پاکستان سول اور عسکری مقاصد کے لیے غیرملکی سٹیلائٹ پر انحصار کو کم کرنے کی کوشش میں اگلے مالی میں کئی منصوبوں کے ذریعے ایک جارحانہ اسپیس پروگرام شروع کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ آرگنائزیشن (سپارکو) کے لیے اگلے مالی سال 2018-19 کے بجٹ میں 4 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں 2 ارب 55 کروڑ روپے کے تین نئے منصوبے بھی شامل ہیں۔

پاکستان ملٹی مشن سٹیلائٹ (پاک سیٹ-ایم ایم 1) کے لیے ایک ارب 35 کروڑ روپے کا فنڈ مختص کیا گیا ہے اور مختص کیے گئے ایک ارب روپے کی مدد سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں پاکستان اسپیس سینٹر قائم کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

کراچی میں اسپیس اپلیکیشن ریسرچ سینٹر کے تیسرے منصوبے کے لیے مالی سال 2018-19 بجٹ میں 20 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔

پاک سیٹ-ایم ایم ون کی مجموعی لاگت 27 ارب 57 کروڑ روپے اور اس میں 26 ارب 91 کروڑ روپے کا اسپیس سینٹر بھی ہے۔

یہ منصوبے خود انحصاری کی صلاحیت کو بڑھانے اور بیرونی سٹیلائٹ پر انحصار کو کم کرنے کے لیے جاری کئی منصوبوں اور آنے والی اسکیموں کا حصہ ہیں جن میں عسکری اور سول ابلاغ کے لیے خاص کر امریکی اور فرانسیسی سٹیلائٹ شامل ہیں۔

ماہرین کی جانب سے بھی جدید اسپیس پروگرام کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے ملک میں ذرائع ابلاغ کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے اس طرح کے منصوبوں کو شروع پر کرنے پر زور دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق شہریوں کی ابلاغ کے لیے بڑھتی ہوئی طلب بالخصوص جی پی ایس، موبائل فون اور انٹرنیٹ کے لیے اور خطے میں بدلتے ہوئے تناظر کے پیش نظر ایک جدید پروگرام کی اشد ضرورت ہے۔

دفاعی تجزیہ نگار ماریا سلطان کا کہنا تھا کہ ‘دو غیر معمولی پیش رفت سے خطے کی اسٹریٹجک صورت حال متاثر ہورہی ہے جس میں پہلی بات یہ کہ پاکستان کو بھارت پر نظر رکھنی ہے کیونکہ ماضی میں ان کا پروگرام محدود صلاحیت کا تھا لیکن اب امریکا کا بھارت کے سیٹلائٹ پروگرام میں متحرک کردار ہے’۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں