا دوسرے درجے پر ترجیح ہوگی جبکہ خواتین کی نشست پر مسلم لیگ (ق) اس بات پر راضی ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی کی امیدوار عندلیب عباس کو ووٹ دینا پہلی ترجیح ہوگی۔

تحریک انصاف کی جانب سے پنجاب میں سینیٹ کی جنرل نشست پر سابق گورنر چوہدری سرور جبکہ مسلم لیگ (ق) کی جانب سے سینیٹر کامل علی آغا نامزد کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: مسلم لیگ (ن) 18 سال بعد سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بنے کو تیار

ذرائع کا کہنا تھا کہ تحریک اںصاف اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت اس بات پر راضی ہوئی کہ ایک دوسرے کے امیدواروں کے مقابلے میں اپنے امیدواروں کو واپس نہیں لے گی بلکہ ایک دوسرے کی حمایت میں ووٹ دینے کو دوسری ترجیح رکھیں گے۔

اس کے ساتھ ساتھ دونوں جماعتوں اور پیپلز پارٹی کے درمیان رغبت میں ناکامی رہی اور پیپلز پارٹی نے سابق وزیر اعلیٰ میاں منظور وٹو کے داماد شہزاد علی خان کو اس نشست کے لیے نامزد کیا ہے۔

اس بارے میں کامل علی آغا نے ڈان کو بتایا کہ اگرچہ تینوں اپوزیشن کی جماعتیں جنرل نشست کے لیے متفقہ امیدوار لانے پر راضی نہیں تھی، تاہم مسلم لیگ (ق) اور تحریک انصاف آپس میں کچھ مفاہمت تک پہنچیں ہیں، کس سے دونوں جماعتوں کو پنجاب میں فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دو آزاد امیدواروں اور جماعت اسلامی کے ایک امیدوار کا ووٹ بھی مسلم لیگ (ق) کے امیدوار کی حمایت میں ہی ہوگا جبکہ پیپلز پارٹی کو بھی اس بات پر راضی کرنے پر زور دیا جارہا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ق) کے حق میں اپنا امیدوار دستبردار کردے یا پھر پی پی پی کے ایم پی ایز کی دوسری ترجیح ان کے امیدوار کو ووٹ دینا ہو۔

کامل علی آغا نے بتایا کہ حکمران جماعتوں کے مختلف ایم پی ایس سے بھی ان کا رابطہ ہے اور کافی تعداد میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی نے پہلی اور دوسری ترجیح پر ووٹ دینے کا وعدہ کیا ہے، جو ان کی قیادت کے لیے کافی حیران کن ثابت ہوگا۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکریٹری جنرل چوہدری منظور کا کہنا تھا کہ دونوں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے متفقہ امیدوار لانے میں دلچسپی ظاہر نہ کرنے کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان کے امیدوار شہزاد خان جنرل نشست پر اکیلے مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا دیگر اپوزیشن جماعتوں کے لیے رویہ کافی سخت ہے اور ہم حیران ہیں کہ آئندہ انتخبات کے بعد یہ جماعت اتحادی حکومت بنانے کے لیے کس طرح دیگر سیاسی قوتوں کو ساتھ رکھے گی۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ انتخابات:پیپلز پارٹی 6، مسلم لیگ (ن) 3 نشستوں کیلئے پُرامید

ادھر پنجاب اسمبلی میں تحریک اںصاف کے اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے امیدوار چوہدری سرور سینیٹ انتخابات میں اچھی کارکردگی دکھائیں گے، ہم دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطے میں ہیں اور امید ہے کہ انتخاب کے دن دو آزاد رکن صوبائی اسمبلی ہماری حمایت کریں گے۔

چوہدری منظور کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے 31، مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کے 8، 8 امیدوار ہیں جبکہ دو آزاد امیدوار اور ایک جماعت اسلامی کے ووٹ سے اپوزیشن کے پہلے ترجیحی ووٹ 50 تک ہوجائیں گے، تاہم جنرل نشست میں اپوزشین کو ایک سیٹ حاصل کرنے کے لیے پہلی ترجیح پر 53 ووٹ کی ضرورت ہے۔


یہ خبر 13 فروری 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی