کشمیر: بھارتی فوج کی فائرنگ سے 17 نوجوان جاں بحق

اپ ڈیٹ 01 اپريل 2018

ای میل

بھارتی فوج نے کارروائی کے دوران 4 گھروں کو بھی تباہ کردیا—فوٹو:اے پی
بھارتی فوج نے کارروائی کے دوران 4 گھروں کو بھی تباہ کردیا—فوٹو:اے پی
—فوٹو:اے ایف پی
—فوٹو:اے ایف پی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوستان مخالف مظاہروں کے دوران قابض فوج نے نہتے شہریوں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 17 افراد جاں بحق اور 100 کے قریب زخمی ہوگئے۔

کشمیرمیڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سری نگر کے سوریا ہسپتال میں ایک اور زخمی نوجوان نے دم توڑ دیا جس کے بعد بھارتی فوج کی جانب سے ضلع اسلام آباد اور شوپیاں کے مختلف علاقوں میں کی جانے والے کارروائیوں میں ہلاکتوں کی تعداد 17 ہوگئی ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مرکزی شہر سری نگر کے جنوبی اضلاع میں میں مختلف کارروائیوں کے دوران تین بھارتی فوجیوں سمیت 20 افراد مارے گئے۔

رپورٹ کے مطابق جاں بحق نوجوان کی شناخت شوپیاں کے علاقے خسیپور سے تعلق رکھنے والے اقبال بٹ کے نام سے ہوئی ہے جن کے پیٹ میں گولیاں لگی تھیں۔

قبل ازیں دن کے آغاز میں مقبوضہ کشمیر کے دو اضلاع میں بھارتی فوج کی کارروائیوں کے دوران 16 نوجوان کشمیریوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات تھیں جبکہ جھڑپوں کے دوران 3 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع آئی تھی۔

نوجوان اقبال بٹ کے دم توڑنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 17 ہوگئی ہیں جن میں سے 13 نوجوانوں کو کارروائیوں کے دوران فائرنگ کرکے مارا گیا جبکہ 4 نوجوانوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ جاں بحق افراد کی نماز جنازہ میں شریک تھے۔

بھارتی فوج کی کارروائیوں میں 100 کے قریب افراد زخمی ہوگئے جن میں سے بیشتر کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے جبکہ اس دوران 4 رہائشی مکانات کو بھی تباہ کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل غیر ملکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ واقعے کو جھڑپ کا نام دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کے پولیس حکام نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات کشمیر کے جنوبی علاقے میں اس وقت سیکیورٹی اہلکاروں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ مبینہ طور پر یہاں چھپے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے آئے تھے۔

پولیس حکام نے دعویٰ کیا کہ مبینہ دہشت گردوں نے سیکیورٹی اہلکاروں کے گھیرے کو توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کے دوران فائرنگ کی اور گرینیڈ پھینکے تاہم وہ جوابی کارروائی میں ہلاک ہوگئے۔

مزید پڑھیں: کشمیر: دو روز سے جاری فائرنگ میں 5 بھارتی فوجی ہلاک

بھارتی پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی وید نے بتایا کہ ’شوپیاں کے علاقے میں مبینہ کمانڈر سمیت 7 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ ایک مبینہ دہشت گرد کو اننت ناگ کے علاقے میں ہلاک کیا گیا اور ایک اور کو گرفتار کرلیا گیا‘۔

بھارتی پولیس کے مطابق اس کے علاوہ شوپیاں میں ایک اور جھڑپ ہوئی جس میں متعدد مبینہ دہشت گردوں کو گھیرے میں لیا گیا اور جھڑپ جاری ہے، تاہم ان واقعات کے حوالے سے کسی بھی کشمیری عسکریت پسند گروپ نے بیان جاری نہیں کیا۔

ان واقعات کے بعد مذکورہ علاقوں میں کشمیری شہریوں کی بڑی تعداد گھروں سے باہر نکل آئی اور بھارت مخالف مظاہروں کا آغاز کیا جبکہ متعدد مظاہرین نے شوپیاں میں جاری جھڑپ والے علاقے میں جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی، اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

ہسپتال انتظامیہ اور پولیس کے مطابق ان جھڑپوں میں 3 درجن سے زائد کشمیری زخمی بھی ہوئے۔

پاکستان کی مذمت

بعد ازاں پاکستان میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے جاری بیان میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے 8 نہتے کشمیریوں کی ہلاکت پر بھارتی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں کی شہادت کے بعد انسانی حقوق چارٹر ایک مذاق بن گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت نے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دیں ہیں اور کشمیر لہولہو ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 8 نہتے کشمیریوں کو وحشیانہ انداز میں قتل کیا گیا، بھارتی فوج نے کشمیریوں کو شوپیاں اور دیالگم میں شہید کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سری نگر: حزب المجاہدین کمانڈر سمیت 11 کشمیری جاں بحق

کشمیری خون عالمی ضمیر کو جنجھو ڑ رہا ہے، وزیر خارجہ

وزیرخارجہ خواجہ آصف نے ٹویٹر میں اپنے پیٖغام میں مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 'کشمیر کو خون میں نھلا دیا گیا درجنوں بیٹے شھید کر دیے گئے کشمیری لاشیں گن رھے ھیں۔جوان جنازے اٹھا رھے ھیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بھارتی ریاستی دہشت گردی کشمیری نوجوان نسل کو ختم کرنے کے درپے ہے، پاکستان اس آزمائش میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے'۔

خواجہ آصف نے کہا کہ 'جنوبی کشمیر کے اضلاع شوپیاں اور اسلام آباد میں خونی کی ہولی کھیلی گئی جہاں 20 کشمیریوں کی شہادت ہوئی اور 300 کے قریب زخمی ہوگئے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'بھارتی قابض فوج کی کارروائیوں میں 5 گھروں کو تباہ کردیا گیا ہے، وادی کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا بدترین دن ہے'۔

خیال رہے کہ کشمیر 1947 میں برطانوی سامراج سے برصغیر کی آزادی کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم ہے اور دونوں ممالک کشمیر پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کئی علیحدگی پسند گروپ کئی دہائیوں سے 5 لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں سے لڑائی میں مصروف ہیں اور اپنی آزادی یا وادی کو پاکستان کا حصہ بنائے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

حریت پسندوں اور بھارتی فوج کے درمیان اس لڑائی میں اب تک ہزاروں کشمیری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔