صحافیوں پر حملہ افغان میڈیا کی تاریخ کا ’بدترین دن‘ قرار

اپ ڈیٹ 01 مئ 2018

افغانستان فیڈریشن آف جرنلسٹس (اے ایف جے) اور ملک کے ذرائع ابلاغ کی جانب کابل دھماکوں میں 9 صحافیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور دہشگردی کے اس واقعہ کو جنگی جرم قرار دیا گیا۔

خیال رہے کہ افغان نشریاتی ادارے طلوع نیوز نے کابل میں ہونے والے دھماکے میں 9 صحافیوں اور کیمرہ مین کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، جس میں ان کا اپنا کیمرہ مین یار محمد توخی بھی ہلاک ہوگیا تھا۔

اس کے علاوہ جو صحافی اس دھماکے میں ہلاک ہوئے ان میں آزادی ریڈیو کے محمد درانی اور عباد اللہ ہنازئی، ون ٹی کے صحافی غازی رسولی اور ون ٹی کے کیمرہ مین نوروز علی رجبی، فرانسیسی خبر رساں ادارے (اے ایف پی) کے فوٹوگرافر شاہ مرائی، مشعل ٹی وی کے سلیم تلاش اور علی سلیمی جبکہ آزاد ریڈیو کی صباوون ککڑ شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں 3 دھماکے، طلبہ، صحافیوں سمیت 40 افراد ہلاک

اے ایف جے اور دیگر ذرائع ابلاغ نے اپنے مشترکہ بیان میں صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس دن کو ’ افغان میڈیا کی تاریخ کا بدترین دن قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردوں کا یہ حملہ جنگی جرم ہے اور اس میں منصوبہ بندی کے تحت افغان میڈیا کو نشانہ بنایا گیا‘۔

بیان میں کہا گیا کہ ’ میڈیا پر حملوں اور صحافیوں کو دھمکیاں ملنے کے باوجود افغان میڈیا نے معلومات فراہم کرنے کا عزم کیا ہے‘۔

مشترکہ بیان میں اقوام متحدہ کے سیکیورٹی کونسل اور عالمی عدالت انصاف سے اس معاملے کی تحقیقات کرنے مطالبہ کیا گیا جبکہ ساتھ ہی حکومت سے اپیل کی گئی کہ وہ متاثرین کے اہل خانہ کی مدد کرے۔

دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سمیت میڈیا ہاؤسز، مختلف صحافیوں اور آزادی صحافت کی تنظیموں کی جانب سے صحافیوں اور کمیرہ مین کی ہلاک پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

افغان جرنلسٹ سیفٹی کمیٹی نے اس دھماکے کو ’ انسانیت کے خلاف ‘ حملہ قرار دیا اور ان دھماکوں کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کابل: ووٹر رجسٹریشن سینٹر پر خود کش حملہ، 57 افراد جاں بحق

کابل میں موجود الجزیرہ کے صحافی جنیفر گلاسیز نے گزشتہ روز کے دھماکوں کو ’ افسوس ناک دن ‘ کہا تو دوسری جانب جائے وقوعہ پر موجود ایک فوٹو جرنلسٹ مسعود حسینی نے اس دن کو افغانستان میں صحافیوں کے لیے یوم سیاہ قرار دیا۔

اے ایف پی کے عالمی نیوز ڈائریکٹر مائیکل لیریڈن نے فوٹوجرنلسٹ شاہ مرائی کی موت کو ’ ایک تباہ کن دھچکا‘ قرار دیا۔

اسی طرح برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے صحافی کاوون خاموش نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ شاہ مرائی ایک بہادر فوٹو گرافر تھا، جو افغانستان میں زندگی کے ہر شعبے کی تصویر کھینچتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ طلوع نیوز سے وابستہ یار محمد توخی نے افغانستان میں 11 ستمبر کے بعد سے ہر تنازع کی کیوریج کی اور وہ ہمیشہ صبر، تحمل اور فوری کام کرتا تھا۔

صحافیوں اور کیمرہ مین کی ہلاکت پر عالمی ادارے رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز ( آر ایس ایف ) کے سربراہ کرسٹوفی ڈیلوئر نے زور دیا کہ اقوام متحدہ صحافیوں کی حفاظت کے لیے خاص نمائندہ مقرر کرے۔

اس کے علاوہ دیگر صحافیوں کی جانب سے بھی ٹوئٹر پر اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ عالمی یوم آزادی صحافت سے ایک روز قبل کابل میں فرائض انجام دیتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔

ایک اور صحافی حبیب خان توتہ خیل نے لکھا کہ ’ یہ دن افغانستان میں میڈیا کے لیے خوفناک دن تھا اور خودکش حملہ آور کی جانب سے صحافیوں کے گروپ کو نشانہ بنایا گیا‘۔

خیال رہے کہ افغانستان صحافیوں کے لیے ایک خطرناک جگہ تصور کی جاتی ہے اور گزشتہ ہفتے افغان صوبے قندھار میں بھی ایک رپورٹر کو قتل کردیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ آر ایس ایف کے 2018 کی آزادی صحافت کی فہرست میں افغانستان 179 ممالک میں سے 118 ویں نمبر پر ہے جبکہ صحافیوں کا تحفظ کرنے والی کمیٹی کے مطابق 1992 سے 2017 تک یہاں 35 صحافیوں کو قتل کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز افغان دارالحکومت کابل میں دو بم دھماکے ہوئے تھے، جن میں 9 صحافیوں سمیت 29 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

ان دھماکوں میں میڈیا ورکرز کو اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا، جب پہلے دھماکے کے بعد میڈیا ٹیم جائے وقوعہ پر موجود تھی اور دھماکے کی کوریج کر رہی تھی کہ کچھ دیر بعد دوسرا دھماکا ہوگیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں