’کیک‘ جو بہت میٹھا نہیں، مگر پھیکا بھی نہیں

اپ ڈیٹ 31 مارچ 2018

ای میل

رواں برس، پہلی سہ ماہی میں نمائش کے لیے پیش کی جانے والی سب فلموں میں زیرِ نظر فلم ’کیک‘ اوسط سے ذرا بلند درجے کی فلم ثابت ہوئی ہے۔

فلم کی سب سے بڑی خوبی، اس کی کہانی کا رواں اور آسان ہونا ہے، اس کو مقبولیت دینے کے لیے کوئی اسکینڈل نہیں گھڑا گیا، کوئی آئٹم سونگ نہیں شامل کیا گیا، نہ ہی کوئی اور طرح کا حربہ آزمایا گیا، سیدھی سیدھی فلم نمائش کے لیے پیش کردی گئی اور حیرت انگیز طور پر نتیجہ مثبت ہے، فلم کو پاکستانی اور عالمی میڈیا میں متناسب توجہ اور پسندیدگی حاصل ہو رہی ہے۔

کہانی و مکالمے

اس فلم کے ہدایت کار عاصم عباسی نے ہی یہ فلم لکھی بھی ہے۔ کہانی ابتداء سے لے کر آخر تک آسانی سے سمجھ آنے والی ہے، کردار ایک دوسرے سے پوری طرح جڑے ہوئے ہیں۔ جہاں جس کردار کی ضرورت تھی، مکالمہ میں اس کے لب و لہجے اور گفتگو کا خیال رکھا گیا ہے۔

ایک سندھی خاندان، جس کا زمینداری کا پس منظر ہے، اس دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والے کنبے کی شہری طرز زندگی اور گھریلو مسائل کو خوبصورتی سے فلم بند کیا گیا ہے۔ البتہ کہیں کہیں محسوس ہوتا ہے کہ کہانی طویل ہوگئی ہے، اس کو مزید مہارت سے لکھا جاتا، یا کم وقت میں فلمایا جاتا تو تاثر مزید اچھا ہوسکتا تھا، اس کے باوجود کہانی میں حقیقی زندگی سے جڑی چھوٹی چھوٹی باتوں اور حقیقتوں کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔

فلمسازی و ہدایت کاری

اس فلم کو 2 فلمساز اداروں انڈس ٹاکیز اور زیب فلمز نے مل کر بنایا ہے۔ اس کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر سید ذوالفقار بخاری ہیں، جبکہ دیگر پروڈیوسرز میں ماہ نور آمنہ اور سمیرہ قاضی شامل ہیں۔ فلم کو لندن، کراچی اور اندرونِ سندھ فلمایا گیا ہے۔ ایک محدود بجٹ میں عمدہ طریقے سے فلمائی گئی فلم کے دیگر تکنیکی پہلوؤں بھی بہت مثبت رہے، بالخصوص سینماٹوگرافی، ایڈیٹنگ، بیک گراؤنڈ میوزک، کاسٹیوم، میک اپ کے شعبوں میں بہتر کارکردگی رہی۔

ہدایت کار عاصم عباسی نے اپنی فلمی ہدایت کاری کا آغاز اس فلمی منصوبے سے کیا، ایک نوآموز فلم ہدایت کار کی حیثیت سے یہ کامیاب کوشش ہے۔ اُنہوں نے فلم کی موسیقی کے لیے لوک موسیقی اور اندرون سندھ کی لوکیشنز کا ذہانت پر مبنی فیصلہ کیا، جس کی وجہ سے فلم حقیقت سے کافی قریب ہوگئی۔ فلم کے لیے تقسیم کار ادارے، اشتہار بازی اور حکمت عملی کی وجہ سے فلم کو پوری دنیا میں میڈیا کی توجہ ملی۔ یہ پہلی پاکستانی فلم ہے جس کو برطانیہ کے لندن لیسسٹر اسکوائر میں بھی نمائش کے لیے پیش کیا گیا۔ برطانیہ میں ہی یوکے ایشین فلم فیسٹیول میں بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ بھی اس کے حصے میں آیا ہے، اس فلم کے لیے ایسی شروعات نیک شگون ہے۔

اداکاری و موسیقی

کہانی میں کوئی الجھاؤ نہ ہونے کی وجہ سے کرداروں کی بنت اور ایک دوسرے سے تعلق بھی واضح ہے۔ اس لیے تمام کرداروں نے ایک دوسرے کو مضبوط کیا۔ مکالموں کے ساتھ چہروں کے تاثرات نے کہانی کو متاثرکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا، بالخصوص محمد احمد اور آمنہ شیخ نے اچھی اداکاری کا مظاہرہ کیا، صنم سعید خاص انگریزی مزاج میں خوشی اور غصے کے کردار ادا کرتی ہیں، فلم کی طلب تھی، انگریزی کردار، اس لیے وہ بھی اس میں بہت اچھی طرح فٹ ہوگئیں۔

میکال ذوالفقار کا کردار غیر ضروری محسوس ہوا، عدنان ملک کی اداکاری میں جان نہیں تھی۔ دیگر چھوٹے بڑے کرداروں نے بھی متوازن اداکاری کی۔ سندھ کے شہر جامشورو سے تعلق رکھنے والے ایک صوفی بینڈ اسکیچز نے اس فلم کی موسیقی ترتیب دی، یہ انتخاب بالکل درست ثابت ہوا، فلم کی تمام موسیقی کہانی سے پیوست رہی، جس کی وجہ سے کہانی کو اپنا رنگ جمانے میں مدد ملی۔

نتیجہ

یہ ایک مکمل پاکستانی ثقافت اور انداز میں رنگی ہوئی فلم ہے، جس میں غیر ضروری طور پر گلیمر ڈالنے کی کوشش نہیں کی گئی، یہی اس فلم کی خوبی ہے اور کمال بھی کہ ایک ایسا فلمی کیک تیار کیا، جو بہت میٹھا نہیں، مگر پھیکا بھی نہیں ہے۔ فلم کی پوری ٹیم اس کامیاب اور متوازن کوشش پر مبارک باد کی مستحق ہے، یہ فلم باکس آفس پر بھی کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔