یوں مارکس کی خاطر بچوں پر ذہنی ٹارچر ٹھیک نہیں!

اپ ڈیٹ 06 مارچ 2018

ای میل

عامر شام گئے دفترسے گھر لوٹا تو گلی میں غیر معمولی سناٹے کا راج تھا۔ گھر میں داخل ہوا تو وہاں بھی ہو کا عالم طاری تھا۔

’یااللہ خیر! کیا معاملہ ہے؟ اس نے گھر میں داخل ہوتے ہی بیوی سے استفسار کیا۔ بچے کہاں ہیں؟‘ یہ تو ان کے کھیلنے کا وقت ہے۔

’پڑھائی کررہے ہیں، آپ بھول گئے شائد، امتحانات سر پر ہیں۔‘

’اوہ اچھا! لیکن ایسا بھی کیا۔ سارے سال تو پڑھتے رہے ہیں۔‘

’آپ تو بس رہنے دیں۔ اسد اس سال بورڈ کا امتحان دے رہا ہے اور دانیہ کا او لیول اگلے سال سے شروع ہونے والا ہے۔ گریڈز اچھے نہ آئے تو کسی کالج اور اسکول میں داخلہ نہ ملے گا۔‘

’بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے، مذاق نہیں۔ میں نے تو کہہ دیا ہے کہ آج سے سب کھیل تماشے بند۔ اور آپ بھی ٹی وی ہلکی آواز میں دیکھیے گا۔‘

’ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ عامر سوچتا ہوا اٹھ گیا کہ نہ جانے امتحانات کے اس وبال سے کب جان چھوٹے گی۔ پہلے اپنی تعلیم تھی تو اب بچوں کی۔‘

ان دنوں ملک میں سالانہ امتحانات کا موسم شروع ہوچکا ہے۔ لہٰذا اسکول جاتے تمام ہی بچوں کے گھر میں سناٹے اور دہشت کا عالم طاری ہے۔ پارک اور کھیل کے میدان ویران اور کوچنگ و ٹیوشن سینٹرز آباد ہوچکے ہیں۔

ایسے میں والدین کی تشویش اور بچوں کی درگت ہر دوسرے گھر کا قصہ ہے۔

اس پس منظر میں اکثر گھر کے بزرگوں کو کہتے سنا ہے کہ خدا جانے آج کے دور میں پڑھائی کو کیوں اس قدر عذاب بنا رکھا ہے۔ پچھلے زمانے میں تو ہر گھر میں درجن بھر بچے مزے سے پڑھ لکھ جاتے تھے، لیکن نہ تو فیسیں ادا کرتے کرتے والدین کی جیب تنگ پڑجاتی تھی اور نہ بچے پڑھ پڑھ کر یوں ادھ موئے ہوتے تھے۔

پھر غور کیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ چوٹی کے عالم، شاعر، سائنسدان، سیاستدان اور دانشور انہی ادوار کی ہی پیداوار ہیں۔ آج کے نظام تعلیم نے تو محض دفتری کارکن اور کارپوریٹ ورکرز کی ایک کھیپ تیار کی ہے جو ساری زندگی فکرِ معاش اور طبقہ جاتی مسابقت کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔

پڑھیے: بچے کو ابتدائی تعلیم انگریزی میں کیوں نہیں دینی چاہیے

پاکستان ایجوکیشن کمیشن اور یونیسیف کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں اسکول جانے والے (5 سے 14 سال کی عمر کے) بچوں کی تعداد لگ بھگ 50 لاکھ ہے جن میں سے محض 27 لاکھ (یعنی 54 فیصد) خوش قسمت بچے اسکول کی شکل دیکھ پاتے ہیں اور ان میں سے بھی محض نصف بمشکل ہائی اسکول تک پہنچ پاتے ہیں، تاہم یہاں تذکرہ انہی خوش قسمت بچوں کا ہے جن کا بچپن فکرِ گریڈ اور ٹین ایج عارضہءِ پرسنٹیج میں صرف ہوجاتی ہے جبکہ جوانی غمِ روزگار اور اونچے معیارِ زندگی کی دوڑ میں۔

اس حوالے سے جب ہم نے کچھ ذی شعور والدین سے امتحانات میں کامیابی سے نپٹنے کے گُر پوچھے تو ان کا کہنا تھا کہ پڑھائی اور امتحانات کو خود کے اور بچوں کے حواس پر سوار کرنا صریحاً حماقت ہے۔ یمنیٰ جو ایک پڑھی لکھی خاتون اور دو ننھے بچوں کی والدہ ہیں ان کے خیال میں اگر بچے پورے سال پڑھتے ہوں تو امتحانات کے دوران گھر میں کرفیو جیسا ماحول پیدا کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں، اور اگر سارا سال ڈنڈے بجاتے ہیں تو امتحانات میں نمایاں گریڈز کے لیے دباؤ ڈالنا زیادتی ہے۔

اس کے برعکس والدین کو چاہیے کہ بچوں کو باور کروائیں کہ سال کی باقی رتوں کی طرح امتحان کا مختصر موسم معمول میں کچھ جز وقتی تبدیلیوں کا متقاضی ہے، جیسے پڑھائی پر دوسرے مشاغل کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ توجہ اور اس حوالے سے اپنے ٹائم ٹیبل میں مناسب تبدیلی وغیرہ۔

جہاں آراں (نام تبدیل کیا گیا ہے)، جو 2 ٹاپ اسکورر ٹین ایج بچوں کی والدہ ہیں، کہتی ہیں کہ امتحانات کے دوران متوازن خوراک اور مکمل نیند بہتر کارکردگی کی اولین شرط ہے۔ نیز بحیثیت والدین ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے بچوں کے انفرادی مزاج اور صلاحیتوں کو پہچانیں اور اس کے مطابق ان سے حقیقت پسندانہ توقعات وابستہ کریں۔

جہاں آراں کے مطابق ان کا بیٹا جو او لیول فائنل کا طالب علم ہے، ایک محنتی، منظم اور کھیل کود کا شوقین بچہ ہے، لہٰذا اسے پڑھائی کے ساتھ ساتھ انہوں نے کرکٹ کھیلنے کا بھی بھرپور موقع فراہم کیا، تاہم اس وعدہ کے ساتھ کہ اگر وہ اپنے شوق اور پڑھائی میں توازن رکھے گا اور بہتر گریڈز لائے گا تو اس کے شوق میں کوئی رکاوٹ نہیں بنے گا۔

پڑھیے: تعلیمی معیار کی پسماندگی میں امتحانی نظام کا کردار

اس کے برعکس، ان کی بیٹی، ذہین اور پُراعتماد لیکن لاابالی واقع ہوئی ہے جس کی دلچسپی پڑھائی سے زیادہ غیر نصابی سرگرمیوں میں رہتی ہے۔ لہٰذا اس کے میلان کو دیکھتے ہوئے جہاں آراں نے اس کے لیے مختلف آن لائن کورسز تلاش کیے اور اسے ترغیب دی کہ اگر وہ دل جمعی کے ساتھ پڑھائی کرے گی اور اپنی دلچسپیوں اور سرگرمیوں کو سلیقے سے ساتھ لے کر چلے گی تو اسے اپنے تمام مشاغل میں والدین کا بھرپور تعاون حاصل ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور کے بیشتر بچے از خود بے حد ہوشیار، ذمہ دار اور باصلاحیت ہیں۔ لہذا انہیں بے جا روک ٹوک اور ذہنی و جذباتی دباؤ کی بھٹی میں ڈال کے اعلیٰ نتائج کے حصول کی کوشش، والدین کی سب سے بڑی بھول ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ ریس کے گھوڑوں کی طرح سرپٹ دوڑتے یہ بچے، والدین کو تعلیم اور کھیل کے میدان میں کامیابی کے کچھ تمغے تو جتوا دیں، لیکن زندگی کے عملی میدان میں اکثر اپنا آپ، اپنی پہچان اور اپنا مقصد حیات گنوا بیٹھتے ہیں۔

معروف ماہرِ تعلیم اور مصنف الفی کوہن اپنی کتاب Punished by Rewards میں لکھتے ہیں ’اعلیٰ گریڈز ایک سزا ہیں جن کے حصول کے لیے بیشتر والدین خود کو اور بچوں کو مستقل اذیت میں مبتلا رکھتے ہیں۔‘ بظاہر یہ منطق عجیب معلوم ہوتی ہے تاہم غور کیا جائے تو موجودہ دور کے تعلیمی نظام کا قبلہ و کعبہ امتحان اور معراج، حصول نمبر اور گریڈز ہیں۔

اور کیوں نہ ہوں آخر یہ A اور A+ گریڈز کی چمک اور پرسنٹیج کی سیڑھی ہی تو ہوتی ہے جو نئی نسل کو اچھے اسکول سے بہتر کالج، بہترین یونیورسٹی، من چاہی نوکری، کاروبار اور قابلِ رشک معیارِ زندگی کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔ اکثر والدین کا قیاس ہے کہ اس میں اگر بے مول بچپن، لڑکپن، جوانی اور بے کار کے شوق اور رجحانات کی معمولی قربانی دینی پڑے تو سودا کچھ اتنا بُرا بھی نہیں ہے۔

تاہم دنیا کے ماہرِ تعلیم اور زیرک محقق اس بات پر متفق ہیں کہ روایتی طرزِ تعلیم، خواہ وہ عوامی میٹرک و انٹر سسٹم نظام ہو یا امپورٹڈ کیمبرج (او اور اے لیول) سسٹم، بچوں کی طبعی ذکاوت اور تخلیقی صلاحیتوں کے قطعی منافی ہے۔ اس پر امتحانات کا تازیانہ اور ناکامی کا خوف بیشتر بچوں کے سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے کی صلاحیت کو مفلوج کردیتا ہے۔

پڑھیے: ہم بچے نجی اسکولوں کے لیے ہی تو پیدا کرتے ہیں

سوال یہ ہے کہ ایسے میں والدین کریں بھی تو کیا؟ آخر بچوں کو تعلیم دلانا اور ان کا مستقبل بنانا ان کا فرض اولین ہے۔ اس حوالے سے تیزی سے بدلتے معاشی اور معاشرتی دنیا کے حقائق سے آگاہی، والدین اور بچوں کی بقاء کے لیے اشد ضروری ہے۔

جدید تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ جو بچے امتحانی میدان کے شہ سوار ہوتے ہیں، ضروری نہیں کہ عملی میدان میں بھی غیر معمولی کامیابی ان کا مقدر بنے۔ یہاں یہ امر قابلِ غور ہے کہ نئے معاشی نظام میں پُراعتماد ٹیم ورکرز اور تخلیقی سوچ رکھنے والے نڈر اور بے لوث افراد کی مانگ ہے جو مشکل اور فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت اور نقصان اٹھانے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔

تاہم سزا اور جزا سے جڑا ہمارا فرسودہ تعلیمی نظام اس وقت بھی ایسے روبوٹ تیار کرنے میں جتا ہے جن کی زندگی کا مقصد اولین، وائٹ کالر جاب، منزل ملٹی نیشنل ادارے میں سی ای او کی کرسی اور انتہا، بیرون ملک نوکری اور شہریت کا حصول ہے، تاکہ اپنی آئندہ نسلوں کا مستقبل دیارِ غیر میں محفوظ کیا جا سکے۔

سچ تو یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی خواہش میں کوئی بُرائی نہیں، بشرط یہ کہ اس کی قیمت ایک آزاد اور زندگی سے بھرپور روح کا کچلا جانا نہ ہو جسے زندگی کی تمام تر مادی آسائشیں تو مل جائیں لیکن سچی خوشی، سکونِ قلب، مخلص دوستیاں اور اپنوں کی صحبت نصیب نہ ہوسکے۔ کیونکہ معاشی ہوس کی اندھا دھند دوڑ میں ساتھ چلنے والوں کو روندنا عام رواج ہے۔ یہ موجودہ مسابقتی دور کا ہی شاخسانہ ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کا آن لائن نیٹ ورک تو بہت بڑا ہوتا ہے لیکن حقیقی زندگی میں نہ تو انہیں رشتے بنانے آتے ہیں، نہ دوستیاں نبھانا۔

فی زمانہ عالم یہ ہے کہ والدین اور بھائی بہن ایک چھت تلے رہتے ہوئے بھی کئی دفعہ بات چیت کے لیے موبائل کا سہارا لیتے ہیں، اکثر امتحانات کے دنوں میں ہونہار طلباء والدین سے زچ نظر آتے ہیں۔ ایسے میں کئی بچوں کو کہتے سنا ہے کہ امی جلدی بولیں جو کہنا ہے، میرے پاس وقت نہیں ہے۔ بابا لمبی بات کرنی ہے تو میسیج کردیں، میں بعد میں دیکھ لوں گا، ابھی کوچنگ کو دیر ہو رہی ہے۔

پڑھیے: تعلیم برائے فروخت ... قیمت؟

معروف ایجوکیشنل سائیکولوجسٹ اور ایجوکیشنل ریسورس ڈویلپمنٹ سینٹر (ERDC) کے روح رواں، جناب سلمان آصف صدیقی کا اس حوالے سے والدین کو مشورہ ہے کہ اگر وہ اپنے بچوں کو ایک فعال اور کامیاب انسان دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں غیر مشروط احترام، محبت اور توجہ دیں اور ان کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھیں۔ بُرے سے بُرے نتائج کی صورت میں بھی والدین کی مثبت سوچ اور متوازن ردِعمل، بچے کو مایوسی اور گمراہی سے بچا سکتا ہے۔

یوں دیکھا جائے تو گریڈز خراب آنے کی صورت میں سب سے زیادہ دل برداشتہ خود بچہ یا بچی ہی ہوتی ہے، ایسے میں والدین کی ڈانٹ ڈپٹ، مار پیٹ اور جذباتی ردِعمل اسے توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ نتیجتاً ایسے بچے اکثر جذباتی، زود رنج اور متزلزل شخصیت کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں جنہیں نہ خود پر اعتماد ہوتا ہے، نہ دنیا پر۔

جو بات بچوں اور والدین کے یاد رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ امتحانات محض ایک مرحلہ ہے نصاب سے متعلق طلباء کی یادداشت اور امتحانی تکنیک کی سمجھ بوجھ کا۔ اس سے نہ تو کسی فرد کی قابلیت جانچی جاسکتی ہے، نہ ہی اس کا علم اور شوق، لہٰذا والدین اسے زندگی اور موت کا مسئلہ نہ بنائیں۔ محض اپنی انا کی تسکین کی خاطر، ایک بچے کا کسی بھی دوسرے بچے سے موازنہ کرنا حماقت ہے۔

ناکامی کے خوف اور مسابقت کے جنون میں اسکول اور ٹیوشن سینٹروں کے ہاتھوں لٹنا اس سے بڑی بھول ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آپ کا بچہ یا بچی اپنی ذات میں منفرد صلاحیتوں کا مالک ہے۔

اسے اپنی رفتار اور رجحان کے مطابق پھلنے پھولنے دیں، اپنی شفقت کی پھوار اور تجربے کی مٹی سے اسے نمو ضرور دیں، لیکن امر بیل کی طرح خود کی ناتمام خواہشات اور حسرتوں کا بوجھ اس پر نہ ڈالیں، مبادا وہ ایک تناور درخت بننے کے بجائے آپ کے خوف اور امید کی گھٹن میں محض ایک کھوکھلے وجود کی صورت پروان چڑھے جو نہ پھل دیتا ہے نہ پھول اور نہ ہی سایہ، محض معاشی الاؤ کا ایندھن بن کر رہ جاتا ہے۔