نیب کا مسلم لیگ (ن) کے ایک اور رہنما کیخلاف تحقیقات کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 05 اپريل 2018

ای میل

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے خیبرپختونخوا میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر امیر مقام کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے ہونے پر تحقیقات کا فیصلہ کرلیا۔

نیب کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں منعقد اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام کے خلاف تحقیقات کا حتمی فیصلہ کیاگیا۔

یہ پڑھیں: نیب کا پاناما پیپرز میں شامل ناموں کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ

نیب کے ترجمان نے بتایا کہ نیب کے مرکزی دفتر میں اجلاس کے دوران چار افراد کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے اور ترقیاتی فنڈز خرد برد پر انکوائری کا فیصلہ کیا گیا جس میں امیر مقام، مولانا امیر زمان، عبدالمالک کاکٹر اور پشاور ڈسٹرکٹ ناظم عاصم خان شامل ہیں۔

چیئرمین نیب نے خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل نیب کو امیر مقام پر عائد الزامات سے متعلق تصدیق طلب کی ہے۔

واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے نیب کو درخواست دی گئی کہ سابق قومی اسمبلی رکن امیر مقام گزشتہ 15 برس سے وسیع کرپشن میں ملوث رہے تاہم ان کے خلاف خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔

پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ امیر مقام گزشتہ 10 برسوں سے ہر سال سوات بشام روڈ کی تعمیر کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہیں علاوہ ازیں انہوں نے ضلع میں ترقیاتی کام کرانے کے بجائے ملک بھر کے شہروں میں اپنے لیے محلات تعمیرکرائیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کا 3 سابق جرنیلوں کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر

خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سمیت مرکزی قیادت وزیراعلیٰ شہباز شریف، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیرخارجہ خواجہ آصف اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے خلاف کرپشن کیسز پر تحقیقات جارہی ہیں۔

نیب کے اجلاس میں (ر)جسٹس جاوید اقبال نے بلوچستان نیب کے ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی کہ وہ ایم این اے مولانا امیر زمان کے خلاف ترقیاتی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال اور آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق تفصیلات کی تصدیق کریں۔

اس حوالے سے نیب نے بلوچستان کے ایک اور ایم پی اے عبدالمالک کاکٹر کے خلاف بھی ترقیاتی فنڈز میں خردبرد کی تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

علاوہ ازیں چیئرمین نیب نے خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل نیب کو پشاور ضلعی ناظم محمد عاصم خان کو فنڈز میں کرپشن اور اپنے وفادار ملازمین میں خلاف ضابطہ رقوم کی تقسیم پر تحقیقات کا حکم دیا۔

جعلی ‘نیب افسر’ گرفتار

نیب کے انٹیلیجنس ونگ نے جمیل احمد کو ‘نیب ڈائریکٹر’ بن کر شہریوں کو بلیک میل کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

جمیل احمد کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ سرکاری افسران سمیت عام شہریوں کو تحقیقات سے ڈر کر اپنے مقاصد حاصل کرتا تھا۔

مزید پڑھیں: ’حکومت کے خلاف نیب کی کارروائیاں قبل از انتخابات دھاندلی ہے‘

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ملزم جیمل احمد صنعت کاروں کو ان کے خلاف تحقیقاتی کا خوف دلا کر وصولی کرتا تھا۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ جمیل احمد نے گرفتار ی کے بعد اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا۔


یہ خبر 5 اپریل 2018 کو ڈان اخبارمیں شائع ہوئی