امریکی پورن اسٹار نے صدر ٹرمپ کےخلاف مقدمہ دائر کردیا

اپ ڈیٹ مارچ 08 2018

ای میل

نیویارک: امریکا کے صدر دونلڈ ٹرمپ پر ’جنسی روابط‘ کا الزام لگانے والی پورن اسٹار اسٹیفنی کلفورڈ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا۔

اسٹیفنی کلفورڈ نے دائر مقدمے میں موقف اختیار کیا کہ موجودہ امریکی صدر کے ساتھ جنسی روابط کے حوالے سے خاموش رہنے کا معاہدہ صدراتی انتخابات 2016 سے چند روز قبل طے پایا تھا لیکن اس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دستخط نہیں کیے تھے۔

واضح رہے کہ رواں برس جنوری میں پورن اسٹار اسٹیفنی کلفورڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماضی میں ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں نجی ہوٹل میں مدعو کیا۔

اس حوالے سے انہوں نے 2016 میں امریکی ٹی وی چینل اے بی سی کے ایک پروگرام میں پہلی مرتبہ یہ انکشاف کیا تھا کہ ان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے 2006 میں گالف ٹورنامنٹ کے دوران ہوٹل میں ملاقات ہوئی تھی۔

اسٹیفنی کلفورڈ نامی پورن اسٹار جو فلموں میں اسٹورمی ڈینیئلز کا نام استعمال کرتی ہیں، نے دائر مقدمے میں دعویٰ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل مائیکل کوہن نے انہیں ’منہ بند رکھنے اور جنسی روابط کے حوالے سے خاموش رہنے کی دھمکی‘ دی تاکہ ’امریکی صدر محفوظ‘ رہ سکیں۔

مقدمے میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور اسٹیفنی ڈینیئل کے مابین جنسی تعلقات 2006 سے شروع ہوئے جو ’2007 تک گہرے روابط‘ میں بدل گئے تھے۔

ٹرمپ کے وکیل مائیکل کوہن نے بھی اعتراف کیا تھا کہ معاہدے کی رو سے اسٹیفنی کلفورڈ کو 1 لاکھ 30 ہزار ڈالر ادا کیے گئے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ادائیگی کے بارے میں لاعلم ہیں۔

اسٹیفنی کلفورڈ کا موقف ہے کہ معاہدے پر صدر ٹرمپ نے دستخط نہیں کیے جس کی رو سے معاہدے کی شرائط پر عمل کرنا لازمی نہیں اور یہ معاہدہ غیر موثر ہے۔

۔
۔

خیال رہے کہ رقم وصولی کے حوالے سے جنوری 2017 میں پورن اسٹار نے یہ رقم وصول کرنے کی تردید کی تھی جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل نے بھی ان پیسوں کی حوالگی سے متعلق خبروں کو غلط قرار دیا تھا۔

دوسری جانب مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا کہ ’رقم کی ادائیگی کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ باخبر تھے‘۔

ہولی وڈ ٹیپ

گزشتہ برس اکتوبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہولی وڈ ٹیپ کے منظر عام پر آنے کے بعد 16 خواتین نے ان پر الزامات لگائے تھے، خیال رہے کہ اس ٹیپ میں ٹرمپ کو خواتین سے نازیباً انداز میں بات کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔

ٹرمپ کے خلاف الزامات لگانے والی ایک اور خاتون جیسیکا لیڈز نے نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ جب 1970 میں وہ ٹرمپ کے ساتھ جہاز میں بیٹھی ہوئی تھی تو انہوں نے ان کے ساتھ نازیبا حرکات کی اور یہ سب اتنا جلدی تھا اور خاموشی سے تھا کہ کسی نے انہیں کچھ بھی نہیں کہا تھا تاہم ٹرمپ کی جانب سے ان الزامات کو پہلے بھی مسترد کیا گیا تھا۔

می ٹو

اس سے قبل 12 دسمبر 2017 کو خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر می ٹو (Me Too) ’میں بھی‘ کے نام سے ٹرینڈ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اس حوالے سے سابق ملکہ حسن سامانتھا ہولوی نے دعویٰ کیا کہ 2006 میں مس امریکا کے مقابلہ حسن کے دوران ٹرمپ نے انہیں اور دیگر لڑکیوں کو پیار بھری نظروں سے دیکھا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ہم عام شہری ہیں اور ہمارے لیے خود کو وہاں سے نکالنا اور امریکا کو یہ دکھانا کہ وہ کیسے آدمی ہیں اور خواتین کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں کرنا آسان نہیں جبکہ ان کی جانب سے یہ کہنا کہ ہمیں کوئی فکر نہیں تکلیف دیتا ہے۔

سامانتھا ہولوی ان چار خواتین میں سے ایک ہیں جنہوں نے گزشتہ سال ٹرمپ کے خلاف الزامات لگائے۔

اسی عرصے میں ریچل کروک نے الزام لگایا تھا کہ 2006 معروف کاروباری شخصیت نے ان کی رضامندی کے بغیر ان کو بوسہ دیا تھا اور ساتھ ہی کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ ’پارٹی کی وابستگیوں کو ایک طرف رکھے اور ٹرمپ کی جنسی بدعنوانی کی تاریخ کی تحقیقات کرے‘۔

واضح رہے کہ یہ تمام الزامات اس وقت کے ہیں، جب ڈونلڈ ٹرمپ سیاست میں بھی نہیں آئے تھے، لیکن ان کے خلاف ایسے الزامات اس وقت سامنے آنا شروع ہوئے، جب انہوں نے امریکی صدر کے لیے انتخاب میں حصہ لیا۔

انتخابی مہم کے دوران بھی ڈونلڈ ٹرمپ پر خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے یا عورتوں کو برابری کے بنیاد پرعزت نہ دینے جیسے الزامات لگائے گئے، اور دنیا بھر کی خواتین نے ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔