ہمیں اب چترال جانا تھا، مگر اُس زمانے میں راولپنڈی سے چترال ڈائریکٹ کوئی بس نہیں جاتی تھی۔ اس کے لیے یا تو پشاور جاکر چترال کی بس لینی پڑتی تھی یا پھر یہ کہ راولپنڈی سے دِیر کی بس میں بیٹھیں اور دِیر پہنچ کر چترال کی سواری ڈھونڈیں۔ راولپنڈی کے پیر ودھائی بس اسٹینڈ سے دِیر جانے والی گاڑی رات 9 بجے نکلتی تھی اور اس وقت 9 بجے ہوئے کافی وقت گزر چکا تھا اور دِیر کی بس ہمیں لے کر جرنیلی سڑک پر دوڑے جا رہی تھی۔ اسے اب رات بھر یونہی دوڑتے رہنا تھا۔

پنڈی سے ٹیکسلا، واہ، حسن ابدال اور کامرہ سے ہوتے دریائے سندھ تک پہنچنا تھا۔ اٹک پُل سے دریا کو عبور کرنا تھا اور صوبہءِ پنجاب سے نکل کر صوبہءِ سرحد میں داخل ہونا تھا۔ پھر خیرآباد، جہانگیرہ اور اکوڑہ خٹک سے ہوتے ہوئے نوشہرہ پہنچنا تھا۔ نوشہرہ میں جرنیلی سڑک سے جدا ہوکر دائیں طرف مردان روڈ پر مڑجانا تھا اور اس کے لیے دریائے کابل کو بھی عبور کرنا تھا۔

دریائے چترال—تصویر کری ایٹو کامنز
دریائے چترال—تصویر کری ایٹو کامنز

پھر مردان، تخت باہی اور درگئی سے گزرتے ہوئے سوات روڈ پر اپنا سفر جاری رکھنا تھا، لیکن مالاکنڈ کے بعد سوات روڈ کو بھی داغِ مفارقت دے کر دِیر چترال روڈ پر مُڑجانا تھا لیکن اس روڈ تک جانے کے لیے دریائے سوات کو ایک پُل سے عبور کرنا تھا، یعنی یہ کوئی اتنا آسان کام نہ تھا۔ 3 سڑکیں جی ٹی روڈ یعنی جرنیلی سڑک، مردان روڈ، سوات روڈ اور 3 دریاؤں یعنی دریائے سندھ، دریائے کابل اور دریائے سوات کو عبور کرنا تھا، یعنی بقول منیر نیازی:

گلی کے باہر تمام منظر بدل گئے تھے

جو سایۂ کوئے یار اترا تو میں نے دیکھا

اک اور دریا کا سامنا تھا منیرؔ مجھ کو

میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

لیکن منیر نیازی نے تو پھر بھی کچھ دیکھ لیا، ہم نے تو رات بھر کے اس سفر میں کچھ بھی نہ دیکھا اور یہ میں آج ان ساری منزلوں، سڑکوں اور دریاؤں کے بارے میں ویسے ہی معلومات عامہ کی بنیاد پر بولے جا رہا ہوں۔ ہاں اتنا ضرور یاد ہے کہ آدھی رات کو کسی وقت ہماری بس قصبہ درگئی کے اندر گئی تھی تو اس لمحے نہ جانے کیوں میری آنکھ کھل گئی تھی۔ پھر صبح آنکھ کھلی تو ہماری بس پہاڑی راستوں کے نشیب و فراز سے لپٹی ایک پرانی سی سڑک پر دوڑے جارہی تھی اور دور نیچے گہرائیوں میں ایک اور دریا بہہ رہا تھا۔ یہ نہ جانے کون سا دریا تھا؟ گوگل میپ پر دیکھتا ہوں، اوہو، یہ دریائے پنج کوڑہ تھا۔

صبح 8 یا 9 بجے دیر پہنچ گئے لیکن یہاں پہنچنے تک میرے ساتھ ایک ٹیکنیکل حادثہ ہوچکا تھا۔ رات کی مدہوش نیند اور پہاڑی راستوں پر گاڑی کے جھٹکوں سے کسی وقت میرا چشمہ اگلی سیٹ سے تصادم کے نتیجے میں ٹیڑھا ہوچکا تھا اور اس کی کمانی کے اسکرو بھی ڈھیلے ہوچکے تھے (جوانی میں صرف چشموں ہی کے اسکرو ڈھیلے ہوتے ہیں)، چنانچہ دِیر میں اترتے ہی سب سے پہلے ایک عینک ساز کی دکان تلاش کی لیکن اڈے کے پاس یا تو صرف چائے پراٹھے کے ہوٹل تھے یا پھر موٹر مکینکوں کے ورکشاپ۔ چنانچہ صبر کیا اور ایک ہوٹل سے لذیذ چائے پراٹھا زہر مار کیا۔

ناشتے کے بعد پھر چشمہ مرمت کی فکر لاحق ہوئی کیونکہ ہمارا نمبر اُس دور میں بھی خاصا بڑھا ہوا ہوتا تھا اور چشمے کے بغیر تصویرِ کائنات میں کوئی رنگ ہی نہیں نظر آ رہا تھا، جبکہ ہمارے اس سفر کی منزل بھی کوئی ایسی ہلکی نہ تھی، بلکہ دلکش مناظر کی سرزمین وادئ کیلاش تھی۔ چنانچہ چشمے کی مرمت ازحد ضروری خیال کی اور بازار میں دکان تلاش کرنے لگے۔ عینک ساز کی تو کوئی دکان نہ ملی البتہ ایک لیتھ مشین والا مل گیا۔ میں نے اسی کے سامنے اپنا مڑا تڑا چشمہ رکھ دیا اور ملتجیانہ نظروں سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔

’لیکن بھائی جان اس چشمے کا اسکرو ٹائٹ کرنے کے لیے بوہوت چھوٹا اسکرو ڈرائیور چاہیے، وہ تو میرے پاس نہیں۔‘ اس نے مایوسی سے سر ہلا دیا۔

’لیکن خان صاحب تم عام آدمی نہیں، تم لیتھ مشین والے ہو۔‘

’تو لیتھ مشین والا ہوں تو کیا کروں؟‘ وہ اچنبھے سے مجھے دیکھنے لگا۔‘

’اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے۔‘ میں گنگنایا۔

’کیا بولتا ہے یارا؟‘ اس کے ماتھے پر بل آیا۔

’بھائی پہلے تم لوہے سے ایک ننھا منا اسکرو ڈرائیور بناؤ، پھر اس سے میرے چشمے کے اسکرو ٹائٹ کرو۔‘ میں نے اپنے دانت نکال دیے۔ خان صاحب کی بھی ہنسی چھوٹ گئی۔

’بیٹھو بیٹھو بھائی ادھر۔ تمہارا کام ہوجائے گا۔ ناشتہ کرے گا؟‘

’نہیں خان صاحب، کرلیا ہے۔ شکریہ۔‘ میں اور باسط بڑے ممنون ہوئے۔

’تو پھر چائے تو لازمی پیو، اے لاکا۔۔۔‘ اس نے اپنے چھوٹے کو چائے کے لیے دوڑا دیا۔ جب تک ہم چائے پی کر فارغ ہوئے، چشمہ سیدھا ہوچکا تھا اور اس کے اسکرو بھی ٹائٹ ہوچکے تھے۔ خان صاحب نے چشمے کے ساتھ ساتھ اپنا بنایا ہوا ننھا منا اسکرو ڈرائیور بھی میرے حوالے کیا۔ ’یہ بھی آپ لے لو، آگے سفر میں چشمہ پھر ڈھیلا ہوگیا تو اس پیچ کش سے ٹائٹ کرلینا۔‘

’خان صاحب پیسے؟‘ میں نے اپنا پرس نکالا۔

’یارا، یہ زیادتی نہیں کرو ہمارے ساتھ۔ تم کراچی کا مہمان ہے۔ ایک تو تم نے ناشتہ نہیں کیا ہمارا اور پھر ہم کو پیسے بی دیتا ہے۔ یہ زیادتی ہے۔‘

میری آنکھیں پہلے چمکیں اور پھر نم ہوگئیں، ’شکریہ، شکریہ خان صاحب۔‘

اڈے کی طرف واپس آتے ہوئے میں نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو دیر کا لیتھ مشین والا اپنی دکان کے باہر کھڑا ہوا ہمیں جاتا دیکھ رہا تھا۔ ہمارے پیچھے دیکھنے پر اس نے ہاتھ ہلایا، ہم نے بھی زور زور سے بازو لہرا دیے۔

اڈے سے معلوم ہوا کہ ایک جیپ چترال جا رہی ہے۔ کرایہ 60 روپے فی کس ہے۔ واضح رہے کہ یہ سال 1988ء تھا۔ اس جیپ کے علاوہ چترال جانے والی کوئی سواری اڈے پر موجود نہ تھی۔ مجبوراً اسی کا ٹکٹ لینا پڑا اور پھر یوں ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے کھلی چھت کی جیپ چھت سے بھی بلند سطح تک بوریوں، گٹھڑیوں اور الا بلا سامان سے بھر گئی۔ ٹوٹل 16 مسافر تھے جو اس سامان پر چڑھ کر بیٹھ گئے یا یوں کہہ لیجیے کہ سامان کے کسی سرے کو پکڑ کر جیپ سے لٹک گئے۔ ہم دونوں بھی اس غیر ہموار سامان کے اوپر کسی نہ کسی طرح چڑھ کر بیٹھ گئے اور سفر شروع ہوا جانبِ چترال۔

راستہ بھی بہت خراب، ٹوٹا پھوٹا اور ناہموار تھا۔ لیکن 10 ہزار 50 فٹ بلند درّہ لواری کو عبور کرنے کے لیے یہی واحد راستہ تھا اور اس چڑھائی اترائی میں سیکڑوں خطرناک موڑ آنے تھے۔ 1975ء میں درہ لواری پر ایک طویل سرنگ بنانے کا کام بھی شروع ہوا تھا لیکن بدقسمتی سے اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکا تھا اور مسافر اسی پیچ در پیچ، موڑ در موڑ خطرناک راستے پر سفر کرنے پر مجوور تھے۔ 8 کلو میٹر طویل لواری ٹنل ہمارے اس سفر کے 30 سال بعد مکمل ہوئی اور لوگوں نے اس سرنگ کے ذریعے 2017ء میں سفر کرنا شروع کیا۔

لواری پاس—تصویر کری ایٹو کامنز
لواری پاس—تصویر کری ایٹو کامنز

گرتے پڑتے اچھلتے کودتے کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد بالآخر ہم نے درّہ لواری کو عبور کیا اور چترال کی وادی میں داخل ہوئے تو یہاں کے دلفریب مناظر دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا۔ اب ہمارا سفر دریائے چترال کے کنارے کنارے تھا۔ شام تک ہم تھکے ہارے چترال پہنچ ہی گئے اور ہوٹل میں قیام فرمایا۔ ہم نے شام کو ہی شہر میں گھوم پھر کر وادئ کیلاش جانے والی جیپ کا پتہ کیا اور رات ہوٹل میں گزار کر اگلے دن صبح ہی صبح کیلاش جانے والی جیپ میں سوار ہوگئے۔

کیلاش کے لیے صرف جیپیں ہی چلتی ہیں اور یہ جیپیں 2 طرح کی ہیں۔ ایک تو سالم جیپ ہے جو پوری کی پوری بک کروانی پڑتی ہے اور اس کا معاوضہ بھی زیادہ ہوتا ہے، مگر اس میں آسانی یہ ہوتی ہے کہ آپ راستے میں اپنی مرضی کے مطابق جہاں رکنا چاہیں رُک سکتے ہیں۔

دوسری قسم کی جیپیں، پسنجر جیپیں ہوتی ہیں جن کا کرایہ فی کس مقرر ہوتا ہے، لیکن ان جیپوں میں سواریاں خوب ٹھونس کر بٹھائی جاتی ہیں، بلکہ بٹھائی نہیں لٹکائی جاتی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ایسے سفر کا بھی اپنا ایک لطف ہوتا ہے۔ جیپ کے جنگلے سے لٹکے ہوئے جب آپ دریا کی بپھری لہروں کی عین اوپر خطرناک پہاڑی سڑک پر ہچکولے کھاتے ہوئے گزریں گے تو یہ تجربہ بڑا یادگار ثابت ہوگا۔

وادئ کیلاش—انعم گِل
وادئ کیلاش—انعم گِل

سرسبز اور دلفریب باغات، خوش گوار موسم، پھلوں سے لدے درخت، درختوں کے نیچے رواں دواں نہریں اور ان سب نظاروں کی جان، حورانِ فردوس۔ یہ جنت کا ایک سادہ اور محدود سا تصور ہے جو ہمارے ذہن میں اُبھرتا ہے۔ لیکن جب یہی تصور وادیٔ کیلاش میں پہنچ کر حقیقت نظر آتا ہے تو یہ ذہن سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ جب اُس جنت کے تصور کا ہو بہو شاہکار اللہ نے دنیا ہی میں بنا دیا ہے تو پھر اصل جنت کیسی ہوگی؟

وادیٔ کیلاش، چترال کی ایک دلکش تصویر ہے۔ چترال کوہِ ہندوکش کے سلسلوں میں واقع پاکستان کا ایک اہم سرحدی علاقہ ہے۔ یہ اپنی 3 اطراف، شمال، جنوب اور مغرب میں افغانستان سے ملا ہوا ہے۔ واخان کی جس پٹی نے پاکستان اور سابقہ روس کو جدا کیا ہوا تھا، چترال ہی سے ملتی ہے۔ درّہ لواری کے راستے یہ ضلع دِیر سے اور وادیٔ مستوج کے راستے گلگت سے مربوط ہے۔ وادیٔ مستوج سے آنے والا دریا چترال کا مرکزی دھارا ہے۔

اس کے مٹیالے پانی کی سرکش لہریں اس کے وسیع پاٹ میں ٹراؤٹ مچھلیوں سے لڑتی اور فلک بوس پہاڑوں کو سلام کرتی ہردم رواں دواں رہتی ہیں اور 25 ہزار فٹ بلند ترچ میر کی چوٹی ہر لحظہ سے اس حسین منظر کی پاسبانی کرتی رہتی ہے۔ اسی چترال کی وسعت میں پوشیدہ، چترال شہر سے 35 کلو میٹر دور سرسبز پہاڑوں میں چھپی حسین مناظر سے بھرپور وادیٔ کیلاش ہے جو پہاڑی وادیوں کے روایتی تاثر سے بالکل مختلف ہونے کے باعث دیکھنے والے کے ذہن سے تاحیات نہیں مٹتی۔

وادیٔ کیلاش بنیادی طور پر 3 چھوٹی چھوٹی وادیوں رامبور، بریر اور بمبورت پر مشتمل ہے۔ یہ تینوں وادیاں پہاڑوں کے 3 علیحدہ سلسلوں میں الگ الگ واقع ہیں۔ ان تینوں میں سب سے خوبصورت اور بڑی وادی بمبورت ہے۔ وادئ بمبورت اپنے درمیان میں بہتی نیلگوں شفاف ندی کے گرد پھیلے سیڑھی در سیڑھی سر سبز کھیتوں اوران میں جا بہ جا نظر آتی سجی بنی کیلاش دوشیزاؤں کی وجہ سے معروف ہے۔

وادئ بمبورت—تصویر کری ایٹو کامنز
وادئ بمبورت—تصویر کری ایٹو کامنز

ندی کے دونوں اطراف پہاڑی ڈھلوانوں پر درجہ بدرجہ بلند ہوتے ہوئے مکئی اور گندم کے سرسبز کھیت ہیں اور ناشپاتی، خوبانی، اخروٹ اور سیب کے باغات ہیں کہ جن کے درخت پھلوں کے بوجھ سے دوہرے ہوئے جاتے ہیں۔ فضاء میں ناشپاتی اور سیبوں کی خوشبو ہر دم رچی بسی رہتی ہے۔ پہاڑی ڈھلوانوں پر پھیلے کھیتوں کے آخر میں سرسبز درختوں میں چھپے ہوئے کیلاش لوگوں کے قدیم چوبی مکانات ہیں جو پہاڑ کی بلندی کے ساتھ ساتھ اوپر بڑھتے چلے گئے ہیں۔

لفظ کیلاش کا مطلب ہے ’کالے کپڑے پہننے والے‘ ہے۔ یہ نام اس لیے پڑا ہے کہ یہاں عورتوں کا عام لباس ایک لمبا، سیاہ اور فراک نما کُرتا ہے جس پر خوبصورت اور رنگ برنگے ڈیزائن بنے ہوتے ہیں۔ اس لباس کا سب سے خوبصورت حصہ وہ ہے جسے سر پر رکھا جاتا ہے۔ یہ پیٹھ کی طرف سے آکر سر کے اوپری حصے پر گولائی میں پھیل جاتا ہے۔ اس سر ڈھانکنے والے حصے پر سیکڑوں کی تعداد میں سیپیاں، گھونگے، سکّے، بٹن اور رنگین پر وغیرہ بڑی خوبصورتی سے ٹانکے جاتے ہیں جن کی وجہ سے اس کی دلفریبی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

جب بلندی سے وادی کا نظارہ کرنے والے کو دور نیچے کھیتوں میں ہل چلاتے ہوئے کوئی لوک گیت گاتا ہوا کیلاش کسان کھلونے کی طرح نظر آتا ہے تو اس کی ٹوپی میں لگا ہوا رنگین پر اس کے ہل کی تال پر رقص کرتا محسوس ہوتا ہے۔ پھر جب کھیت کے کسی کنارے کوئی حسین کیلاش دوشیزہ داخل ہوکر اپنے اس محبوب کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے تو یہ منظر اور بھی دلفریب بن جاتا ہے۔

ویسے تو کیلاش کی تینوں وادیاں خوبصورت ہیں، مگر جو بات بمبورت میں ہے وہ کسی اور میں نہیں۔ یہاں آپ کو شفاف پانی کے بے شمار چشمے گنگناتے ہوئے ملتے ہیں جو راستے کے اوپر سے گزر کر ندی میں گرتے ہیں۔ سیبوں اور خوبانیوں کے درخت رستے پر جھکے پڑتے ہیں۔ فضاء میں پانی کی مدھر قلقل پھیلی ہوتی ہے۔ کیلاش دوشیزائیں اپنے رنگا رنگ پیراہنوں میں ملبوس حیرانی سے سیاحوں کو دیکھتی ہیں اور مسلمان عورتیں اجنبی سیاحوں والی جیپ کو دیکھتے ہی کسی درخت یا دیوار کی اوٹ میں ہوجاتی ہیں۔

یہ سب کچھ آپ کو احساس دلاتا ہے کہ آپ وادیٔ کیلاش میں ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق یہ لوگ سکندرِ اعظم کی ان فوجوں کی اولاد ہیں جو فتوحات کے دوران صدیوں قبل ان علاقوں سے گزری تھیں، ان لوگوں کے خدوخال میں آج بھی یونانی جھلک نظر آتی ہے۔

چترال اور وادیٔ کیلاش کی سیاحت کے لیے سال کے صرف 4 مہینے ہی دستیاب ہیں، کیونکہ اکتوبر سے مئی تک یہاں نہایت سخت سردی پڑتی ہے اور ہر سو برف کا راج ہوتا ہے۔ چنانچہ صرف جون سے ستمبر تک کا موسم یہاں سیاحت کے لیے موزوں ہے۔ کیلاش لوگوں کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کے لیے ان کے میلوں اور رسومات میں شامل ہونا ضروری ہے۔

کیلاش سال میں 3 تہوار مناتے ہیں۔ ان مواقع پر دوشیزائیں قطاروں میں ایک دوسرے کے کندھوں پر بازو رکھے ہلکورے لیتی ہوئی بانسری کی تان اور طبلے کی تال پر رقص کرتی ہیں اور فضا میں ان کے سریلے گیت گونجنے لگتے ہیں۔ طبلے کی تھاپ کے ساتھ ساتھ رقص کی رفتار بھی تیز ہوتی جاتی ہے اور میلہ اپنے جوبن کی طرف بڑھتا ہے۔

وادئ کیلاش میں رقص کا ایک منظر—تصویر انعم گِل
وادئ کیلاش میں رقص کا ایک منظر—تصویر انعم گِل

تو جناب ہم اسی جنت نظیر وادئ کیلاش آپہنچے تھے اور آج ہمیں یہاں تیسرا دن تھا۔ آج ہمارا واپسی کا ارادہ تھا۔ صبح ہم ایک ہوٹل پر ناشتہ کرنے گئے۔ ناشتے کے دوران میں نے اپنا کیمرہ ٹیبل پر رکھ دیا تھا اور وہ اپنے لمبے زوم لینس کی وجہ سے نمایاں ہو رہا تھا۔ ہمارے برابر والی میز پر 2 اور سیاح بھی چائے پی رہے تھے۔ ان میں سے ایک اٹھ کر ہماری میز پر آیا اور میرے کیمرے کو غور سے دیکھنے لگا۔

’بڑا پروفیشنل کیمرا لگ رہا ہے۔’ وہ بولا۔ ’آپ شوقیہ فوٹو گرافر ہیں یا کمرشل فوٹو گرافی کرتے ہیں؟‘

’فوٹو گرافی کا تو بس شوقین ہی ہوں، لیکن یہ ضرور ہے کہ میری تصویریں میرے سیاحتی مضامین کے ساتھ شائع ہوجاتی ہیں۔‘ میں نے جواب دیا۔

’کہاں لکھتے ہیں آپ؟ آپ کا نام کیا ہے؟‘ وہ بولا۔

’میرا نام عبیداللہ ہے، عبیداللہ کیہر۔‘ میں نے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔‘ میں ماہنامہ رابطہ انٹرنیشنل میں لکھتا ہوں۔

’او۔۔۔اچھا تو آپ ہیں عبیداللہ کیہر صاحب۔ میں نے آپ کے کئی مضامین پڑھے ہیں رابطہ میں۔‘ اس نے گرمجوشی سے میرا ہاتھ دبایا۔ اس کا نام ارشد تھا اور اس کا ساتھی ذوالفقار تھا۔ یہ لوگ خاصے خوشحال لگتے تھے کیونکہ ان کے پاس اپنی نئی ڈبل کیبن پک اپ تھی جسے وہ خود ہی ڈرائیو کرتے ہوئے سیاحت کر رہے تھے۔

’آپ کیلاش کتنے دن کے لیے آئے ہیں؟‘ ذوالفقار بھی اُٹھ کر ہماری میز پر آگیا۔

باسط نے کہا کہ، ’ہمارا تو آج واپسی کا پروگرام ہے۔‘

’آج آپ دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ کھائیں۔‘ اس نے خوش دلی سے کہا۔

’لیکن دوپہر تک تو ہم چترال پہنچ چکے ہوں گے۔ ہم بس یہ ناشتہ کرکے نکل جائیں گے۔‘ میں نے جواب دیا۔

اس پر ارشد کہنے لگا کہ، ’تو ہمیں بھی تو آج چترال ہی جانا ہے۔ آپ ہمارے ساتھ ہی کیوں نہیں چلتے۔ دوپہر کا کھانا وہیں چترال میں کھائیں گے۔‘

میں اور باسط ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ آئیڈیا تو اچھا تھا، چترال تک مفت کی سواری مل رہی تھی۔

سو میں نے کہا کہ، ’ٹھیک ہے ارشد بھائی۔ چلتے ہیں آپ کے ساتھ‘ اور تھوڑی دیر بعد ہم اُن کی آرام دہ گاڑی کی پچھلی نشستوں پر بیٹھے وادیٔ کیلاش سے نکل کر چترال شہر کی طرف رواں دواں تھے۔ یہ راستہ دریائے چترال یا دریائے مستوج کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یہ دریا ان پہاڑوں میں بہتا ہوا پاکستان کی سرحد سے نکل کر افغانستان میں داخل ہوجاتا ہے اور پھر کابل شہر سے گزرتا ہوا پشاور کے قریب دوبارہ پاکستان میں داخل ہوجاتا ہے اور یہاں اس کا نام دریائے چترال کے بجائے دریائے کابل ہوچکا ہوتا ہے۔

نئی جاپانی گاڑی میں آرام دہ سفر کرتے ہوئے ہم دوپہر تک چترال پہنچ گئے۔ یہاں ایک ہوٹل میں عمدہ لنچ کرنے کے بعد ہم نے ارشد اور ذوالفقار سے اجازت چاہی کیونکہ ہمیں آج نوشہرہ جانا تھا۔ ارشد نے پھر آفر کی کہ آپ شام تک رُک جائیں۔ شام تک ہم بھی راولپنڈی جائیں گے ہمارے ساتھ ہی چلیں۔ میں سوچ میں پڑگیا۔

’اگر آپ کا جانا کنفرم ہے تو ہم انتظار کرلیتے ہیں ورنہ ہم ابھی پشاور جانے والی کوسٹر میں سیٹ بُک کروا رہے تھے کیونکہ دن بھر میں صرف یہی ایک گاڑی جاتی ہے۔ اگر یہ نکل گئی تو ہمیں چترال میں ایک دن اور رُکنا پڑجائے گا۔‘

’آپ بالکل فکر نہ کریں ہمیں بھی آج لازماً جانا ہے۔‘ ذوالفقار مُسکرایا۔ ’ہمیں یہاں کچھ کام ہے، جب تک ہم وہ کرلیں تب تک آپ بھی شہر میں گھومیں پھریں۔ شام کو اسی ہوٹل میں ملاقات ہوگی۔‘

ہمیں اور کیا چاہیے تھا، آرام دہ گاڑی میں نوشہرہ تک لفٹ مل رہی تھی۔ وہ دونوں تو چلے گئے اور ہم چترال کی اونچی نیچی گلیاں ناپنے لگے۔ چترال سے پشاور جانے والی واحد بس اپنے وقت پر نکل گئی۔ ہم شام 4 بجے ہوٹل پہنچ گئے، مگر ہمارے میزبان تو کہیں بھی نظر نہیں آرہے تھے۔ میرے ذہن میں یہ خدشہ سر اٹھانے لگا کہ ایک دن اور چترال میں نہ گزارنا پڑے لیکن گھنٹے بھر میں وہ لوگ بھی ہوٹل پہنچ گئے۔

’چلیں جناب۔ بسم اللہ۔‘ ارشد نے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے آواز لگائی۔ گاڑی وہی ڈرائیو کر رہا تھا۔ اب ان کے ساتھ ان کا تیسرا ساتھی جاوید بھی تھا۔ ہم پچھلی سیٹ پر جاوید کے ساتھ بیٹھ گئے۔ گاڑی دریائے چترال کو ایک پل سے عبور کرکے دوسرے کنارے پر آئی اور دِیر کی طرف جانے والی سڑک پر دوڑنے لگی۔

گھنٹہ بھر سفر کیا ہوگا کہ اچانک ایک روح فرسا منظر سامنے آگیا۔ پشاور جانے والی جس بس کے ذریعے سفر کو ہم نے ملتوی کیا تھا، وہ ایک کھائی میں الٹی پڑی تھی اور اس کے اردگرد زخمی مسافر پڑے کراہ رہے تھے۔ ہمارا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ آج اگر ہمیں یہ لفٹ نہ ملی ہوتی تو ہم بھی انہی زخمیوں اور لاشوں میں شامل پڑے ہوتے۔ گاڑیاں زخمیوں کو چترال لے جانے کے لیے جمع ہو رہی تھیں۔ کچھ دیر ہم بھی رُکے رہے اور پھر ایک افسردہ دل کے ساتھ چل دیے۔


سفر کا پہلا اور دوسرا حصہ پڑھیے۔