صدر مملکت ممنون حسین نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ ٹیکس ایمنسٹی آرڈیننس پر دستخط کرکے باقاعدہ منظوری دی جس کا فوری طور پر اطلاق ہوگا۔

صدر مملکت کی جانب سے منظوری کے بعد ٹیکس کے دائرہ کار کو بڑھانے کے لیے لائی گئی ایمنسٹی کا اطلاق ہوگیا۔

آرڈیننس کے تحت اندرون ملک اثاثے ظاہر کرنے والے افراد کو 5 فیصد جرمانے اور بیرون ملک اثاثے رکھنے والے افراد 2 فیصد جرمانہ ادا کر کے ٹیکس کے دائرہ کار میں شامل ہوسکتے ہیں جس کے عوض انھیں مکمل چھوٹ حاصل ہوگی۔

خیال رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 5 اپریل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایمنسٹی اور ٹیکس اصلاحات کا اعلان کیا تھا۔

وزیراعظم نے ایمنسی کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'انکم ٹیکس کے حوالے سے پیکیج جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ملک میں اس وقت صرف 7 لاک افراد انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، ٹیکس گزاروں کی محدود تعداد معاشی مسائل پیدا کر رہی ہے اور ٹیکس ادا نہ کرنے سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، تاہم اس پیکج سے انکم ٹیکس کے دائرہ کار میں اضافہ ہوگا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ملک میں 12 کروڑ افراد قومی شناختی کارڈ رکھتے ہیں، شناختی کارڈ نمبر کو انکم ٹیکس نمبر بنادیا گیا ہے اور اس پیکج کے ذریعے کوئی بھی شہری ایک آسان فارم بھر کر انکم ٹیکس دہندہ بن سکتا ہے'۔

مزید پڑھیں:حکومت کی نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے کس کا فائدہ کس کا نقصان؟

وزیر اعظم نے 5 نکاتی ٹیکس اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے اور جن کے بیرون ملک اثاثے ہیں وہ 2 فیصد جرمانہ اد کر کے ٹیکس ایمنسٹی حاصل کر سکتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'انکم ٹیکس کی شرح کو بھی کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار کم کیا جائے گا، 12 لاکھ سالانہ آمدن والے شہری انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے، 12 سے 24 لاکھ روپے سالانہ آمدن والے افراد پر 5 فیصد، 24 سے 48 لاکھ سالانہ آمدن پر 10 فیصد انکم ٹیکس ہوگا، 48 لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پر 15 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا'۔

انھوں نے کہا تھا کہ 'یہ ایمنسٹی اسکیم کسی ایک پاکستانی کے لیے نہیں بلکہ ہر وہ شخص جو پاکستانی شناختی کارڈ رکھتا ہے وہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، اسکیم کا مقصد لوگوں کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانا ہے، تاہم سیاسی لوگ ایمنسٹی اسکیم کا حصہ نہیں ہیں، جبکہ اسکیم سے 30 جون 2018 تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا'۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ 'اگر کسی نے جائیداد کی ڈکلیئرڈ ویلیو مارکیٹ ویلیو کے برابر ظاہر نہیں کی تو حکومت دگنی رقم سے اس جائیداد کو خریدنے کا حق محفوظ رکھے گی'۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ 'ایمنسٹی ان اثاثوں کے لیے ہے جو ظاہر نہیں، اسکیم کے بعد پاکستان میں 3 کروڑ افراد ٹیکس دہندہ ہونے چاہئیں جبکہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہ اٹھانے والے قانون کی گرفت میں آئیں گے'۔

آف شور کمپنیوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 'آف شور کمپنیاں بھی اثاثہ ہیں، آف شور کمپنیاں رکھنا جرم نہیں لیکن اثاثے ڈکلیئر ہونے چاہئیں'۔