سینیٹ انتخابات: ’پارلیمنٹ کے باہر ایف سی اور رینجرز تعینات کی جائے گی‘

اپ ڈیٹ 01 مارچ 2018

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے دوران صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر رینجرز اور فرنٹیئر کورپس (ایف سی) کے اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔

ای سی پی حکام کے مطابق ریٹرنگ آفیسر (آر او) کے اختیارات میں وسعت دے کر انہیں بااختیار بنایا جائے گا تاکہ انتخابات میں شفافیت کا عمل برقرار رہے اور خلاف ورزی پر بھی اقدام اٹھا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کے بعد سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی طاقت کو خطرات لاحق

واضح رہے کہ ایوان بالا میں سینیٹرز کی نشست 6 سال کی مدت پر محیط ہوتی ہے اور تقریباً ہر تیسرے سال 50 فیصد سینیٹرز ریٹائر ہوتے ہیں اور پھر خالی نشستوں پر نئے سینیٹرز کے لیے انتخابات کرائے جاتے ہیں۔

اس ضمن میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 27 میں سے 9 سینیٹ ارکان ریٹائر ہوئے جن میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے والے سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار بھی شامل ہیں۔

3 مارچ کو ہونے والے سینیٹ انتخابات میں ریٹرنگ آفیسر کو فرسٹ کلاس میجسٹریٹ کے اختیارات تفویض ہوں گے جس کے بعد کسی بھی غیر قانونی عمل کی صورت میں وہ بیلٹ پیپر منسوخ کرسکتا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر (ر) جسٹس سردار محمد رضا کی صدارت میں منعقد اجلاس میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے انتظامات کا جائزہ لیا گیا جس میں ریٹرنگ افسران نے بھی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں چوہے کی انٹری

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پولنگ اسٹیشن پر اجارہ داری، بیلٹ پیپر میں قصداً چھڑ چھاڑ، بیلٹ پیپر کو پولنگ حدود سے باہر لے جانے، بیلٹ پیپر کو غیر متعلقہ افراد کے حوالے کرنے، جعلی بیلٹ پیپر کے استعمال کی صورت میں ریٹرنگ افسر سمری ٹرائل کرسکتا ہے۔

ای سی پی کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 185، 184 اور 174 کے تحت ریٹرنگ افسر پولنگ ضابطہ اخلاق کی خلاف وزری پر سزا بھی سنا سکتا ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ ’ریٹرنگ افسران پولنگ مقام پر بے خوف ہو کر فرائض انجام دیں اور کسی بھی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن کو فوری آگاہ کرنے اور انتخابی عمل منسوخ کرنے کے مجاز ہوں گے‘۔

ای سی پی کے ایڈیشنل سیکریٹری ڈاکٹر اختر کے دستخط شدہ مراسلے میں کہا گیا کہ’سینیٹ انتخابات کے دوران تمام صوبوں اور اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 اور 220 کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پاکستان رینجرز اور فرنٹیئر کورپس تعینات کرے گی‘۔

مزید پڑھیں: ’سینیٹ انتخابات وقت پر ہونا مشکل‘

مراسلے میں مزید کہا گیا کہ ’یہ انتہائی قابل ستائش عمل ہوگا کہ اس ضمن میں پنجاب اور سندھ کے ڈائریکٹرز جنرل اور بلوچستان اور خیبرپختونخواں میں انسپکٹرز جرنل آف فرنٹیئر کورپس کو ضروری ہدایات جاری کردی جائیں کہ 3 مارچ کو منعقد سینیٹ انتخابات پر سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبرپختونخواں اسمبلیوں اور اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہررینجرز اور ایف سی کے اہلکار تعینات کیے جائیں‘۔


یہ خبر یکم مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں