پولیس نے کراچی کے علاقے منگھوپیر میں میبنہ طور پر غیرت کے نام پر پھوپھی کو زخمی اور ان کے شوہر کو قتل کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔

اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) منگھوپیر حاجی ثنااللہ کا کہنا تھا کہ مقتول روزی خان اور زینب نے گزشتہ سال بلوچستان میں اپنی مرضی سے شادی کرنے کے بعد کراچی منتقل ہوگئے تھے اور منگھوپیر کے واندی شریف گوٹھ میں کرایے کے ایک مکان میں رہنے لگے تھے جہاں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مری قبیلے کے کئی خاندان رہائش پذیر ہیں۔

پولیس کا کہنا تھا کہ خاندان کے کئی افراد کی مخالفت کے باوجود زینب کی والدہ اور ایک بھائی نے ان کی شادی پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

قتل کے حوالے سے پولیس نے کہا کہ مبینہ مرکزی ملزم اپنے 5 ساتھیوں کے ہمرا جوڑے کے گھر میں داخل ہوا اور روزی خان پر فائرنگ شروع کردی اور وہ سر پر گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔

پولیس کے مطابق ملزم نے زینب کو بھی قتل کرنے کی کوشش لیکن ان کی بندوق نے کام کرنا چھوڑ دیا جس کے بعد انھوں نے چھری اور ڈنڈوں سے حملہ کرکے زخمی کردیا۔

زینب کو زخمی حالت میں عباسی شہید ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انھیں طبی امداد دی جارہی ہے۔

ملزم کو زینب کی جانب سے مزاحمت پر زخم آئے تھے جس کے علاج کے لیے وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ گلشن معمار میں ایک نجی ہسپتال پہنچے اور کہا ہے کہ انھیں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر زخم آئے ہیں تاہم پولیس نے خفیہ اطلاع پر انھیں دوراج علاج گرفتار کرلیا۔

مقتول روزی خان کے بھائی منگل خان کی مدعیت میں منگھوپیر پولیس اسٹیشن میں زینب کے بھتیجے سمیت 6 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی گئی ہے۔

مبینہ مرکزی ملزم کے ساتھ ہسپتال جانے والے دوست کے حوالے سے بھی قتل میں ملوث ہونے کا شک ظاہر کیا گیا تھا تاہم ایف آئی آر میں انھیں نامزد نہیں کیا گیا۔