پاکستان سپر لیگ کے تیسرے سیزن کا اِس لیے بھی شدّت سے انتظار تھا کہ اِس میں پہلی بار کسی نئی ٹیم کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ کے بعد کس شہر کا انتخاب ہوگا؟ اس ٹیم کے ساتھ کون کون ہوگا؟ اور یہ کیسی کارکردگی دکھائے گی؟ یہ سب وہ سوالات تھے جو کئی مہینوں سے شائقینِ کرکٹ کے ذہنوں میں گردش کر رہے تھے یہاں تک کہ 22 فروری 2018ء کا دن آ پہنچا، ہم نے ملتان سلطانز کا پہلا جلوہ دیکھا اور آنکھیں خیرہ ہوگئیں!

سیزن کے افتتاحی مقابلے میں ہی ملتان نے دفاعی چیمپیئن کے چھکے چھڑا دیے۔ 7 وکٹوں کی شاندار کامیابی ابھی ذہنوں پر حاوی ہی تھی کہ ملتان نے لاہور قلندرز کے خلاف بیٹنگ اور باؤلنگ دونوں میں جاندار کارکردگی بھی دکھا ڈالی اور اس بار پورے 43 رنز سے مقابلہ جیتا۔

2 بھاری فتوحات کے بعد ملتان کی ٹیم ثابت کر رہی تھی کہ وہ تر نوالہ نہیں بلکہ لوہے کا چنا ہے۔ پھر ایک ایسے وقت میں جب تمام ٹیموں کو زخمی ہونے یا دیگر وجوہات کی بناء پر اپنے اہم کھلاڑیوں سے محرومی کا سامنا تھا، یہ ٹیم کسی بھی بُری خبر سے بچتے ہوئے آگے بڑھتی چلی جارہی تھی۔ لگ رہا تھا کہ قسمت بھی سلطانوں کے ساتھ ہے اور کارکردگی تو دیکھیں، ابتدائی 6 مقابلوں میں صرف ایک شکست اور 9 پوائنٹس کے ساتھ سب سے نمایاں۔

لیکن … پوائنٹس ٹیبل پر سب سے اوپر رہنے والی ملتان سلطانز بالآخر گرتے گرتے یہاں پر آ پہنچی ہے کہ اب اس کے اگلے مرحلے تک جانے کا تمام تر انحصار دوسرے مقابلوں کے نتائج پر ہے۔

ملتان نے گزشتہ بدھ کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ہاتھوں ایک سنسنی خیز مقابلے میں شکست کھائی کہ جہاں نوجوان حسان خان نے آخری اوور میں چھکا لگا کر کوئٹہ کو کامیابی دلائی۔

بس یہی مقابلہ تھا جس کے بعد ملتان کے اوسان خطا ہوگئے۔ یہاں تک کہ اُس کو اگلے مقابلے میں لاہور قلندرز کے خلاف بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اُسی ٹیم سے جو مسلسل 6 میچز ہارنے کے بعد سیزن سے ہی باہر ہوگئی۔ ان 2 میچز سے ملنے والے زخموں پر، کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف شکستوں نے خوب نمک چھڑکا اور یوں مسلسل 4 ناکامیوں کے ساتھ ملتان اب دعاؤں کے آسرے پر ہے۔

آخر 2 دن میں ایسا کیا ماجرا ہوگیا کہ ملتان کی ٹیم اِس حال کو پہنچ گئی؟ درحقیقت کامیابی خامیوں کو چھپا دیتی ہے اور ناکامی ہر چھوٹا موٹا عیب نمایاں کر دیتی ہے۔ اس لیے ناکامی رحمت بھی ہے لیکن ہے یہ کڑوا گھونٹ، جسے پینا بڑا مشکل کام ہے۔ اب تو حالات ملتان سلطانز کے قابو سے بھی باہر ہوچکے ہیں۔ انہیں انتظار کرنا ہے پشاور زلمی اور کراچی کنگز کے باقی 2، 2 میچز کا، کیونکہ اب یہی مقابلے بتائیں گے کہ پلے-آف میں کون کون سی ٹیمیں پہنچیں گی؟

مزید پڑھیے: ملتان سلطانز، قسمت بھی ہے جن کے ساتھ!

بہرحال، ملتان کے زوال کی وجوہات پر غور کرتے ہیں۔ سب سے پہلی وجہ جس کی طرف بہت کم دھیان دیا گیا، اور وہ یہ تھی کہ پہلے مقابلے سے لے کر آخری میچ تک ملتان نے ٹیم میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں کی بلکہ تمام ہی اہم کھلاڑیوں کو سارے میچز کھلائے۔ کمار سنگاکارا، کپتان شعیب ملک، کیرون پولارڈ، عمران طاہر، سہیل تنویر، صہیب مقصود اور احمد شہزاد یہاں تک کہ محمد عرفان تک کو بھی تمام 10 مقابلوں میں کھلایا گیا۔

بلاشبہ یہ آٹھوں کھلاڑی بہت اہم ہیں لیکن یاد رکھیں کہ وسائل کا درست استعمال ہی مسلسل اور آخر تک فتوحات کا ضامن ہے۔ پھر ایسی لیگ میں تو مزید احتیاط کی ضرورت تھی کہ جہاں مسلسل 2 دنوں میں 2 میچز بھی کھیلے گئے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ چند کھلاڑیوں کو تو تمام میچز کھیلنا ہی پڑیں گے لیکن 8 کھلاڑیوں کی ہر مقابلے میں شرکت سے ثابت ہوتا ہے کہ صرف 3 نشستوں پر معمولی تبدیلیاں کی گئیں۔

اس کے بعد تو نتیجہ یہی نکلے گا کیونکہ ابتدائی کامیابیوں کے بعد بیشتر کھلاڑی تھکاوٹ کا شکار ہوئے اور پھر مسلسل 4 میچز ہار گئے۔ محمد عرفان ہی کو دیکھ لیں، ابتدائی 4 مقابلوں میں انہوں نے 7 وکٹیں حاصل کیں اور کامیابی میں اہم کردار ادا کیا لیکن آخری 4 میچوں میں وکٹوں کی تعداد صرف ایک ہے اور انہی تمام میچز میں ملتان کو شکست ہوئی۔

ایسا نہیں کہ ملتان سلطانز کے پاس بینچ اسٹرینتھ نہیں تھی۔ جب احمد شہزاد پے در پے ناکام ہو رہے تھے تب شان مسعود کو آزمانے کی ’غلطی‘ تک نہیں کی گئی۔ حالانکہ شان بہترین فارم کے ساتھ پی ایس ایل 3 میں آئے تھے۔ انہوں نے حال ہی میں ختم ہونے والے ریجنل ون ڈے کپ میں کئی کمال کی اننگز کھیلیں، جیسا کہ سیمی فائنل میں راولپنڈی کے خلاف 182 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز۔ ان کی آخری 5 اننگز سے اندازہ لگا لیں، 128 ناٹ آؤٹ، 90، 71، 182 ناٹ آؤٹ اور 51 لیکن اس کے باوجود انہیں ایک مقابلہ بھی نہیں کھلایا گیا۔

اُبھرتے ہوئے کھلاڑی کے طور پر ملتان نے پورے سیزن میں صرف ایک کھلاڑی کو موقع دیا، یعنی سیف بدر کو۔ جن کی صرف 4 مرتبہ بیٹنگ آئی، ان میں سے بھی 2 بار صفر پر آؤٹ ہوئے۔ ایک بار سیف کو گیند بھی تھمائی گئی، 2 اوورز پھینکے اور ایک وکٹ لی۔ اس کے علاوہ وہ صرف فیلڈ میں دوڑتے اور کیچز پکڑنے کی کوشش کرتے اور چھوڑتے ہوئے نظر آئے۔

غالباً ملتان سلطانز پورے سیزن کی واحد ٹیم ہوگی جو پورے سیزن میں صرف ایک اسپنر کے ساتھ کھیلی۔ عمران طاہر ڈرافٹ میں بھی ملتان کا پہلا انتخاب تھے اور وہی اُن کا آخری انتخاب بھی دکھائی دیے۔ ڈومیسٹک کرکٹ کا وسیع تجربہ رکھنے والے کاشف بھٹی کو ان کا ساتھ دینے کے لیے ایک بار بھی طلب نہیں کیا گیا۔ کچھ یہی حال باجوڑ ایجنسی کے محمد عرفان کا دکھائی دیا جنہیں ایک بار بھی اپنی لیگ اسپن باؤلنگ آزمانے نہیں دیا گیا۔

ضروری نہیں کہ یہ کھلاڑی کچھ کر دکھاتے، لیکن ٹیم کا توازن برقرار رکھتے ہوئے اگر انہیں مواقع دیے جاتے تو یہ اہم کھلاڑیوں پر پڑنے والے بوجھ میں حصہ بانٹ لیتے اور آخری مقابلوں میں یہ نتائج نہ نکلتے۔

ملتان سلطانز، روک سکو تو روک لو!

مسلسل 4 اور کل 5 شکستوں کے ساتھ اب ملتان کی تمام تر امیدیں آئندہ مقابلوں سے وابستہ ہیں۔ ملتانیوں کی دعائیں ہیں کہ جمعرات کو جب کراچی کنگز اور پشاور زلمی کا مقابلہ ہو تو کراچی دفاعی چیمپیئن کو شکست دے۔ یوں نہ صرف کراچی خود پلے-آف مرحلے تک جائے بلکہ اپنے ساتھ ملتان کو بھی لے جائے۔ اس صورت میں پشاور زلمی اور لاہور قلندرز پہلے ہی مرحلے میں باہر ہوجائیں گے۔

لیکن اگر ایسا نہیں ہوا، یعنی پشاور زلمی نے کراچی کو ہرا دیا تو پھر ملتان اور کراچی دونوں کو پشاور کے آخری میچ کا انتظار کرنا ہوگا کہ جہاں اُن کا مقابلہ لاہور قلندرز سے ہے۔ اگر پشاور زلمی یہ میچ بھی جیت گیا تو پھر راؤنڈ کے آخری مقابلے پر نگاہیں ہوں گی جہاں کراچی کنگز کو اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف لازمی کامیابی درکار ہوگی اور شکست ہوئی تو معاملہ نیٹ رن ریٹ پر چلا جائے گا۔

کراچی اور ملتان میں سے جس کا نیٹ رن ریٹ اچھا ہوگا وہ پلے-آف مرحلے میں جائے گا۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب بھی ملتان سلطانز دوڑ سے باہر نہیں ہوئی، بس یہ ہے کہ اب وہ قسمت اپنے زورِ بازو سے نہیں بدل سکتی کیونکہ اُس کے حصے کے 10 میچز مکمل ہوچکے ہیں۔ اب جو ہوگا، وہ دوسرے کریں گے اور ملتان اُن کے رحم و کرم پر ہے۔

ہاں، لیکن ایسا بھی بالکل ممکن ہے کہ ملتان کی ٹیم دعاؤں کے بل بوتے پر پلے-آف مرحلے میں پہنچ جائے اور اس کے بعد صرف 2 دنوں کا اچھا کھیل انہیں فائنل تک پہنچا دے اور جب 25 مارچ کو ہم کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں تاریخی فائنل دیکھیں تو 2 میں سے ایک ٹیم ملتان کی ہو، کیونکہ کرکٹ میں تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔