• KHI: Maghrib 7:24pm Isha 8:51pm
  • LHR: Maghrib 7:09pm Isha 8:45pm
  • ISB: Maghrib 7:19pm Isha 8:59pm
  • KHI: Maghrib 7:24pm Isha 8:51pm
  • LHR: Maghrib 7:09pm Isha 8:45pm
  • ISB: Maghrib 7:19pm Isha 8:59pm

بلوچستان: خاتون کے ساتھ ریپ کا الزام، اے ایس آئی گرفتار

شائع April 15, 2018

ڈیرہ مراد جمالی کی پولیس پوسٹ میں مبینہ طور پر خاتون کے ساتھ ریپ کے الزام میں سب انسپکٹر سمیت دیگر اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی ایس پی) نذیر احمد کرد نے صحافیوں کو بتایا کہ میڈیکل رپورٹ میں خاتون کے ساتھ ریپ کی تصدیق ہو گئی ہے۔

یہ پڑھیں: ‘انتقامی ریپ’ کے الزام میں خواتین سمیت 12 افراد گرفتار

انہوں نے بتایا کہ اے ایس آئی غلام سرور گولہ، محافظ محمد دین اور ڈرائیور نذیر احمد کو معطل کرکے انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

ڈی ایس پی کے مطابق ملزمان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 200 اور 376 کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا اور تفتیش کے لیے سینئر افسران پر مشتمل پانچ رکنی ٹیم تشکیل دیدی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی خاوند بخش کریں گے تاہم اوچ پاور پلانٹ پر پولیس چیک پوسٹ پر تعینات کانسٹیبل کو بھی گرفتار کرکے تحقیقات میں شامل کیا گیا۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم نے متاثرہ خاتون کا بیان قلمبند کرکے انہیں کوئٹہ کے دارالامان میں منتقل کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کا ممکنہ طور پر ’ریپ‘ کے بعد قتل ہوا،آئی جی خیبر پختونخوا

انہوں نے بتایا کہ خاتون ضلع بولان کی تحصیل باگ کی رہائشی تھیں اور ضلع نصیر آباد میں اپنے رشتے داروں سے ملنے آئیں تھیں لیکن گھر کا پتہ بھول جانے کی وجہ سے اوچ پاور پلانٹ پولیس پوسٹ پر مدد کے لیے پہنچی تاہم پوسٹ پر تعینات اہلکار نے اپنے انچارج اےایس آئی غلام سرور گولہ کو معاملے کی اطلاع دی۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ملزم اے ایس آئی غلام سرور پولیس چوکی پر آیا اور خاتون کو اپنے ہمراہ لے گیا جس کے بعد اے ایس آئی نے مبینہ طور پر خاتون کے ساتھ ریپ کیا اور اسے رات بھر حبس بیجا میں رکھا۔

واقعے کے اگلے روز خاتون کو نیم بیہوشی کی حالات میں ضلعی ہسپتال منتقل کیا گیا علاوہ ازیں متاثرہ خاتون اپنے رشتے داروں کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوئی اور معاملہ ڈیرہ مراد جمالی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کرایا گیا۔

مزید پڑھیں: بھارت میں 100 سالہ خاتون کا ’ریپ‘

اسی دوران سماجی تنظیموں کے متعدد کارکنوں نے واقعے کے خلاف احتجاج کیا اور ذیلی شاہراہوں سمیت ہائی وے روڈ پر مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، آرمی چیف اور انسپکڑ جنرل پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ واقعے کا نوٹس لیں اور ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔


یہ خبر 15 اپریل 2018 کو ڈان اخبارمیں شائع ہوئی

کارٹون

کارٹون : 15 جولائی 2024
کارٹون : 14 جولائی 2024