کشمیر میں امن کی بحالی بامقصد مذاکرات سے ممکن ہے، آرمی چیف

اپ ڈیٹ 14 اپريل 2018

ای میل

—فوٹو:آئی ایس پی آر
—فوٹو:آئی ایس پی آر

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطے میں امن کی بحالی کے لیے بھارت سے بامقصد مذاکرت کو اہم قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ ہسمائیہ ممالک کے درمیان دو طرفہ مذاکرات صرف 'برابری اور احترام کی بنیاد پر ہوسکتے ہیں'۔

پی ایم اے لانگ کورس کے 137ویں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کے دوران آرمی چیف نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حمایت کا اعادہ کیا جہاں رواں سال ہونے والے پرتشدد واقعات میں اب تک 100 کے قریب کشمیری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ 'میں اس موقع پر جموں و کشمیر کے عوام کی حق خود ارادیت کی مکمل سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اظہار کرتا ہوں'۔

انھوں نے کہا کہ 'معصوم اور پرامن شہری پر بدترین ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں اور عالمی برادری کو جاگنے اور برصغیر کے بدقسمت حصے میں امن لانے کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا بہترین موقع ہے'۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے جس کے لیے 'ہمارا یہ یقین ہے کہ کشمیر سمیت پاک-بھارت تنازعات کا حل صرف بامقصد مذاکرات سے حاصل ہوگا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان باوقار اور برابری کی بنیاد پر ہونے والے مذاکرات کے لیے پرعزم ہے'۔

پاکستان کے فورسز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'ہماری بہادر فورسز ہر قسم کے خطرات کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں'۔

افغانستان میں پائیدار امن کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'ہم تمام دو طرفہ اور ہر فورم پر افغانستان میں امن اور مفاہمت کی کوششیں کے لیے بھی بدستور ہے، ہمارا ماننا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن قائم کیے بغیر پاکستان میں بھی امن نہیں ہوگا کیونکہ ہمارا امن ان سے منسلک ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ مل کر اس مقصد کے حصول کے لیے کام کرنا ہوگا'۔

پاکستان میں امن کی بحالی کے لیے فوج کے کردار پر فوج کے سربراہ نے کہا کہ 'پاکستان نے اپنی سرزمین سے قریباً تمام دہشت گردوں کی موجودی اور انفراسٹرکچر کو ختم کردیا ہے'۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ 'ہم اب آپریشن ردالفساد کے تحت ان فسادیوں کی رہائش کے خلاف جارہے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم نے پاکستان سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے اپنے حصے کا کام بلا تفریق کرلیا ہے اور ہماری کوششوں سے بہتر نتائج ملے ہیں'۔

آرمی چیف نے کہا کہ 'ہم ان کوششوں کو بغیر کسی مجبوری کے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ پاکستان کو محفوظ، پرامن اور ترقی یافتہ ملک بنائیں'۔