امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان پر ان کے قد اور وزن سے متعلق تنقید کی گئی اور ساتھ ہی دوستی کا اشارہ بھی دے دیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کبھی بھی کم جون ان سے نہیں ملے لیکن ایک دوسرے کا نام پکارتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے دونوں ہی ایک دوسرے کو طویل وقت سے جانتے ہیں جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حریف پر زیادہ تنقیدی جملے کہتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ ان کو ’میڈ مین‘ اور ’راکٹ مین‘ کے القابات سے پکار چکے ہیں جبکہ کم جونگ ان انہیں ’نامعقول‘ شخص کہہ کر مخاطب کیا تھا۔

سماجی رابطے کی وب سائٹ ٹوئٹر پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کم جونگ ان کے خلاف بیان پر شمالی کوریا کے میڈیا نے انہیں ’ایک پاگل بوڑھا شخص‘ کہہ دیا۔

مزید پڑھیں: ’پہلا بم گرائے جانے تک شمالی کوریا سے مفاہمت کی کوششیں جاری‘

اپنے طنزیہ ٹوئیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جب میں کبھی بھی کم جونگ ان کو ’چھوٹا موٹا‘ کہہ کر مخاطب نہیں کروں گا تو وہ مجھے ’بوڑھا‘ کہہ کر کیوں مخاطب کریں گے۔

اپنے ایک مزید ٹوئیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ بہت محنت کے ساتھ کم جونگ ان کے دوست بننے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ایک دن ایسا ہو جائے گا۔

ویتنام کے دارالحکومت میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی مشکل کام ہے لیکن کافی حد تک ممکن بھی ہے۔

انہوں نے شمالی کوریا کو مخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوجائے (کم جونگ ان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی دوستی) تو یہ شمالی کوریا کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہوگا۔

امریکی صدر اس وقت مشرقی ایشیائی ممالک کے دورے پر ہیں اور اس دوران انہوں نے مختلف مقامات پر خطاب کے دوران شمالی کوریا کے لیڈر کو ایک ’ظالم آمر‘ قرار دیا ہے، جبکہ انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے پیدا ہونے والے تنازع کا سفارتی حل نکالنے کی بھی پیشکش کی۔

شمالی کوریا اور امریکا کی لفظی جنگ

رواں برس جولائی میں شمالی کوریا کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کامیاب تجربے کے بعد اب امریکا شمالی کوریا کے میزائلوں کے نشانے پر ہے۔

بعد ازاں امریکا نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کے جواب میں اسے خبردار کرنے کے لیے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ طور پر ایک میزائل تجربہ کیا تھا۔

امریکی صدر نے بعدازاں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پیونگ یانگ کو اپنے ہتھیاروں کی وجہ سے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی بمبار طیارے کی شمالی کوریا کی فضائی حدود کے قریب پرواز

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے لیے بہتر ہے کہ وہ اب امریکا کو مزید دھمکیاں نہ دے ورنہ اسے ایسے غیظ و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا جو آج تک دنیا نے نہیں دیکھا۔

امریکی صدر کے اس بیان کے بعد شمالی کوریا نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’نامعقول‘ شخص قرار دے کر بحر الکاہل میں امریکی فوجی اڈے ’گوام‘ کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

بعد ازاں شمالی کوریا کے سپریم کمانڈر کم جونگ ان نے امریکی جزیرے گوام کو نشانہ بنانے کا منصوبہ ترک کرتے ہوئے امریکا کو آئندہ شمالی کوریا مخالف بیان دینے پر خبردار کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 72 ویں سالانہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کو ان کے عرفی نام ’راکٹ مین‘ سے مخاطب کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر انہوں نے جوہری ہتھیاروں کی پیداوار کو نہیں روکا تو امریکا شمالی کوریا کو 'مکمل طورپر تباہ' کردے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'راکٹ مین اپنی اور اپنی حکومت کی خودکشی کے راستے پر گامزن ہے'۔