نیب کا پاناما پیپرز میں شامل ناموں کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 06 مارچ 2018

ای میل

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے اہل خانہ کے خلاف دو نئی انکوائریز کا حکم دیتے ہوئے تحقیقات کے دائرے میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں کو شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

اس حوالے سے بتایا جارہا ہے کہ نیب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور پارٹی رہنما ذوالفقار بخاری کے خلاف بھی ایکشن لے سکتا ہے۔

یہ پڑھیں: پنجاب اسمبلی میں نیب کے خلاف قرار داد منظور، قوانین میں ترمیم کا مطالبہ

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے غیرقانونی طریقے سے وسیع رقبے پر پھیلی اراضی کو بین الااقوامی کمپنی کے سپرد کیا اور پارٹی کے چیئرمین عمران خان کو صوبائی ملکیت کے حامل ہیلی کاپٹر کے استعمال کی اجازت دی۔

نیب کی جانب سے بیگم کلثوم نواز، قومی اسمبلی کے رکن حمزہ شہباز اور وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشے رحمان سے تحقیقات کی جائیں گی۔

نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے بیورو ہیڈ آفس میں ایگزیکٹو بورڈ میں اجلاس کے دوران انکوائری کا حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل: نیب نے وزیراعظم کے سیکریٹری کو طلب کرلیا

نیب کے مطابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک، چیف سیکریٹری خالد پرویز اور دیگر نے خلاف ضابطہ مالم جبہ کے جنگلات کی 275 ایکٹر اراضی سیمنز گروپ آف کمپنیز کو فراہم کی جس کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔

نیب نے پاناما لیکس میں 15 کمپنیوں کے مالک ذوالفقار بخاری کے خلاف بھی تحقیقات کا فیصلہ کرلیا۔

اس کے علاوہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ پاناما لیکس میں شامل بشیر داؤد، مریم داؤد، سینیٹر عثمان سیف اللہ، پورٹ قاسم اتھارٹی کے سابق ایم ڈی عبدالستار ڈیرو اور دیگر کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا۔

چوہدری شوگر ملز کے مالکان نواز شریف، وزیراعلیٰ شہباز شریف، حمزہ شہباز، کلثوم نواز اور مریم نواز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات میں تحقیقات کا سامنا ہوگا۔

مزید پڑھیں: نیب کی وزارتِ داخلہ سے نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے فنانشنل مینجمنٹ یونٹ نے شکایت درج کرائی ہے کہ مذکورہ افراد کو مشتبہ ذرائع سے رقم وصول ہوئی۔

نیب نے آمدن سے زائد اثاثوں کے ضمنی ریفرنس میں اسحق ڈار، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے سابق سربراہ احد خان چیمہ اور دیگر کو نامزد کر رکھا ہے۔

نیب کے مطابق پیرا گون سٹی پرائیوٹ لیمٹڈ کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا جس کے باعث ہزاروں لوگوں کو خطیر رقم کا نقصان پہنچا۔

اسحق ڈار، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشے رحمان اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے سابق چیئرمین سید اسماعیل شاہ کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے خلاف ضابطہ ٹھیکہ دینے پر انکوائری کا سامنا ہوگا۔

سوئی سدرن گیس کمپنی اور پاکستان اسٹیل ملز کے بعض افسران کے خلاف بھی نیب متحرک ہوگا ہے جنہوں نے قومی اداروں کو گیس بند کرکے کروڑوں کا نقصان پہنچایا۔


یہ خبر 6 مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی