بابری مسجد تنازع حل نہ ہونے پر بھارت میں خانہ جنگی کا خطرہ، ثالث کی تنبیہ

اپ ڈیٹ 07 مارچ 2018

ای میل

نئی دہلی: بابری مسجد تنازع کے ایک معروف ثالث اور ہندو مذہبی پیشوا روی شنکر نے خبر دار کیا ہے کہ اگر تنازع کا حل نہیں نکلتا اور مسجد کی جگہ پر مندر بنانے کی اجازت نہیں دی گئی تو ملک میں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کا کہنا ہے کہ بھارتی مذہبی پیشوا نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو عدالت میں لے جائے بغیر ہی حل کر لیں۔

انھوں نے خبر دار کر دیا کہ اگر عدالتی مداخلت کے بغیر یہ معاملہ حل نہیں ہوتا تو بھارت میں مذہبی بنیادوں پر بڑے پیمانے پر خانہ جنگی ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: بابری مسجد کیس:بھارتی عدالت کا تنازع مذاکرات سے حل کرنے کا مشورہ

بھارتی اخبار کا کہنا ہے کہ روی شنکر نے اے آئی ایم پی ایل بی کو لکھے گئے اپنے ایک کھلے خط میں خبر دار کیا ہے کہ اگر اس معاملے میں کورٹ سے رجوع کیا گیا تو یہ ہندو اور مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہوگا تاہم اس معاملے کو اگر عدالت کے باہر ہی حل کر لیا جائے تودونوں مذاہب کی اسی میں جیت ہو سکتی ہے۔

اپنے خط میں انھوں نے آئی ایم پی ایل بی کو تنازع کے چار ممکنہ حل پیش کیے ہیں جس کے مطابق عدالت مسلمانوں کو اس زمین سے دور کر سکتی ہے، یہ زمین ہندوؤں کو دی جاسکتی ہے، عدالت الہٰ آباد کے فیصلے کو برقرار رکھ سکتی ہے (جس میں ایک ایکٹر اراضی پر مسجد جبکہ 60 ایکٹر اراضی پر مندر بنانے کا حکم تھا) یا پھر پارلیمنٹ سے اس حوالے سے کوئی قانون سازی بھی کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بابری مسجد کی شہادت: عدالتی فیصلے سے قبل بھارتی تنظیم کا مندر قائم کرنے کا اعلان

اپنے خط میں روی شنکر نے اپنے خط میں کہا کہ مذکورہ 4 آپشنز میں سے جو بھی فیصلہ سامنے آئے لیکن اس کا نقصان بالعموم پوری قوم اور بالخصوص مسلمان برادری کا زیادہ ہوگا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بہترین حل عدالت سے باہر ہے جہاں مسلمان تنطیمیں آگے آئیں اور ایک ایکڑ زمین ہندووں کو تحفہ دیں جو بدلے میں قریب میں ایک بڑی مسجد کی تعمیر کے لیے 5 ایکڑ زمین تحفے میں دیے۔

روی شنکر نے اے آئی ایم پی ایل بی کے رہنماؤں سے کہا کہ اسلام مسجد کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی اجازت دیتا ہے اور اس کی تصدیق مولانا سلمان ندوی اور دیگر مسلمان اسکالرز نے کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مسلمان بابری مسجد کی زمین ایسے مسجد کو شہید کرنے والے لوگوں یا کسی خاص تنظیم کو نہیں دے سکتے تاہم دوسری جانب مسلمان یہ زمین بھارت کے عوام کو تحفے میں دے رہے ہیں یہ بات ان کے ذہن میں ہونی چاہیے یہ صرف ثالثی کے طور پر ہے اور ان کے وسعت قلبی اور خیر سگالی کا مظہر ہوگا۔

بھارتی اخبار کے مطابق سپریم کورٹ میں اس حوالے سے 14 مارچ کو سماعت ہوگی۔


یہ خبر 07 مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی