حکومت کی نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے کس کا فائدہ کس کا نقصان؟

اپ ڈیٹ 30 جنوری 2018

ای میل

اگر آپ ٹیکس چور ہیں اور چوری کے پیسے سے آپ نے ملک میں جائیداد خریدی ہے یا پھر بیرون ملک اثاثے بنائے ہیں تو پھر آپ کو حکومت کی جانب سے ایک موقع دیا جارہا ہے۔ ماضی میں ٹیکس کی چوری کرنے اور اثاثے بنانے والوں کو اثاثے ظاہر کرنے پر نئی ایمنسٹی اسکیم دینے کی تیاری زورو شور سے جاری ہے۔

اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے روح رواں موجود ہ وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسماعیل ہیں۔ ہفتے کے روز انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس نے ایک شام مفتاح اسماعیل کے نام کی اور وہاں اجتماعی مباحثے کا اہمتام بھی کیا گیا جس میں جہاں ایک طرف معیشت کو درپیش مسائل پر بات کی گئی تو وہیں متوقع ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے متعلق بھی مختلف آراء سامنے آئی۔

معروف سرمایہ کار عارف حبیب کہتے کہ ماضی میں حکومتی پالیسیوں اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ بیرون ملک منتقل ہوا ہے۔ اس سرمائے کو وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اور حکومت اس حوالے سے ایک ایمنسٹی پالیسی کا اعلان کرے۔

چارٹرڈ اکاونٹنٹ اور ٹیکس ماہر اشفاق تولا کا کہنا ہے کہ ملک میں ٹیکس نظام پر کاروباری برادری کو بھروسہ نہیں ہے۔ اور صرف 100 کمپنیاں مجموعی طور پر 431 ارب روپے کا ٹیکس ادا کرتی ہیں جو کہ بہت کم ہے۔61 ہزار کمپنیوں میں سے صرف 10 ہزار ٹیکس ادا کرتی ہیں اس مقصد کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم دی جائے تاکہ لوگ اپنے سرمائے کو ظاہر کرسکیں اور حکومت کو خاطر خواہ ٹیکس میں بھی اضافہ ہوسکے۔

پڑھیے: 6 کروڑ غریبوں کے ٹیکس چور سیاستدان

اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے وفاق ایوان ہائے تجارت وصنعت، ایسوسی ایشن بلڈرڈز اینڈ ڈویلیپرز اور دیگر تجارتی انجمنیں اور ایوان تجارت و صنعت بھی حکومت سے مستقل مطالبہ کرتی چلی آئی ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے اس موقع پر معیشت، این ایف سی ایوارڈ، بجٹ خسارے اور دیگر مالیات پر تفصیلی بات چیت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے متعلق اپنے بیانیے کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی۔ اور کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ٹیکس ایمنسٹی مگر یہ ٹیکس ایمنسٹی نہیں بلکہ معیشت کو دستاویزی بنانے، یعنی اسے مکمل طور پر ریکارڈ میں لانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں اور لگتا ہے آنے والے چند دنوں میں اس ایمنسٹی اسکیم کو بھی معیشت کی دستاویزی اسکیم کے طور پر متعارف کروا دیا جائے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ اس اسکیم میں ایمنسٹی کے چور دروازے بند کردیں گے۔ پاکستان میں 1990 سے ایمنسٹی جاری ہے۔ آپ کتنے بھی ڈالر چاہیں بیگ میں بھر کر لے آئیں کوئی آپ سے نہیں پوچھے گا۔ ایف بی آر کو اس حوالے سے کچھ بھی پوچھنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ ہنڈی حوالے سے رقم بیرون ملک لے کر جائیں اور اور بینکاری چینل کے زریعے رقم لے آئیں کوئی نہیں پوچھ سکے گا کہ رقم کہاں سے آئی اس چور دروازے کو بند کرنا ہوگا۔ اس کے لیے قانون میں تبدیلی کی جائے گی۔ جب تک چور دروازے بند نہ ہوئے تو ایمنسٹی اسکیم کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

یہی مؤقف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی اپنے دھرنوں میں اختیار کیا تھا۔ اور اس حوالے سے کی گئی قانون سازی کو ملک کے لیے سب سے بڑی چوری قرار دیا تھا۔

اس سے قبل مفتاح اسماعیل نے ایسوسی ایشن بلڈرز اینڈو ڈویلپرز کے ظہرانے سے بھی خطاب کیا اور اعلان کیا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر وہ کام کررہے ہیں اور اس حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کر رہے ہیں۔

اس موقع پر جب میں نے ان سوال کیا کہ پاکستان میں ٹیکس چوری، سرمائے کی غیر قانونی بیرون ملک منتقلی اور دیگر سے متعلق قوانین موجود ہیں۔ حکومتی پالیسی درست نہ تھی یا ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب تھی مگر ان سب نے ٹیکس چوری اوراثاثے چھپا کر جرم کیا ہے تو کیوں حکومت انہیں معافی دے رہی ہے۔ اور جبکہ تنظیم برائے اقتصادی تعاون و ترقی (OECD) کا ممبر بننے کے بعد تو خود بہ خود ٹیکس چوروں کی معلومات آپ کو مل جائیں گی؟

اس پر مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ہمیں جیل بھرنے کا شوق نہیں ہے۔ پاکستان میں گزشتہ دنوں امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے اور ماضی میں حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے اپنا پیسہ بیرون ملک منتقل کیا۔ بیرون ملک اثاثے رکھنے والے بھی پاکستانی اور اپنے بھائیوں کو ایک موقع دینا چاہیے۔

مزید پڑھیے: خود ریلیکس، عوام پر ٹیکس

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے پہلے کسی بھی پاکستانی کی معلومات حاصل کرنے کے لیے خط نہیں لکھوں گا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بزنس کمیونٹی کیوں اتنی شدت سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا مطالبہ کررہی ہے۔ تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ ٹیکس چوروں کو پکڑنے کے خلاف دنیا بھر میں اتحاد بن رہے ہیں اور انہی اتحادوں میں پاکستان میں شامل ہوگیا ہے۔

اسی لیے دیکھا جائے تو مفتاح اسماعیل کی جانب سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم لانا نون لیگ کی حکومت سے 360 ڈگری کا ٹرن ہے۔ اس سے قبل ایف پی سی سی آئی میں سابقہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور موجودہ گورنر اسٹیٹ بینک طارق باوجوہ ایف پی سی سی آئی میں اس مطالبے کی نفی کرچکے ہیں۔ اور ان کا یہی کہنا تھا کہ اب کسی ایمنسٹی کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ پاکستان نے او ای ڈی سی کی ممبر شپ حاصل کر لی ہے اور اس کے کنونشن پر بھی دستخط کر دیے ہیں اور اب پاکستانیوں کی جنہوں نے ملک کا پیسہ چوری کر کے بیرون ملک چھپایا ہے ان کی معلومات از خود حکومت کو دستیاب ہوجائے گی۔

سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم اس سے پہلے بھی فراہم کی گئی تھیں مگر ان سے کوئی نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔اور ماضی کی تمام ٹیکس ایمنسٹی اسکیمیں بری طرح ناکام ہوتی رہی ہیں۔ زاب مذید کوئی نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم دینا سیاسی طور پر بھی درست نہیں ہے۔

پاکستان نے 2016 میں او ای ڈی سی کے ٹیکس معاملات میں باہمی انتظامی معاونت کے معاہدے پر دستخط کیے پاکستان اس معاہدے پر دستخط کرنے والا 104 واں ملک تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں اس معاہدے میں شامل ہونے کے حوالے سے بہت ہی زیادہ مزاحمت موجود تھی۔

اس کنونشن کے حوالے سے پاکستان کو معلومات کی رسائی 2018 کے آخر اور 2019 کے اوائل سے شروع ہوسکے گی۔ جبکہ ٹیکس چوروں کی جنت تصور کیے جانے والے برٹش ورجن آئی لینڈ، آئل آف مین، جرسی لیوتھوینیا اور برطانیہ نے معلومات کی فراہمی ستمبر 2017 سے شروع کرچکے ہیں جبکہ ستمبر 2018 سے سوئیٹزرلینڈ اور ملائیشیا بھی معلومات کی فراہمی شروع کردیں گے۔

ان معاہدوں اور کنونشن کے ذریعے عالمی سطح پر ٹیکس چوری میں خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے۔ سال 2015 سے 17 کے درمیان پہلے چوری ہوجانے والے 240ارب ڈالر کے ٹیکس رکن ملکوں کو دستیاب ہوئے جو کہ عالمی کارپوریٹ ٹیکس کا 10 فی صد ہے۔ سال 2017 میں 80 ملکوں نے اس معاہدے پر دستخط کر کے رکن ملکوں نے 11 ہزار سے زائد ٹیکس معاہدوں کو تبدیل کردیا ہے۔

مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی کے خدوخال

مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو انڈونیشیا کی سال 2016 میں متعارف کروائی جانے والی اسکیم کی بنیادوں پر تیار کیا جارہا ہے۔ انڈونیشیا کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے تقریباً 10 لاکھ کے قریب افراد نے استفادہ کیا۔ جس میں دو لاکھ نئے ٹیکس دہندگان بنے۔ انڈونیشیا کی بالغ آبادی 16 کروڑ 50 لاکھ میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد 3 کروڑ 50 لاکھ تھی۔ اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم میں مجموعی طور پر 366ارب ڈالر کے اثاثے ظاہر کیے گئے۔ ظاہر شدہ اثاثے انڈونیشیا کی مجموعی جی ڈی پی کا 40فی صد تھے۔

جانیے: خوشحال پاکستان کی کُنجی

انڈونیشیا میں ٹیکس ایمنسٹی کے لیے مختلف طریقہ کار وضع کیا گیا تھا۔ ٹیکس ایمنسٹی میں بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے اور انہیں واپس لانے کے لیے الگ الگ ٹیکس کی شرح رکھی گئی تھی۔ بیرون ملک رکھے فنڈز ظاہر کرنے پر ٹیکس چار سے دس فی صد تک ٹیکس وصول کیا گیا۔ جبکہ اس فنڈ کو واپس لانے پر دو سے پانچ فی صد تک ٹیکس وصول کیا۔

اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو عالمی ریٹنگ اینجسیوں موڈیز اور دیگر نے مثبت قرار دیا ہے۔ مگر اس تمام کے باوجود انڈونیشیا کے ٹیکس میں سالانہ بنیادوں پر تین فی صد اضافی وصولی کی گئی۔ اتنی بڑی اسکیم دینے کے باوجود لوٹے اور چھپائے گئے سرمائے کو انڈونیشیا واپس لانے میں ناکام رہا ہے۔

اس کے علاوہ وہاں پر ماضی میں کی گئی ٹیکس چوری کے جرم کو معمولی سے جرمانہ ادا کرنے پر معاف کردینے کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جو لوگ ماضی میں پوری دیانت داری سے ٹیکس ادا کرتے چلے آئے ہیں، اسے ان کی حق تلفی قرار دیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے امیر ترین صاحب ثروت افراد کو فائدہ پہنچا دینے کے لیے ہے۔ جنہیں سزا دینی تھی انہیں جزا دیدی گئی۔

عالمی بینک اور آکسفیم نے بھی انڈونیشیا کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ آکسفیم نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جنوبی ایشیاء کی سب سے بڑی معیشت میں امیر اور غریب میں فرق بڑھ رہا ہے۔ اس اسکیم کے بعد انڈونیشیا کے امیر لوگوں کے پاس مزید سرمایہ آگیا ہے۔ محض ایک فی صد امیر ترین افراد 25 کروڑ کی آبادی کے ملک کی آدھی دولت پر قبضہ کیے ہوئے ہیں۔

اس اسکیم کے خلاف محنت کشوں نے 29 ستمبر 2016 کو بڑی احتجاجی ریلی بھی نکالی۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو عوام نے ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا ہے۔

پاکستان میں بھی اس ٹیکس ایمنسٹی کے حوالے سے سیاسی اور سماجی حلقوں میں سخت رائے پائی جاتی ہے۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اس ٹیکس ایمنسٹی کے سخت خلاف ہیں۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم اس ایمنسٹی کے حق میں ہیں اور اس حوالے سے پارلیمنٹ میں اگر کوئی بل یا اسکیم منظوری کے لیے لائی گئی تو ایوان میں تقسیم نظر آئے گی۔ مگر سینیٹ اور قومی اسمبلی سے متوقع طور پر حکومت پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر منظور کروا سکتی ہے۔

پاکستان میں عام سڑک پر چلنے والے سے پوچھا جائے تو وہ ایسی کسی بھی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی مخالفت کرتا نظر آئے گا۔ اس اسکیم پر نیو چینل کے لیے پیکج کرنے کی غرض سے جب سڑک کارخ کیا تو ہر کسی کا یہی کہنا تھاکہ اس ایمنسٹی اسکیم کو متعارف نہ کروایا جائے۔

پاکستان نے گزشتہ چند دہائیوں میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ اور پاکستان کی حکومت کے اخراجات بڑھتے گئے جبکہ ٹیکس کی وصولی اس تیزی سے نہیں بڑھی۔ اور اگر یہ اثاثے جو کہ ظاہر کیے جاتے، یا لوٹے نہ جاتے تو حکومت اور عوام کی فلاح کے کام آتے اور اس وقت چاہے امن خراب تھا یا حکومت کی پالیسی خراب بھی پھر بھی کسی نے انہیں یہ حق نہیں دیا تھا کہ وہ سرمائے کو لوٹ کر بیرون ملک لے جائیں یا ٹیکس ادا نہ کریں اور حکومت بینکوں آئی ایم ایف، عالمی بینک یا دیگر اداروں سے قرض لے اگر یہ رقم اس وقت پاکستانی معیشت کو دستیاب ہوتی تو آج ملکی معیشت کی وہ حالت نہ ہوتی جو کہ آج ہے۔ پاکستان پر بیرونی اور مقامی قرضوں کا یہ بوجھ نہ ہوتا جو کہ اس وقت موجود ہے۔

مفتاح اسماعیل آئی کیپ میں ٹیکس ایمنسٹی پر خطاب کر رہے تھے کہ ان کے پروٹوکول میں موجود ایف بی آر کے ایک افسر سے پوچھا کہ کیا ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ ہوگا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ہو یا نہ ہو میرے دبئی میں دو فلیٹ ہیں وہ بیوی کے نام کر کے ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کردوں گا، باقی اللہ کی مرضی۔

جانیے: پاکستان ایشیئن ٹائیگر کیسے بن سکتا ہے؟

بظاہر اس ٹیکس ایمنسٹی کا مطالبہ کرتے تو تاجر اور صنعت آتے ہیں مگر لگتا ہے کہ حقیقی طور پر فائدہ بیورکریٹس اور سیاستدانوں کو ہوگا۔ اور انہیں ملک کی لوٹی ہوئی دولت پر سزا ملنے کے بجائے معمولی سی فیس دے کر وطن واپس لانے کا موقع ملے گا۔

ایف پی سی سی آئی میں ایک صنعت کار دوست جن سے گزشتہ دس سال سے شناسائی ہے پوچھا کہ کیا آپ اس ٹیکس ایمنسٹی کے حق میں ہیں، تو کہتے ہیں کہ راجہ صاحب، خاموشی سب سے بہتر ہے۔ بندوق کے لیے کندھا ہمارا ہے مگر حال وہی ہونا ہے جو این آر او میں ہوا تھا۔ این آر او پیپلز پارٹی کے نام پر ہوا مگر اصل فائدہ تو ایم کیو ایم اٹھا گئی۔ اسی طرح تاجروں اور صنعت کاروں سے زیادہ سیاستدان اور بیوروکریٹس فائدہ اٹھائیں گے۔ ان کے بچوں بیوی کے نام پر موجود جائیداد کو ظاہر کیا جائے گا اور وہ بھی معمولی سی فیس پر ۔

ان صاحب کا کہنا تھا کہ جو بھی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم ہو، وہ بہت زیادہ سخت شرائط پر ہو تاکہ اثاثے ظاہر کرنے والے بھی تکلیف کو محسوس کرسکیں۔ اگر جیل کو بھر نہیں سکتی تو پھر کم از کم ٹیکس چوری اور ملکی دولت لوٹنے پر زیادہ سے زیادہ سزا کی بھی تو قیمت وصول کی جائے نہ کہ صرف اثاثے کی۔ جیل کی یومیہ قید کی قیمت بھی اثاثے کے مطابق مقرر کی جائے تو پھر ہی اصل زر مل سکے گا۔

مگر میری رائے تو یہی ہے۔ پاکستان سے غیر قانونی طور پر رقوم کو منتقل کرنا، ٹیکس کی چوری اور ٹیکس کی عدم ادائیگی یا ادائیگی کے باوجود ٹیکس ریٹرن نہ بھرنا قانونا جرم ہے۔ اور تعزیرات پاکستان میں ان قوانین کی سخت ترین سزائیں موجود ہیں۔ ٹیکس ایمنسٹی کے بجائے حکومت کو ان قوانین پر عملدرآمد کروایا جائے اور 2018 کے آخر تک انتظار کر لیا جائے، پھر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔