پشاور ہائی کورٹ بینچ نے اپنے ہی چیف جسٹس کو نوٹس ارسال کردیا

اپ ڈیٹ 09 مارچ 2018

ای میل

پشاور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے بیورو کریسی سے عدالتی رجسٹرار اور ایڈیشنل رجسٹرار کی تعیناتی کے خلاف دائر پٹیشن میں چیف جسٹس، انتظامی کمیٹی اور صوبائی حکومت سے وضاحت طلب کرلی۔

پشاور ہائی کورٹ بینچ نے نوٹس چیف جسٹس پشاور کے پرنسپل اسٹاف افسر کو ارسال کیا۔

یہ پڑھیں: چیف جسٹس کا صوبائی حکومتوں کی تشہیری مہم کا نوٹس

واضح رہے کہ درخواست گزار ایڈووکیٹ علی عظیم آفریدی نے جسٹس اکرم اللہ خان اور جسٹس محمد ایوب خان پر مشتمل بینچ کے سامنے اعتراض اٹھایا کہ عدالت کے عہدوں، رجسٹرار اور ایڈیشنل رجسٹرار پر بیوروکریٹس کی تعیناتی آئین کے منافی ہے جس میں عدلیہ کو بیوروکریسی سے الگ رکھنے کی شق موجود ہے۔

ایڈووکیٹ علی عظیم نے عدالت سے استدعا کی کہ گزشتہ سال کی جانے والی ترمیم کو کالعدم اور غیر آئینی قرار دیا جائے جس کے تحت صوبائی اور وفاقی حکومت کے سول سرونٹ کو عدالتی رجسٹرار اور ایڈیشنل رجسٹرار کے عہدوں پر فائر کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یکم فروری 2017 کے نوٹیفکیشن میں محمد سلیم خان (بی پی ایس-20) کو ہائی کورٹ رجسٹرار اور ذکاء اللہ (بی پی ایس -19) کو ایڈیشنل رجسٹرار (ایڈمنسٹریشن) تعینات کیا گیا جو صریحاً غیر قانونی ہے۔

جس پر بینچ نے ریمارکس دیئے کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سینئر ججوں پر مشتمل انتظامی کمیٹی کو نوٹس کس طرح جاری کیا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: احد چیمہ کی گرفتاری: چیف جسٹس نے افسران کو احتجاج سے روک دیا

علی عظیم نے دلائل دیئے کہ سینئر جج کے فیصلے پر جج کو نوٹس جاری کیا جا سکتا ہے اورا س حوالے سے پی ایچ سی منسٹریل اسٹیبلشمنٹ رولز 1989 موجود ہے۔

انہوں نے وضاحت پیش کی کہ مزکورہ رولز کی روشنی میں ڈسٹرکٹ اور سیشن جج کو ٹرانسفر کرکے رجسٹرار جبکہ ایڈیشنل رجسٹرار کے لیے بھی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ یا ایڈیشنل سیشن جج کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا حاضر ڈسٹرکٹ یا سیشن جج کی پشاور ہائی کورٹ میں بطور رجسٹرار تعیناتی کا مقصد بھی یہ ہی ہوتا ہے کہ وہ عدالتی امور سے متعلق بہتر آگاہی رکھتا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ 27 جنوری 2017 کو ایک نوٹیفکیشن کے تحت رولز 1989 میں ترمیم کی گئی جس کا مقصد بیوروکریسی کے ہم خیال لوگوں کو عدلیہ کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

مزید پڑھیں: چیف جسٹس نے شاہ رخ جتوئی کی ہسپتال منتقلی کا نوٹس لے لیا

انہوں نے دعوٰی کیا کہ عدالتی رجسٹرار کا عہدہ (بی پی ایس 22) اور ایڈیشنل رجسٹرار کا عہدہ (بی پی ایس 21) پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ کوئی رولز اس کی اجازت نہیں دیتا کہ بی پی ایس 19 یا 20 گریڈ کے افسر کو عدالتی امور کے اہم عہدے پر تعینات کر دیا جائے اسی روشنی میں بینچ عدالت کی انتظامی کمیٹی کو دو افسروں کی خلاف ضابطہ تعیناتی پر نوٹس جاری کرے۔

دائر درخواست میں مدعی اعلیہ میں محمد سلیم خان (رجسٹرار)، ذکاءاللہ خٹک (ایڈیشنل رجسٹرار)، ہائی کورٹ انتظامی کمیٹی بذریعہ رجسٹرار، پشاور ہائی کورٹ چیف جسٹس بذریعہ پرنسپل اسٹاف افسر، صوبائی حکومت بذریعہ سیکریٹری قانون اور سپریم جوڈیشل کونسل شامل ہیں۔


یہ خبر 9 مارچ 2018 کو ڈان اخبارمیں شائع ہوئی