واٹس ایپ اور میسنجر کے مقابلے میں گوگل کا بڑا ہتھیار

20 اپريل 2018

ای میل

ویب اور فون میں یہ نئی سروس کچھ ایسی ہوگی — فوٹو بشکریہ گوگل
ویب اور فون میں یہ نئی سروس کچھ ایسی ہوگی — فوٹو بشکریہ گوگل

گوگل نے آخرکار دنیا کی مقبول ترین میسجنگ سروسز واٹس ایپ اور فیس بک مینسجر وغیرہ کو شکست دینے کے لیے اپنے ہتھیار کو پیش کردیا ہے۔

گوگل نے ایک نئی میسجنگ سروس متعارف کرائی ہے جسے چیٹ کا نام دیا گیا ہے اور اسے توقع ہے کہ وہ اینڈرائیڈ فون میں پیغامات بھیجنے کی سروس کو زیادہ آسان بنادے گی۔

بنیادی طور پر یہ گوگل کی جانب سے 2 سال پہلے شرع کی گئی رچ کمیونیکشن سروس (آر سی ایس) ہے جس کو اب چیٹ کے نام سے حتمی شکل دی گئی ہے اور دنیا بھر کے موبائل آپریٹرز اور اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں سے اس حوالے سے اشتراف کیا گیا۔

یہ چیٹ سروس درحقیقت ہر فون میں موجود ایس ایم ایس سروس کی جدید شکل ہے۔

تاہم اب اینڈرائیڈ فون میں ایس ایم ایس میں مختلف کا اضافہ کیا جارہا ہے جیسے ریڈ receipts، اپنے دوست کی ٹائپنگ کرتے دیکھنے کا عندیہ، ایچ ڈی تصاویر اور ویڈیو اور گروپ ٹیکسٹ وغیرہ۔

اگر کوئی فرد چیٹ ایپ سے محروم ہوگا، تو میسج خودکار طور پر ایس ایم ایس یا ایم ایم ایس میں تبدیل ہوجائے گا، یعنی آپ کو ایس ایم ایس یا ایم ایم ایس کا خرچہ برداشت کرنا پڑے گا، دوسری صورت میں چیٹ میسج وائی فائی پر مفت پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں : واٹس ایپ کے مقابلے میں گوگل کا میسنجر متعارف

اس سروس میں گوگل کی جانب سے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا تحفظ فراہم نہیں کیا جائے گا۔

یہ گوگل کی جانب سے اینڈرائیڈ میں اپنی ناکام میسجنگ سروسز بشمول گوگل پلس، ہینگ آﺅٹ، ایلو، ڈو اور اینڈرائیڈ میسجز کے بعد ایک نیا تجربہ ہے۔

اس مقصد کے لیے گوگل نے اپنی میسجنگ ایپ ایلو کو روکنے کا اعلان بھی کیا ہے تاکہ چیٹ کو کامیاب بنایا جاسکے۔

اب تک گوگل 55 موبائل آپریٹرز، 11 اسمارٹ فونز بنانے والی کمپنیوں اور آپریٹنگ سسٹم بنانے والی ایک کمپنی مائیکرو سافٹ سے اپنی نئی سروس کے لیے معاہدہ کرچکا ہے۔

اس سروس میں شامل کمپنیاں— فوٹو بشکریہ جی ایس ایم اے
اس سروس میں شامل کمپنیاں— فوٹو بشکریہ جی ایس ایم اے

آسان الفاظ میں گوگل اپنے نئے پلیٹ فارم کو واٹس ایپ اور میسنجر کے تمام فیچرز سے بھر دینا چاہتا ہے۔

مزید پڑھیں : کمپیوٹر سے ایس ایم ایس بھیجنا جلد ہوگا ممکن

ایس ایم ایس 160 حروف کی وہ سروس ہے جو کئی دہائیوں سے موجود ہے مگر آج کے فونز زیادہ طاقتور اور صارف زیادہ فیچرز مانگتے ہیں اور یہی چیز واٹس ایپ اور میسنجر کی کامیابی کا باعث بنی۔

اب گوگل اس نئی سروس کے ذریعے انہیں ٹکر دینا چاہتا ہے جس میں دیگر فیچرز کے ساتھ گوگل کے ڈیجیٹل اسسٹنٹ کی خدمات بھی صارف کو حاصل ہوگی۔

یہ سروس ممکنہ طور پر رواں سال کے آخر یا اگلے سال کے وسط میں صارفین کے لیے دستیاب ہوگی اور ہاں اس کا ویب ورژن بھی ہوگا۔