ایران کا جوہری پروگرام خفیہ طور پر جاری ہے، اسرائیل

اپ ڈیٹ مئ 01 2018

ای میل

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنے ملک میں ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے خفیہ جوہری پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔

تل ابیب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے پاس ایسے ثبوت موجود ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اپنا پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل نے اپنے سب سے بڑے حریف ملک ایران اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کی ہمیشہ خلاف ورزی کی جبکہ تل ابیب متعدد مرتبہ اس معاہدے کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کر چکا ہے۔

مزید پڑھیں: شام میں حملہ:اسرائیل کا ایران سے براہ راست ٹکراؤ شروع ہوگیا،حزب اللہ

واضح رہے کہ امریکا بھی ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو ختم کرنے کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران بینجمن نیتن یاہو نے ایک پریزنٹیشن پیش کی جبکہ سلائیڈز کے ذریعے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ کس طرح تہران اپنا جوہری پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس موقع پر اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ تل ابیب کو اپنی بہت بڑی انٹیلی جنس کامیابی ملی ہے اور اس میں لاکھوں کی تعداد میں ایسی دستاویزات حاصل ہوئی ہیں جن سے ایران کے پروگرام کے حوالے سے معلومات ملتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شام کی موجودہ صورتحال: ’اسرائیل اور ایران جنگ نہیں چاہتے‘

انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خفیہ پروگرام کے بارے میں ثبوت پیش کرنے جارہے ہیں جسے تہران نے کئی سالوں سے دنیا سے چھپائے رکھا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکمرانوں نے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے ہمیشہ عالمی دنیا سے جھوٹ بولا ہے۔

بیجنمن نیتن یاہو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 2015 میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان ہونے والا معاہدہ بھی ایران کو جوہری پروگرام سے نہیں روک سکا اور پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد سے تہران کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں عسکریت پسندوں کی مالی معاونت میں بھی تیزی آئی۔

مزیر پڑھیں: طیارہ گرائے جانے کے بعد اسرائیل کی شام پر جوابی کارروائی

انہوں نے عالمی دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے اس جوہری پروگرام کو فوری طور پر بند کروائے۔

یاد رہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے معاہدے اور اس کے جوہری ہتھیاروں پر 2025 میں ختم ہونے والی پابندیوں سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے کی ڈیڈ لائن 12 مئی مقرر کر رکھی ہے۔

ادھر اکثر عالمی طاقتوں کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کا معاہدہ تہران کو ’بم‘ حاصل کرنے سے روکنے کا بہترین راستہ ہے۔


یہ خبر یکم مئی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی