'نظریہءِ باجوہ' ایک شخص کی نہیں ادارے کی سوچ ہے

اپ ڈیٹ 26 مارچ 2018

ای میل

طاقتور شخصیات کے بارے میں اکثر افسانوی باتیں گھڑی جاتی ہیں۔ اب ہم نظریہءِ باجوہ کے بارے میں سن رہے ہیں۔ اس لفظ کا استعمال کچھ میڈیا حلقے اور خود ایک ٹی وی انٹرویو میں آئی ایس پی آر کے سربراہ بھی کرچکے ہیں۔

اس نظریے کے مطابق آرمی چیف کے پاس نازک سیاسی مسائل سے لے کر معیشت اور خارجہ پالیسی تک ہر چیز پر ایک عظیم الشان وژن ہے۔ کیا ہمیں حیرت زدہ ہونا چاہیے؟ بالکل نہیں۔ کیا ہم فوج کے گزشتہ سربراہان کو بھی ایسا ہی دانا قرار دیا جانا بھول چکے ہیں؟

مگر جنرل قمر باجوہ کی جو خوبیاں گنوائی جا رہی ہیں، وہ انہیں اپنے پیشروؤں سے بھی بالاتر دکھا رہی ہیں، یعنی ایک ایسا مسیحا جس کی قوم کو ایک عرصے سے ضرورت تھی۔ اگر میڈیا حلقوں پر اعتبار کیا جائے تو یہ 'نظریہ' خارجہ پالیسی میں ایک انقلابی تبدیلی لانے کا وعدہ کرتا ہے جو کہ گزشتہ 70 سال کی 'احساسِ برتری' کی پالیسی سے بالکل مختلف ہوگی۔ یہ تو بہت زبردست بات ہے۔

اس 'نظریے' کے مطابق جنرل پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں اور عالمی طاقتوں سے تعلقات میں توازن چاہتے ہیں۔ پُرتشدد انتہاپسندی بالکل بھی قابلِ قبول نہیں مگر سدھر جانے والے جہادیوں کو مرکزی دھارے میں لانا اس 'نظریے' کے تحت اہم ہے۔

'جمہوریت پسند' اور قانون کی بالادستی کے سخت حامی قرار دیے جانے والے جنرل اس 'نظریے' کے مطابق ہمارے سیاسی نظام سے ناخوش ہیں، اور ان کا ماننا ہے کہ آئین میں 18ویں ترمیم نے ملک کو کنفیڈریشن میں بدل دیا ہے۔ بظاہر ان کا سب سے بڑا خدشہ معاشی پالیسی میں بدانتظامی ہے جس نے ان کی نظروں میں پاکستان کو دیوالیہ پن کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے شروع کیے گئے مہنگے انفراسٹرکچر منصوبوں مثلاً موٹروے اور میٹرو بس، اور بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی معیشت پر بوجھ سمجھتے ہیں۔

مزید پڑھیے: ہمارے ’ڈکٹیٹر‘ کا بنیادی مسئلہ

حقیقتاً صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ حالیہ ملاقات میں آرمی چیف نے ان سب باتوں کا اظہار کیا جنہیں اب تبدیلی کے ایک عظیم 'نظریے' کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنرل صرف اپنے ادارے کی سوچ کا اظہار کر رہے تھے، جسے ان کے ذاتی وژن کے طور پر نہیں سمجھنا چاہیے۔ کوئی شخص ان کی (یا فوج کی) جانب سے مسائل کی تشخیص سے اتفاق کرسکتا ہے مگر نازک سیاسی اور معاشی مسائل کے لیے ان کے حل بے انتہا سادہ ہیں۔

ایک کے بعد ایک فوجی حکمرانوں نے حالات بدلنے کے نام پر تختے الٹے مگر انہوں نے اگر زیادہ نہیں تو اتنے ہی خراب حالات میں ملک کو چھوڑا جن میں انہوں نے اقتدار سنبھالا تھا۔ اسی طرح بھلے ہی ان کی اظہار کردہ نیت کے بارے میں شک نہ ہو، مگر سیاسی صورتحال، معیشت اور دیگر مسائل پر ان کی آراء نے منتخب سویلین حکومت اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو آشکار کردیا ہے۔

بھلے ہی جنرل اقتدار حاصل کرنا نہیں چاہتے مگر کچھ لوگوں کے نزدیک یہ بحرانی صورتحال میں سب سے آسان کام ہے۔ وہ منتخب سویلین حکومتوں کو کھلی چھوٹ بھی نہیں دینا چاہتے۔ سیاستدانوں پر عدم اعتماد شدید ہے مگر اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ عام انتخابات ہوں گے۔

لیکن اگر سینیٹ چیئرمین شپ کے حالیہ انتخابات کسی چیز کا اشارہ ہیں تو یہ واضح ہے کہ نواز شریف اور ان کے حامیوں کو مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ میں جگہ نہیں دی جائے گی۔ عدلیہ کے ساتھ مل کر فوج کا سایہ ابھرتے ہوئے سیاسی سیٹ اپ پر قائم رہے گا۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک کے زیادہ تر تفتیشی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پہلے ہی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی زیرِ نگرانی کام کر رہے ہیں۔

مگر جو چیز سب سے زیادہ تشویش ناک ہے وہ 18ویں ترمیم کے بارے میں فوج کے نظریات ہیں۔ تاریخی قانون سازی جس نے صوبوں کو زیادہ سے زیادہ خودمختاری دی ہے، اسے پارلیمنٹ نے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے اتفاق سے منظور کیا تھا۔ یہ بات درست ہے کہ کچھ صوبوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں صلاحیت کے مسائل کا سامنا کیا ہے مگر اسے بھی باقاعدہ مرحلے کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔

اس سے بھی اہم بات یہ کہ 18ویں ترمیم نے وفاق کو مضبوط کیا ہے اور مرکز اور صوبوں کے درمیان کشمکش کی ایک مستقل وجہ کو ختم کردیا ہے۔ مرکز میں اختیارات کے جمع ہونے سے بالخصوص چھوٹے صوبوں کے لیے سنگین مسائل پیدا ہوئے تھے۔ ملک کو واقعی یکساں تعلیمی نظام کی ضرورت ہے اور صوبائی قوانین میں بہتری کی بھی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ 18ویں ترمیم کو ختم کرنے کی واحد کوشش اگر ہوسکتی ہے تو غیر آئینی ہی ہوسکتی ہے، اور اگر ایسا کرنے کی کوشش بھی کی گئی تو اس کے نتائج تباہ کن ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: کہیں ایسا نہ ہو کہ چیف اپنا کنٹرول جتانے کی ٹھان ہی لیں!

یہ بات بھی درست ہے کہ معیشت نہایت خراب حالت میں ہے اور سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار جو اب کرپشن کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اس مالی بدانتظامی کے لیے ذمہ دار تھے۔ یہ بحران کافی عرصے سے جنم لے رہا تھا اور یہ مسئلہ تیزی سے گرتے ہوئے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی وجہ سے مزید سنگین ہوا۔ مگر پھر بھی صورتحال ناقابلِ درستی نہیں ہے۔

نظریہءِ باجوہ کہلایا جانے والا یہ وژن بحران کا کوئی فوری حل نہیں پیش کرسکتا۔ معیشت قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے، مگر اتنا ہی ضروری جمہوری مرحلے کا جاری رہنا بھی ہے، چاہے اس میں کتنی ہی خامیاں کیوں نہ ہوں۔ معاشی ترقی سیاسی استحکام سے بھی منسلک ہے اور فوجی حکومتوں کا بھی کوئی قابلِ فخر معاشی ریکارڈ نہیں رہا ہے۔

یہ نظر آ رہا ہے کہ خارجہ اور قومی سلامتی پالیسیاں سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے ہی ہاتھ میں رہی ہیں۔ جنرل باجوہ کے ان الفاظ سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں غیر معمولی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ مگر ہمارے خارجہ پالیسی چیلنجز بہت بڑے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر چیلنجز سیکیورٹی کے گرد گھومتی ہماری پالیسیوں کی وجہ سے ہیں جس کے لیے عسکری قیادت ذمہ دار ہے۔ یہ معیشتوں کا دور ہے اور ایک جامع خارجہ پالیسی کے لیے ضروری ہے کہ ہم پڑوسی ممالک بشمول ہندوستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات وسیع کریں۔

ہاں ہم نے عسکریت پسندی کو شکست دینے اور قبائلی علاقوں میں ریاست کی رٹ بحال کرنے کے لیے بہت کچھ کیا ہے مگر ابھی بھی ہمارے وجود کے لیے خطرہ بنی ہوئی پُرتشدد مذہبی انتہاپسندی سے نمٹنے کی کوئی واضح حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔

ملکی اور خارجہ پالیسی مسائل پر ایک متبادل 'نظریہ' پیش کرنے کے بجائے سول ملٹری قیادت کے درمیان خارجہ پالیسی کے اہم امور پر خلیج پُر کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

بدقسمتی سے ہمارے پاس کسی بھی چیز پر قومی بیانیہ نہیں ہے۔ نظریہءِ باجوہ کہلانے والا یہ نظریہ ایک شخص کے نظریات سے زیادہ ایک ادارہ جاتی سوچ ہے۔

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار میں 21 مارچ 2018 کو شائع ہوا۔