اسرائیلیوں کو اپنے وطن کا حق حاصل ہے، محمد بن سلمان

اپ ڈیٹ 03 اپريل 2018

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے ریاست کی پوزیشن میں واضح تبدیلی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلیوں کو اپنے وطن کا حق حاصل ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سعودی ولی عہد کی جانب سے امریکی جریدے دی الٹلانٹک کو دیئے گئے ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان رسمی طور پر کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ تعلقات میں بہتری دیکھی گئی۔

واضح رہے کہ دنیا کے بیشتر اسلامی ممالک میں اسرائیل کو سفارتی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا لیکن سعودی ولی عہد کی جانب سے اس طرح کے خیالات کا اظہار اسرائیل کو سفارتی طور پر تسلیم کرنے کا اشارہ بھی ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کے کئی عرب اور مسلم ریاستوں کے ساتھ’خفیہ‘ روابط کا انکشاف

یاد رہے کہ دونوں ممالک ایران کو سب سے بڑے بیرونی خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں جبکہ امریکا کو اپنا اتحادی تصور کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیل کا فلسطین کے ساتھ تنازع، مفاہمت کی راہ میں ایک طویل رکاوٹ ثابت ہوا ہے تاہم ریاض کی جانب سے اب بھی ان کی خودمختاری کی حمایت جاری ہے۔

تاہم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے امریکی جریدے کو دیئے گئے انٹرویو میں منتازع زمین کے دعوے پر برابری کے حصے کو ظاہر کیا ہے۔

انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہودیوں کو ان کے آبائی ملک کے حصے میں ایک قومی ریاست کا حق ہے؟

اس پر محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ہر جگہ پر ہر شخص کو ایک پر امن قوم کے تحت رہنے کا حق حاصل ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’میرا ماننا ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو یہ حق ہے کہ ان کے پاس اپنی زمین ہو لیکن ہمیں ہر کسی کے لیے استحکام کو یقینی بنانے اور تعلقات بہتر رکھنے کے لیے ایک پُر امن معاہدے کی ضرورت ہے‘۔

خیال رہے کہ 2002 سے سعودی عرب، اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے لیے دو ریاستی حل کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے اور آج تک کسی سعودی حکام نے اس چیز کو تسلیم نہیں کیا کہ اسرائیل کو کسی زمین کا حق حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یروشلم کے معاملے پر سعودی عرب کا 'حقیقی مؤقف' کیا ہے؟

یہاں یہ بات بھی کہی جارہی ہے کہ جیسا کہ سعودی ولی عہد اپنے ضعیف والد شاہ سلمان کے بعد سعودی ریاست کے فرماں روا بن جائیں گے تو اسلام کے مقدس مقامات کے بھی محافظ ہوں گے۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ انہیں اسرائیلیوں کے فلسطینیوں کے ساتھ رہنے پر کوئی ’مذہبی اعتراض‘ نہیں لیکن یروشلم (بیت المقدس) میں مسلمانوں کی مقدس جگہ مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ کی حفاظت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یروشلم میں اس مقدس مسجد اور فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے مذہبی تحفظات ہیں لیکن ہمیں کسی اور شخص پر کوئی اعتراض نہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں