گنے کی قیمت کم ہے تو کسان گنا اگاتے ہی کیوں ہیں؟

01 اپريل 2018

ای میل

رواں ماہ سندھ اور پنجاب میں بذریعہ سڑک سفر کریں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ ایک سرنگ میں سفر کر رہے ہوں۔ ویسی سرنگ نہیں جیسی کہ ایلون مسک آواز کی رفتار سے تیز چلنے والی ٹرینوں کے سفر کے لیے بنا رہے ہیں۔ بلکہ ہماری سرنگ میں گنے سے بھری ہوئی ٹرالیاں ہیں جو پورے ضلعوں، نہیں، پورے صوبوں میں نظر آئیں گی۔ کیا گنے کی امدادی قیمت کا اعلان گزشتہ اکتوبر میں نہیں کیا گیا تھا؟ تو پھر مارچ 2018 میں قومی شاہراہ کے اردگرد ٹنوں کے حساب سے گنا کیوں پڑا ہوا ہے؟

شوگر ملیں کسانوں کو تب ادائیگی کرتی ہیں جب ان کا دل چاہتا ہے۔ کسان غیر معینہ مدت تک انتظار نہیں کر سکتے کیوں کہ انہیں اگلے موسم کے لیے بوائی کرنی ہوتی ہے۔ گنے کی کرشنگ جتنی دیر سے شروع ہوگی، کسان اتنے زیادہ بے چین ہوں گے۔ اس کی وجہ سے ان کا مڈل مین کو سرکاری قیمت سے کم قیمت پر گنا فروخت کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

پاکستان میں زراعت کے پیشے سے وابستہ زیادہ تر افراد 'چھوٹے کسان' کے زمرے میں آتے ہیں۔ سندھ اور جنوبی پنجاب کے بڑے جاگیرداروں کو چھوڑ کر پنجاب میں اوسطاً زمینداری 5 سے 10 ایکڑ جبکہ سندھ میں 12 سے 25 ایکڑ ہے۔ زمین کے معیار، پانی کی دستیابی، اور بیج، کھاد اور کیڑے مار ادویات کے اخراجات کو مدِنظر رکھیں تو زیادہ تر کسان اپنی چھوٹی سی زمین کو بھی اس کی مکمل صلاحیت تک استعمال نہیں کر پاتے۔

پڑھیے: پاکستان میں زراعت پسماندہ کیوں؟

سندھ میں اگر آپ زیرِ کاشت زمین کے مالک ہیں تو پہلی دفعہ گنے کا ایک ایکڑ بونے کے لیے تقریباً 50 ہزار روپوں کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔ اگر زمین لیز پر لی گئی ہے تو سالانہ کرائے کی مد میں 20 ہزار سے 35 ہزار روپے مزید کا اضافہ کردیں۔ ٹنڈو الہیار، ہالا اور گھوٹکی کو چھوڑ کر، جہاں فی ایکڑ پیداوار 1000 من تک ہوسکتی ہے، وہاں باقی سندھ میں اوسط پیداوار 600 سے 800 من کے درمیان ہوتی ہے۔ پنجاب میں بوائی کے لیے فی ایکڑ سرمایہ کاری سندھ جتنی ہی ہے پر اگر زمین لیز پر لی گئی ہے تو 40 ہزار سے 60 ہزار روپے فی ایکڑ کرایہ بنتا ہے۔ پیداوار 700 سے 800 من فی ایکڑ بنتی ہے۔

گنے کی 182 روپے فی من امدادی قیمت 3 سال پہلے کی قیمت کی تقریباً آدھی تھی۔ شوگر مل مالکان اور حکومت میں شامل ان کے بھائیوں اور ایجنٹوں کے درمیان گٹھ جوڑ کی وجہ سے کرشنگ دسمبر میں بہت دیر سے شروع ہوئی۔ اس دوران گنے کے سوکھنے کی وجہ سے گنے کی کھڑی فصل کا وزن کم ہوتا جا رہا تھا۔ اس سے نقصان صرف کاشتکار کا ہوتا ہے اور مل مالک مکمل فائدے میں رہتا ہے کیوں کہ جیسے جیسے گنا خشک ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اس میں شکر کی مقدار بڑھتی جاتی ہے۔ کیوں کہ ہم قومی طور پر سائنس اور منطق سے دور بھاگتے ہیں اس لیے اسے مل مالکان اور قدرت کے درمیان گٹھ جوڑ ہی سمجھ لیں۔

اگر کسانوں کو 182 روپے فی من کی امدادی قیمت ملتی تب بھی حالات کچھ بہتر نہ ہوتے۔ چوں کہ مل مالکان کسانوں کو تاخیر سے ادائیگیاں کرنے کے لیے مشہور ہیں، اس لیے وہ بالآخر مڈل مین کے پاس جاتے ہیں جن کی بہترین آفر اوسطاً 120 روپے فی من ہوتی ہے۔

یہ مت سمجھیے گا کہ یہ شاہانہ قیمت پوری طرح کسان کی جیب میں جائے گی۔ گنے کو مل تک پہنچانا ہوتا ہے۔ مل سے فاصلے، ٹریکٹر ٹرالی اور ڈرائیور کے اخراجات، اور مل کے باہر لگی تاحدِ نگاہ لگی قطار میں دنوں یا ہفتوں تک انتظار کرنے کے بعد کسان کے ہاتھ فی من صرف 95 روپے آتے ہیں۔

حساب بالکل سادہ ہے۔ سندھ کی مثال لیں جس میں کسان کے پاس زمین ہو۔ اگر اوسط پیداوار 700 من ہے، تو مل مالکان اور ایجنٹوں کے حساب وغیرہ ملا کر کسان اور اس کے مددگاروں کو 10 ہزار روپے فی ایکڑ منافع ملے تو بھی وہ خوش قسمت ہوں گے۔ اور یہ ایک سال سے 18 ماہ کی محنت کے بعد ہے۔ اگر اوپر دیے گئے دیگر عوامل کو بھی مدِنظر رکھیں اور لاتعداد دیگر خرچے جن کا حساب لگانا مشکل ہے، تو آپ دیکھیں گے کہ عملی طور پر گنے کا ہر کاشتکار خسارے میں ہے۔

پڑھیے: گنے کی قیمت کا تعین: فریقین کے مابین مذاکرات کا آخری مرحلہ کل متوقع

چوں کہ صارف کے لیے چینی کی قیمت میں کمی نہیں ہوتی، اس لیے کچھ لوگ کسانوں کو مشورہ دے سکتے ہیں کہ وہ گنا اگانا بند کیوں نہیں کر دیتے تاکہ مل مالکان کو زک پہنچائی جا سکے؟ یہ بات کہنی آسان ہے۔ شوگر ملز کے بند ہونے پر کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا اور مل مالکان پیسے کمانے کے لیے کوئی نیا دھندہ ڈھونڈ لیں گے۔ مزدوروں کو نئے استحصالی مل جائیں گے۔ آپ اور ہم دونوں اپنی مٹھاس کی ضروریات درآمد شدہ چینی سے پوری کریں گے۔ مگر حقیقی جیت انہی کی ہوگی جو ہمیں چینی برآمد کرتے ہیں کیوں کہ ان کے پاس اچھی زرعی اور مارکیٹ پالیسیاں، اور ہم سے کہیں زیادہ پیداوار ہوتی ہے۔

اس نرخ پر ہمارے لیے جو چیز سب سے زیادہ قابلِ عمل ہوگی، وہ زیادہ پیداوار والی فصلیں، مثلاً سبزیاں اور پھل ہیں۔ عالمی معیشت کے تحت ہم گندم، چینی، دالوں اور ہر دوسری چیز کی ضرورت دوسرے ممالک سے درآمد کر کے پوری کر سکتے ہیں۔ مگر پھر ہماری اضافی اور بلند قیمت پیداوار ہم سے کون خریدے گا اگر ہم اپنے کچھ پڑوسیوں کے ساتھ بات چیت پر آمادہ نہیں۔

دور دراز کی منڈیوں تک مال پہنچانے میں ٹرانسپورٹ کے اخراجات لگتے ہیں اور کڑے معیارات کی پاسداری کرنی ہوتی ہے۔ اور پھر ہمارے اوپر یہ گرے لسٹ کا بادل بھی منڈلا رہا ہے جو بلیک لسٹ میں بھی بدل سکتا ہے۔

یہ مضمون 29 مارچ 2018ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

انگلش میں پڑھیں۔