کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی پارٹی کے منتخب نمائندوں کو زبردستی ایم کیو ایم پاکستان چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے تاہم وہ پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) میں شمولیت اختیار کرنے کے بجائے ‘مرنا’ پسند کریں گے۔

پی آئی بی کالونی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی درخواست کی۔

یہ پڑھیں: ایم کیو ایم سے بے دخل سلمان بلوچ پی ایس پی میں شامل

انہوں نے واضح کیا کہ چیف جسٹس اور آرمی چیف سے ملاقات میں بتائیں گے کہ کراچی میں انتخابات ‘انجینئرڈ’ ہیں۔

پریس کانفرنس میں رکن قومی اسمبلی جمال احمد اور نشاط ضیاء قادری نے بھی بات چیت کی اور الزام عائد کیا کہ ان پر پی ایس پی میں شمولیت اختیار کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے لیکن وہ ایم کیو ایم سے دہائیوں پرانی وابستگی سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

دوسری جانب ڈاکٹر فاروق ستار نے قدرے جذباتی انداز میں کہا کہ ‘ہمارے کسی رکن نے اپنی مرضی سے پی ایس پی میں شمولیت اختیار نہیں کی اور میں پی ایس پی کا رکن بننے سے مرنا پسند کروں گا، میں ایم کیو ایم کے ساتھ زندہ رہوں گا اور اسی کے ساتھ مروں گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین قومی اسمبلی کو جان سے مار دینے کی دھمکی پر پارٹی بدلنے پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم پاکستان کا پی ایس پی سے ’سیاسی اتحاد‘ کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ نے واضح کیا کہ ‘مصالحت کاروں’ نے پارٹی کے اراکین کو اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس صاف اور شفاف انتخابات کرانے کی باتیں کرتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ کراچی میں انتخابات صاف اور شفاف نہیں ہو سکتے، ‘ایم کیو ایم پاکستان کو انتخابی عمل سے باہر دھکیلا جارہا ہے’۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ‘وہ چیف جسٹس آف پاکستان اور جی ایچ کیو میں اپنے موقف بیان کیے بغیر واپس نہیں آئیں گے’۔

رکن قومی اسمبلی جمال احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں گزشتہ 5 دن سے پی ایس پی کے رہنماؤں کی جانب سے دھمکی آمیز کالز وصول ہو رہی تھیں جبکہ آخری کال پر ‘بچوں کی حفاظت کے خاطر میں نے پی ایس پی میں شمولیت پر راضی مندی کا اظہار کیا’۔

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی سید وسیم پی ایس پی میں شامل

جمال احمد نے واضح کیا کہ ‘آج میں اعلان کرتا ہوں کہ کبھی پی ایس پی میں شمولیت اختیار نہیں کروں گا چاہیے اس فیصلے کے بعد میری لاش ملے’۔

ایم پی اے نشاط ضیاء قادری کا کہنا تھا کہ پی ایس پی کے صدر انیس قائم خانی نے انہیں کال کی تھی۔

بہادر آباد گروپ کا ڈاکٹر فاروق ستار کے موقف کی حمایت

دوسری جانب ایم کیو ایم بہادر آباد گروپ نے ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کی تائید کرتے ہوئے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور آرمی چیف سے معاملے کا جائزہ لینے کی درخواست کی۔

بہادر آباد گروپ کے کنوینئر خالد مقبول صدیقی نے وزیراعظم، چیف جسٹس آف پاکستان، آرمی چیف، عدلیہ اور میڈیا سے اپیل کی کہ ایم کیو ایم قانون سازوں کو دھمکی دینے اور دباؤ میں لانے سے متعلق معاملے پر توجہ دیں۔

اس حوالے سے مزید پڑھیں: بیمار ایم کیو ایم اور لاچار ڈاکٹرز!

انہوں نے نشاط ضیاء قادری اور جمال احمد کے حوالے سے کہا کہ دونوں خراج تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے عوام کے سامنے دباؤ کا ذکر کیا۔

خالد مقبول صدیقی نی حکومت اورا سٹیبلشمنٹ پر زور دیا کہ معاملے کی تحقیقات کرائیں۔


یہ خبر 16 اپریل 2018 کو ڈان اخبارمیں شائع ہوئی