اب سے ’مائے نس‘ صرف عمران خان!

اپ ڈیٹ 20 مارچ 2018

ای میل

پاکستان تحریکِ انصاف کے بارے میں یہ ’فکری مغالطہ‘ پایا جاتا ہے کہ یہاں انصاف کا مطلب عدل ہے، نہیں بھیّا، بات یوں ہے کہ جو اس تحریک میں ’اِن‘ ہوا وہ ’صاف‘ ہوگیا، یوں اس تحریک کا نام ہوا ’پاکستان تحریکِ اِن-صاف۔‘

اس راز سے ہم بھی ناواقف تھے مگر جب ہم نے عمران خان کی جماعت میں آنے والوں کو یکایک صاف سُتھرا ہوتے دیکھا تو ہمیں اس بات پر یقین آیا کہ ’ماں مانے بس تحریک انصاف کا دُھلا‘ (یہاں ماں کی جگہ آپ باپ اور بابا بھی کرسکتے ہیں)، لیکن یہ سوچ کر پریشان ہوتے رہے کہ ایسا ہوتا ہے تو کیوں ہوتا ہے؟ بڑی سوچ بچار کے بعد عقل ہار گئی، ایسے میں استادالعلماء حضرت علامہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کام آئے۔

ایسے اہلِ زبان کے بارے میں تو آپ نے سُنا ہوگا کہ زبان جن کی محبوبہ ہے، لیکن عامر لیاقت کو جب سُنیں تو لگتا ہے کہ الفاظ اُن کی محبوبہ ارے نہیں نہیں، ہم حضرت کی مناسبت سے کوئی ایسا ویسا لفظ کیسے استعمال کرسکتے ہیں، بھئی لفظ ان کے غلام ہیں۔ وہ لفظوں سے کھیلتے ہیں، کبھی انہیں جُنھجُھنا بناتے ہیں، کبھی فٹبال اور جب جادوگری پر آتے ہیں تو لفظ کے رومال سے کبوتر نکال کر اُڑا دیتے ہیں۔

پڑھیے: مجھے معاف کردیں، میں چھوٹا سا، منّا سا، پیارا سا بچہ ہوں!

سو ہم نے جب ان ماہرِ لفظیات کی لیاقت سے رجوع کیا تو تحریکِ انصاف کے نام کا عقدہ پَل بھر میں کُھل گیا۔ وہ یوں کہ حضرت نے الطاف حسین کو ایم کیو ایم سے ’مائینس (Minus)‘ کرنے کی باتوں پر اپنے اُس وقت تک کے قائد سے محبت اور عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا، ’مائے نس یعنی الطاف حسین میری نس ہے‘ بس یہی فارمولا ہم نے ’انصاف‘ پر لاگو کردیا کیسا دیا!

عامر لیاقت کا یہ تاریخی فقرہ زبان ہی پر ان کی دسترس ظاہر نہیں کرتا، ان کی زبان کی ’صلاحیتوں‘ کا اظہار بھی کرتا ہے۔

لوگ محبوب کو دل میں مکین رکھتے ہیں، اس کا پیار پور پور میں سماتا اور نس نس میں دوڑتا ہے، لیکن پورے کے پورے اور وہ بھی اتنے بھرے پُرے محبوب کو باریک کرکے نس بنا دینا بھی ڈاکٹر صاحب ہی کا کمال ہے۔ یہ الطاف بھائی سے ان کے عشق کی معراج تھی، جس تک وہی پہنچ سکتے تھے۔ عشق کا معاملہ اپنی جگہ، مگر بَھیّے یہاں تو طب کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔

دل بدلتے ہیں، آنکھیں بدلتی ہیں، لوگ ذہن بدل لیتے ہیں، لیکن نس بدلنے کا ہم نے کبھی نہیں سُنا۔

کوئی اس بابت پوچھے تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ میاں! پُرانی نس بہت پھڑکنے لگی تھی، اس لیے نکلوا کر نئی لگوالی، میانوالی کی تن درست و توانا ’نیازی نس۔‘ ہمیں یاد ہے کہ جب عمران خان کرکٹر ہوا کرتے تھے تو ان کے پٹھے چڑھ جایا کرتے تھے۔ سیاست میں آنے کے بعد وہ جتنے متحرک رہے انہیں پٹھوں کی تکلیف نے پریشان رکھا ہوگا، اب سب خیریت لگتی ہے، شاید انہیں نیا پٹھا مل گیا ہے۔

چلیے ’نس‘ کے حوالے سے تو ہم نے معترضین کا اعتراض دور کردیا۔ اب رہ گیا ایک اور مسئلہ۔ وہ یہ کہ 22 اگست 2016ء کو ہونے والی الطاف بھائی کی خودکُش تقریر کے بعد عامر لیاقت اس کُھلم کُھلا پاکستان مخالف تقریر کا دفاع کرتے رہے اور پھر جب رینجرز کی تحویل میں کئی گھنٹے گزارنے کے بعد واپس آئے تو اُن میں حُب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھری گئی معاف کیجیے گا بھری ہوئی تھی۔

پڑھیے: رمضان، متیرہ اور عامر لیاقت

رینجرز سے کیا چھوٹے انہوں نے سیاست ہی چھوڑنے کا اعلان کردیا اور کہہ دیا، ’اب میں کبھی سیاست میں نہیں آؤں گا، اگر آؤں تو مجھے یاد دلائیے گا۔‘ ان کے اس اعلان کو جواز بناکر لوگ خواہ مخواہ طنز کر رہے ہیں۔ ان کا مطلب بس اتنا تھا کہ میں اُس سیاست میں نہیں آؤں گا جو کبھی کبھی ہی ہوتی ہے، خودکار ہوتی ہے، کسی کے اشاروں پر نہیں ہوتی۔ انہوں نے غلط کب کہا، وہ اس ’کبھی سیاست‘ میں تو نہیں آئے ناں (عامر بھائی پھر کیسا دیا)۔

اب جہاں تک یاد دلانے کا تعلق ہے تو دراصل عامر بھائی اینکر بھی ہیں، صحافی بھی، شاعر بھی، ماڈل بھی اور اداکار تو ہیں ہی، چناں چہ انہیں یاد نہیں رہتا کہ وہ جہاں ہیں وہاں کس حیثیت میں ہیں۔ ایسے میں خطرہ تو ہوتا ہے ناں کہ جلسے سے خطاب کرتے کرتے اچانک مجمع سے پوچھ بیٹھیں ’آم کھائے گا آم‘، شرکاء سے اچانک تُکے لگوانا شروع کردیں، عمران خان کو مولانا سمجھ کر عالم آن لائن کے میزبان بن جائیں اور فتوے لینا شروع کردیں۔

پھر عمران خان خطاب کرتے ہوئے فخر سے اعلان کریں ’اوئے پاکستان میں تبدیلی آگئی ہے‘ اِدھر پیچھے بیٹھے عامر لیاقت کا میل ماڈل جاگ اور پُکار اُٹھے ’بیچ دے‘ اور جلسے میں جوتا چلنے پر بے ساختہ کہہ اُٹھیں ’کیسا دیا‘ اس خدشے کے پیش نظر ہی عامر لیاقت نے درخواست کی تھی کہ بھیّا! مجھے یاد دلا دینا کہ میں سیاست میں آگیا ہوں اور سیاست داں ہوں۔

عامر بھائی! کوئی آپ کو یاد دلائے نہ دلائے ہم یاد دلاتے رہیں گے، ساتھ ہی آپ کی نئی جماعت کو بھی یاد دلادیں کہ تحریک انصاف اور عمران خان جو نیا پاکستان بنانے کی تمنا رکھتے ہیں، اس کے لیے انہیں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی صورت میں نئی زبان تو مل ہی گئی ہے۔ اس بولی کا ہر بول جلسوں کی رونق اور اخلاقیات کی حد آگے بڑھائے گا۔

یہ زبان مخالفین پر بوریاں بھر بھر کے گند پھینکنے ہی کے کام نہیں آئے گی، اس گندگی کو صاف کرنے کے لیے لجلجاتی اور گِڑگِڑاتی معافی کی صافی کا فریضہ بھی انجام دے گی۔ تو نئے پاکستان والوں کو نئی زبان مبارک۔