ٹرمپ کا ایران کے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان

اپ ڈیٹ 08 مئ 2018

ای میل

—فوٹو:اے پی
—فوٹو:اے پی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خطرناک ملک قرار دیتے ہوئے سابق صدر کی جانب سے کئے گئے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا۔

واشنگٹن میں اپنے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدہ سے دستبراد ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے اور امریکا پابندیاں دوبارہ بحال کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جوہری ہتھیارلے جانے والے میزائل تیارکرلیے ہیں اگر معاہدے کو جاری رکھا تو جوہری ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی اور ایک ایسی ریاست کو جوہری ہتھیار کی اجازت نہیں دی جاسکتی جو امریکا کی بربادی کے نعرے لگاتی ہو۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کی جوہری ہتھیاربنانے کی کوششیں انتہائی خطرناک ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایران ایک خطرناک ملک ہے، ایران نے پابندی اٹھائے جانے کے بعد دہشت گردی کو فروغ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:‘ایران سے جوہری معاہدہ ختم کرنے پر امریکا کو تاریخی پشیمانی ہوگی‘

ایران کے ساتھ تعلقات رکھنے والے دیگر ممالک کو بھی خبردار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایران کی کسی قسم کی مدد کرنے والے ملکوں کو بھی پابندیوں کا سامنا ہوگا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا ایران ریاستی دہشت گردی کی سرپرستی کرتا ہے اور اس کو یمن، شام اور دیگر مقامات میں دخل اندازی کا موقع نہیں دے سکتے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل ایران کے صدر حسن روحانی نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تو عالمی طاقتوں سمیت امریکا کو اپنے فیصلے پر سخت پشیمانی ہو گی ‘جس کی مثال ماضی’ میں نہیں ملے گی۔

ایرانی صدر نے سرکاری ٹی وی پر خطاب میں واضح کیا کہ ‘اگر امریکا جوہری معاہدے سے خود کو الگ کرتا ہے تو دنیا دیکھے گی کہ امریکا کو اتنی شرمندگی اٹھانا پڑے گی جس کی مثال تاریخ میں نہیں مل سکتی’۔

مزید پڑھیں:ایران نے جوہری معاہدے کیلئے نئی امریکی و فرانسیسی تجویز مسترد کردی

انھوں نے کہا کہ ‘ڈونلڈ ٹرمپ اور یہودیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایرانی عوام متحد ہیں’۔

قبل ازیں رواں سال اپریل کے اواخر میں حسن روحانی نے امریکا اور فرانس کی جانب سے ایرانی جوہری منصوبے سے متعلق ایک نئے معاہدے کی تجویز کو قطعی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے درمیان 2015 کا معاہدہ ہے اگر وہ قائم ہے تو ٹھیک ورنہ کوئی نیا معاہدہ قبول نہیں کیا جا ئے گا۔

یاد رہے کہ 2015 میں اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے دیگر عالمی طاقتوں بشمول برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکا کے مابین ویانا میں ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق طے پانے والے ایک معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔

ایران نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران بلیسٹک میزائل بنانے کے تمام پروگرام بند کردے گا اور اس معاہدے کے متبادل کے طور پر ایران پر لگائی گئی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی اور اسے امداد کے لیے اربوں روپے حاصل ہوسکیں گے۔

ایران یورینیم افزودگی دوبارہ شروع کرسکتے ہیں، روحانی

امریکی صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران ' بغیر کسی حد کے' یورینیم افزودگی کو دوبارہ شروع کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں ایرانی اٹامک آرگنائزیشن کو مستقبل میں کارروائیوں کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کرچکا ہے اس لیے اگر ضروری ہوا تو ہم بغیر کسی حد کے افزودگی کا عمل شروع کرسکتے ہیں'۔

ایرانی صدر نے کہا کہ 'ہم اس فیصلے سے قبل کئی ہفتے انتظار کریں گے، ہم اپنے دوستوں اور جوہری معاہدے کے اتحادیوں سمیت دیگر سے بات کریں گے'۔