امریکا نے ملی مسلم لیگ، تحریک آزادیِ کشمیر کو دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا

اپ ڈیٹ 03 اپريل 2018

ای میل

واشنگٹن: امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ملی مسلم لیگ (ایم ایم ایل) اور تحریک آزادیِ کشمیر (ٹی اے کے) کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ مذکورہ تنظیمیں کالعدم لشکرِطیبہ کے ہی مختلف نام ہیں جنہیں سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹر نہیں کرایا جا سکتا۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنی ویب سائٹ پر دہشت گردوں پر مشتمل فہرست میں 7 نئے نام بھی شامل کیے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ملی مسلم لیگ کی قیادت کا حصہ ہیں اور لشکرِطیبہ کے متحرک کارکن ہیں۔

یہ پڑھین: امریکی دفاعی بل: کالعدم لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کی شرط ختم

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ملی مسلم لیگ اور تحریک آزادیِ کشمیر کو لشکرِ طیبہ کے ‘متفرق’ نام قرار دے کر انہیں غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (ایف ٹی او) اور عالمی دہشت گرد (جی ٹی) کی فہرست میں شامل کردیا۔

اس حوالے سے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے واضح کیا کہ ‘لشکرِطیبہ کے چیف حافظ سعید نے اگست 2017 میں ایم ایم ایل تشکیل دی تاکہ سیاسی محاذ پر فعال رہیں، لشکرِطیبہ کے اراکین نے ایم ایم ایل کی تنظیم سازی کی اور انتخابابی مہم کے دوران ویزاں بینرز پر حافظ سعید کی حمایت نظر آئی’۔

رابطہ کار برائے انسداد دہشت گردی، سفیر نیتھن اے سیلز نے کہا کہ ‘انہیں دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مقصد لشکرِطیبہ کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنا ہے تاکہ لوگ ان سے دھوکا نہیں کھائیں’۔

یہ بھی پڑھیں: حافظ سعید کے خلاف مکمل کارروائی کیلئے امریکا،بھارت کا پاکستان پر زور

انہوں نے مزید کہا کہ ‘لشکرطیبہ اپنا کوئی بھی نام رکھ لے لیکن وہ ایک پرتشدد دہشت گرد گروپ ہے اور امریکا ان تمام اقدامات کی حمایت کرے گا جس کے تحت لشکرطیبہ سیاسی جماعت بن کر نہ ابھرے اور وہ اثر انداز ہونے کے لیے تشدد کا راستہ ترک نہ کردیں’۔

اس سے قبل 19 جنوری کو امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نویرٹ کا ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہنا تھا کہ پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے حافظ سعید کے حوالے سے ہمدرد دانہ انداز میں بات کی اور ان کے نام کے آخر میں صاحب کا لاحقہ استعمال کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے۔

ہیتھر نویرٹ نے حافظ سعید کے حوالے سے شاہد خاقان عباسی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم انہیں غیرملکی دہشت گرد تنظیم کے رکن کے طور پر ایک دہشت گرد مانتے ہیں جو 2008 کے ممبئی میں ہونے والے حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا جہاں امریکیوں سمیت کئی افراد مارے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے پوائنٹس بنائے ہیں اور پاکستانی حکومت سے ہمارے تحفظات بہت واضح ہیں اور ہمیں اس بات پر یقین ہے کہ ان کے خلاف قانون کے مطابق مکمل طور پر کارروائی ہونی چاہیے'۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ حافظ سعید کا نام اقوام متحدہ کی فہرست میں دہشت گرد کے طور پر شامل ہے اور ان پر لشکر طیبہ سے تعلق کے باعث سلامتی کونسل کی جانب سے پابندی عائد ہے کیونکہ یہ تنظیم باقاعدہ دہشت گرد تنظیم قرار دی چکی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں دہشت گردی: ’افغانستان میں موجود کالعدم تنظیم ملوث‘

دوسری جانب پاکستانی حکام کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی ایل) میں ایم ایم ایل کو بطور سیاسی پارٹی رجسٹر کرنا مشکل ہوگیا ہے اور اس امر سے صرفِ نظر کرنا مذکورہ عمل امریکا سے براہ راست مخالفت کے مترادف ہوگا۔

امریکا کی جانب سے دہشت گرد قرار دینے والوں میں ایم ایم ایل کی مرکزی قیادت ہے جس میں سیف اللہ خالد، مزمل اقبال ہاشمی، محمد حارث ڈار، تابش قیوم، فیاض احمد ، فیصل ندیم اور محمد احسان شامل ہیں۔


یہ خبر 03 اپریل 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی