پاکستانی سب جانتے ہیں

11 مارچ 2018

ای میل

کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ ہم پاکستانی دہشت گردی سے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور منہگائی اور سیاسی سرپھٹول سے مسلکی پھڈوں تک جو عذاب جھیل رہے ہیں، ایسے میں اگر بھارت سے اچھی فلمیں اور بُری خبریں تفریح اور خوشی لے کر نہ آتیں تو ہم کیسے جی پاتے؟

بھارت کی ناکامی ہو یا بدنامی، ہم مسرت سے جھوم اُٹھتے ہیں۔ تو بھیا بھارتیو! یہ کہاں کی ’دشمنی‘ ہے کہ ہماری خوشی کا سامان بنے ہوئے ہو۔

ایسا ہی کچھ سامان اس خبر کی صورت سامنے آیا جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک سروے کے مطابق حقائق سے لاعلم ممالک کی فہرست میں بھارتی عوام 5ویں نمبر پر ہیں۔

بھارتیوں کے نہ جاننے کے بارے میں جان کر ہمیں دُگنی خوشی اس لیے ہوئی کہ اُن کے مقابلے میں ہم پاکستانی سب کچھ جانتے ہیں، ہم میں سے ہر ایک کی ہر خبر پر نظر ہوتی ہے۔

ہمارے ہاں نہ جاننے سے بڑی اور کوئی ذِلت نہیں سمجھی جاتی، چنانچہ آپ کسی کے منہ سے گالی سے گانے تک سب سُن سکتے ہیں، لیکن ’مجھے نہیں پتہ‘ کے الفاظ سُننے کو ترس جائیں گے۔

آپ کراچی یا لاہور کی کسی سڑک پر کھڑے ہوکر کسی سے ایفل ٹاور، شانزے لیزے یا برُج الخلیفہ کا پتہ پوچھیں تو وہ پہلے ٹھوڑی کھجائے گا، پھر ٹھوڑی کو زیادہ کھجا کر پورے یقین کے ساتھ اشارہ کردے گا کہ ’بھیا! دائیں کو نکل جائیں، وہاں آپ کی منزل ملی ہی ملی۔‘

پڑھیے: پاکستان اور تازہ افکار: وقت کی ضرورت

میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی ایسا پاکستانی پیدا ہی نہیں ہوا جسے امراض کے طبی نسخوں اور موذی سے موذی بیماری پَل بھر میں غائب کردینے والے ڈاکٹر یا حکیم کا نہ معلوم ہو۔ اِدھر آپ نے بیماری کا نام لیا، اُدھر ہر زبان پر کسی طبیب کا نام آیا۔

معلومات کا سیلاب سینوں میں یوں مچل اور اُبل رہا ہوتا ہے کہ جہاں کوئی سماعت کا نشیب میسر آیا اور بس یہ بہہ نکلتا ہے اور پھر بہہ، بہہ کر سُننے والے کو بہرا کردیتا ہے۔ کبھی تو آپ کو اپنی صحت کا مسئلہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی بلکہ مسئلہ کھود کھود کر خود ہی نکال لیا جاتا ہے، تاکہ آپ پر حل تھوپا جاسکے۔

ایسے لوگوں کے مشوروں اور جانکاری سے بچنے کے لیے آدمی بھلے ہی پوشیدہ امراض کی طرح اپنا بخار، نزلہ، کھانسی، تپ دق، سرطان سب چھپالے، لیکن ’کتنے بچے ہیں‘ کے جواب میں لاولد ہونا کیسے پوشیدہ رکھے؟ بس پھر ’بچے نہیں ہیں‘ کے الفاظ کے ساتھ ہی سامنے والے کے منہ سے ڈاکٹروں، حکیموں اور اُن کی کرامات کا طویل سلسلہ جنم لینا شروع ہوجائے گا۔

پاکستانیوں کی معلومات کا دائرہ گلی مُحلے اور خاندانوں سے حکومتی ایوانوں، سازش کے خفیہ تہہ خانوں اور عالمی امور کے پیچیدہ جہانوں تک پھیلا ہوا ہے۔ گلی کے لُڈن بھائی، نورا، اللہ رکھا، چچا شبن سب کو خبر ہوتی ہے کہ ’کیا چل ریا ہے۔‘

پڑھیے: پاکستان پر آخر پاکستانی پیسہ خرچ کب کریں گے؟

کسی زمانے کے لسانی فسادات ہوں یا کہیں بم پھٹے، تھڑے پر بیٹھا کوئی بھی بھائی، چاچا، ماموں سرگوشی کے انداز میں آپ کو بتاتا تھا ’یہ سب حکومت کرا رئی ہے، صحیح بول ریا ہوں۔‘ پھر جب معلومات تک رسائی کا سلسلہ دراز ہوا تو ’ایجنسیوں کا ہاتھ ہے‘ اور ’امریکا کرا ریا ہے‘ کی باوثوق ذرائع سے حاصل شدہ خبریں پورے یقین بلکہ ایمان کے ساتھ دی جانے لگیں۔

ہمارے ملک میں لوگوں کے پاس خبروں اور معلومات کا خزانہ ہوتا ہی نہیں بلکہ ہر وقت تیار بھی رہتا ہے کہ لُٹادے ٹھکانے لگادے اِسے۔ فروغِ علم کے ایسے جتن آپ کو کسی اور ملک اور معاشرے میں کم ہی ہوتے نظر آئیں گے۔

آپ کو کسی شعبے سے دلچسپی ہو نہ ہو، جن صاحب کو اُس کی بابت جو معلوم ہے وہ آپ کے کان میں انڈیلے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ آپ کسی شادی کی تقریب میں بیٹھے بے چینی سے کھانا کُھلنے کا انتظار کر رہے ہیں کہ ساتھ بیٹھے صاحب شادی کے کھانوں کا تذکرہ چھیڑیں گے، پھر بریانی پر آکر رُکیں گے، اس کے بعد چاولوں کی اقسام، پکانے کے مختلف طریقے، اُن کے جل جانے اور لگ جانے کی وجوہات بتا کر اور اس سے متعلق واقعات سُنا کر آپ کو پکا بلکہ ہانڈی میں لگاکر جلا دیں گے، پھر اپنے اس ’پکوان‘ کو دیکھ کر اپنی معلومات پر فخر سے مُسکراتے رہیں گے۔

یوں تو ہم پاکستانی خلا سے پڑوس کی خالہ تک اور سیاست عالم سے پڑوس تک زندگی کے ہر شعبے کی معلومات رکھتے رہیں، مگر ملکی سیاست پر ہماری خاص نظر ہے۔ سیاست کا کون سا راز ہے جس سے ہم واقف نہیں۔ کون سیاستدان کیا کر رہا ہے؟ کیوں کر رہا ہے؟ کس سیاسی جماعت کا کیا ارادہ ہے؟ کیا منصوبہ ہے؟

پڑھیے: پاکستان: ہم سدھاریں گے

یہ جاننے کے لیے آپ کو بس گلی کے کونے، پان کے کھوکے یا کسی رشتے دار کے گھر تک جانا ہوگا، کسی بھری ہوئی بس میں خود کو پھنسانا ہوگا یا کسی دوست کو فون ملانا ہوگا، پھر سیاست کے سارے پردے اُٹھتے اور بھید کُھلتے چلے جائیں گے۔ سیاست سے عام پاکستانی کی یہ باخبری دیکھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے نواز شریف، عمران خان، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن ہم میں سے ہر ایک کے پھوپھی یا تایا کے بیٹے ہیں۔

ہمیں یہ سوچ سوچ کر حکومت پر غصہ آتا ہے کہ وہ پاکستانی قوم کی اس علمیت اور جانکاری کا فائدہ کیوں نہیں اٹھاتی؟ حالانکہ قومی معلومات سے مستفید ہوتے ہوئے خزانہ لبالب بھرا جاسکتا ہے۔ کرنا بس یہ ہوگا کہ پورے ملک کو درسگاہ قرار دے کر ساری دنیا کو دعوت دی جائے کہ، ’اپنی معلومات بڑھانے کے لیے پاکستان آئیے، ہمارے ملک میں ہر ایک سب کچھ جانتا اور اپنی ذات میں پورا میڈیا گروپ ہے، گلی گلی علم اور معلومات کا دریا بہہ رہا ہے۔‘

دیکھیے گا یہ پیغام عام ہوتے ہی دنیا بھر سے لوگ پاکستان پہنچنے لگیں گے اور ملک کی ہر گلی کاسمو پولیٹن سٹی بن جائے گی۔